سندھ میں پتھر کے دورکے ورکرزماڈل اسکولز

185

آج اس جدید زمانے میں جب انسان زمین سے چاند پر جابسا اور تعلیم کی بنیادپربلندیوں کو ناصرف چھورہا ہے بلکہ آسمان پر کمندیں ڈال لی ہیں اور یہ کمال اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کو جاتا ہے۔ آج میں اپنے کالم کے ذریعے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ورکرز ماڈل اسکولوں کی زبوں حالی کی نشاندہی کررہا ہوں جو آج کے دور کے نہیں بلکہ پتھروں کے دور کے منظر پیش کررہے ہیں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ خالصتاً محنت کشوں کے فنڈز سے قائم ادارہ ہے مگر افسوس کہ بورڈ کا بدمعاش طبقہ مزدوروں کے فنڈز اس طرح لوٹ رہاہے جیسے یہ فنڈز مزدوروں کے نہیں ان کے بزرگوں نے ان کے لیے بورڈ کے اکاؤنٹس میں ڈال دیے ہیں کہ ہماری اولادیں بورڈ میں نوکریاں کرتے وقت اس فنڈز پرلوٹ مارکرتے رہیں گے۔ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی بربادی سابقہ ڈی جی ظفر سلیم مرحوم کے دور میں اس وقت شروع ہوچکی تھی جب ظفر سلیم انجینئرنگ کا گاڈ فادر بنا۔ جس نے گاڈ فادر بن کر اپنی بے شمار کنسٹرکشن کی کمپنیاں بنائیں اور یہ ایسا ناسور تھا جو آج تک ختم نہیں ہوسکا۔ آج اربوں روپے کے فلیٹس، لیبر کالونیاں، ان ہی کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذریعے بنائی جارہی ہیں۔ اگر تمام فلیٹس کا فزیکل معائنہ غیر ملکی ماہرین سے کروایا جائے تو 100 فی صد یقین ہے کہ اس اربوں روپے کی غیر معیاری کنسٹرکشن میں کروڑوں
روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں غیرمعیاری کنسٹرکشن پر کنٹریکٹرزکے36کروڑ سابقہ انتظامیہ نے روک لیے تھے تاکہ کنسٹرکشن کو ازسرنو کیا جاسکے، مگر موجودہ انتظامیہ نے تقریباً 35 فی صد سے 38 فی صد بھاری کمیشن لے کروہ رکے ہوئے بل نہایت خوبصورتی سے کلیئر کردیے گئے اور اربوں روپے کی تعمیر سے فلیٹس آج تک نامکمل ہیں۔ اندرون سندھ دیگر تعمیراتی پروجیکٹس کی طرح غریب مزدوروں پر احسان کرنے کے لیے اسکول بھی تعمیر کیے گئے مگر صد افسوس کہ بورڈ کی بدمعاش طبقہ کو یہ شرم نہ آئی کہ اسکولوں کی مکمل تعمیر کو ہینڈ اوور لیتے وقت یہ تک چیک نہیں کیا گیا کہ ان سکولوں میں واش رومز تعمیر بھی کیے گئے ہیں یا نہیں۔ وہ چیک کیوں کرتے، کیوں کہ ان اسکولوں میں مزدوروں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بورڈ کی بدمعاشیہ کے بچے تو شہروں کے بڑے بڑے اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔ معصوم بچیاں اور لیڈی ٹیچرز اسکولوں کے نزدیک مکانوں میں جاکر واش روم استعمال کررہی ہیں جو شرم کا مقام اور بورڈ انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہی نہیں اسکولوں میں الیکٹرک کی فٹنگ ہی نہیں کی گئی ہے کیوں کہ جب الیکٹریشن کا نظام ہی نہیں ہوگا تو الیکٹرک فٹنگ کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہی نہیں بورڈ کے اندرون سندھ کے اسکولز انسانوں کے بچوں کے اسکولز کم جانوروں کے اصطبل زیادہ نظرآتے ہیں ایسی صورت میں کیا خاک بچے داخل ہوں گے اور کیا خاک تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر اسکولوں کے سیکڑوں اساتذہ میں پڑھائی کروانے میں دلچسپی کم چھٹیاں اور اسکولوں سے غیر حاضر رہنے کی عادتیں زیادہ ہوگئیں ہیں۔ آج اندرون سندھ کے چھوٹے شہروں میں ورکرزبورڈ کے اسکولز ناقص تعمیر اور سہولیات سے محروم ہونے کا نمونہ پیش کررہے ہیں اور انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی افسرشاہی چیکنگ کرنے کے بجائے بھاری کمیشن لینے میں مگن ہے۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر کے ورکرز ماڈل اسکولوں کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی کچھ حال کم نظرنہیں آئے گا، آج اِن اسکولوں میں زیرتعلیم بچے بورڈ کی افسرشاہی کے لیے یونیفارم، شوز، بک کی سپلائی میں ہونے والی
کمیشن بیساکھیاں بنے ہوئے ہیں، جب کہ غریب مزدوروں کے بچے اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور ضروریات سے محروم ہیں۔ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں یہ تمام بدعنوانی،بدانتظامی نے صرف اس وجہ سے جڑیں مضبوط کرلی ہیں کہ بورڈ کے ممبران میں آج تک صحیح مزدوروں کی قیادت نہیں آسکی جو ان تمام بدعنوانیوں پر نظررکھ سکے، سندھ میں تمام اداروں میں بورڈ کے ممبران، گورننگ باڈیز صرف سفارش پرقائم کی جاتی ہیں جب کہ مزدوروں اور صنعت کاروں کے حقیقی نمائندے جن کے فنڈز سے یہ ادارے قائم ہیں ان کو دوررکھا جاتاہے تو پھر ان اداروں کی بربادی یقینی نہ ہو گی تو کیا ہو گی؟ اسکولز، پتھروں کے زمانے کی یاد تازہ نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے؟ مزدوروں کے بچے تو بورڈ انتظامیہ کے رحم وکرم پر ہیں کہ وہ جیسی بھی تعلیم دلوائیں جیسی بھی سہولیات دیں انہوں نے تو تعلیم جیسے تیسے حاصل کرنی ہے اور پھر یہ کہ ہر ماہ لاکھوں روپے اسکولوں کے اساتذہ اور اسٹاف وصول کرلیتے ہیں، جب کہ افسر شاہی نے بھاری کمیشن حاصل کرکے اپنی زندگی کو خوشحال بنایا ہوا ہے، جس کا حساب ان کو خدا کے حضور تو دیناہے۔ اس وقت نہ وزیر ہوں گے، نہ کمیشن مافیا، مظلوم مزدوروں کا ہاتھ ان کے گریبانوں پر ہوگا اور اللہ کی عدالت میں ان کا حساب کتاب لیاجائے گا اور جہنم ان کا آخری ٹھکانہ ہوگا، ان شاء اللہ۔