راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ میں بڑوں کے نام ہیں‘ عبرتناک سزادی جائے‘سراج الحق

603
ڈیرہ اسماعیل خان: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق جلسے سے خطاب کررہے ہیں
ڈیرہ اسماعیل خان: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق جلسے سے خطاب کررہے ہیں

ڈیرہ اسماعیل خان ( نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام آباد محاصرے میں ہے، دھرنے کے شرکا پر تشدد بند اور گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ حکومت راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائے اور ذمے دار افراد کو سخت سزا دے۔اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا پر حکومت کے تشدد سے پورے ملک میں انتشار پھیل گیا ہے، یہ حکومت کی بڑی ناکامی ہے، حکومت راجا ظفر الحق کی سربراہی میں بنائی گئی اپنی ہی کمیٹی کی رپورٹ شائع نہیں کررہی کیونکہ اس میں بڑوں کے نام آتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس رپورٹ کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے، وزیر قانون یا کوئی بھی دوسرا شخص اس میں ملوث ہو تو اس کو عبرتناک سزا دی جائے۔ نظام مصطفی ؐ کے نفاذ کا مطالبہ صرف مذہبی جماعتوں کا نہیں پوری قوم کا ہے۔ گرامٹ (ڈیرہ اسماعیل خان) کا واقعہ حکمرانوں کے چہروں پر بدنما داغ ہے ، یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ، ملک میں ایسے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں۔ کرپشن کے خلاف مہم انجام تک پہنچائیں گے، عدالت عظمیٰ میں درخواست دی ہے کہ پاناما لیکس کے باقی 436افراد کا بھی احتساب کیا جائے۔ ملک میں تمام افراد کرپٹ نہیں، صرف 5،6 ہزار لوگوں کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں ڈال دیا جائے تو کرپشن ختم ہوجائے گی۔ ہم ملک سے سود کے نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عوام پر سے ٹیکسوں کا بوجھ ختم کرکے زکوٰۃ کا نظام رائج کریں گے، ملک میں کوئی بھوکا ، پیاسااور محروم نہیں رہے گا۔ سرمایہ داروں کا کوئی ملک اور قومیت نہیں ہوتی، اپنے مفاد کے لیے یہ بھارت ،امریکا اور روس کی غلامی اختیار کرلیتے ہیں، ہمارے حکمران اور ان کے بچے حکومت پاکستان میں اور دولت دوسرے ملکوں میں جمع کرتے ہیں۔ آئندہ انتخابات غلامان مصطفی ؐاور غلامان امریکا کے درمیان ہوں گے۔ ہم کسی کرپٹ آدمی کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیں گے، کرپٹ لوگ اگر خانہ کعبہ کے غلاف میں چھپ جائیں تو وہاں سے بھی پکڑ کر احتساب کریں گے۔ ناموس رسالت اور ختم نبوت ؐ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، اگر حکومت نے ہوش سے کام نہ لیا تو یہ رسی وزیر اعظم کے گلے تک پہنچ جائے گی۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن کلاں کے جوڈیشل کمپلیکس میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان، مفتی امتیاز، ضلعی امیر زاہد محب اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتی ، ہم اپنی یا اپنی اولاد کے لیے نہیں، اللہ کے نظام کے غلبے کے لیے حکومت چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتوں میں اسلام کے قانون کے مطابق فیصلے ہوں تاکہ کوئی انصاف سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ گرامٹ کا واقعہ عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی کے نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا ۔ملک میں قانون مظلوم اور غریب کو تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ قانون ظالم اور دولت مند کا ساتھ دیتا ہے، غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے ،شریفاں بی بی کو انصاف دلا کر رہیں گے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں ملک پر مسلط ظلم و جبر کے موجود ہ نظام سے بغاوت کا اعلان کرتا ہوں۔جب تک یہ نظام مسلط ہے عام آدمی ظلم کی چکی میں پستا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ حکمران یہاں سے پیسہ لوٹ کر دوسرے ممالک میں اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں، جدھر دیکھو چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں جو پارٹیاں اور جھنڈے بدل کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے ہمیں اقتدار دیا تو عوام کو مفت تعلیم علاج اور چھت مہیا کریں گے، بزرگ شہریوں اور نوجوانوں کو الاؤنس دیں گے، عوام ان چوروں اور ڈاکوؤں کو مسترد کردیں اور اسلامی نظام کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے گرامٹ کا دورہ کیا اور مظلوم خاندان کو جماعت اسلامی کی طرف سے ہر طرح کے تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی ۔سراج الحق نے جماعت کے مقامی و صوبائی ذمے داران کو خاندان کی ہر طرح کی قانونی امداد اور تحفظ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔