زاہد حامد اور انوشہ رحمن سے استعفے لینے کافیصلہ ہوگیا

508

اسلام آباد ( میاں منیر احمد) اسلام آباد دھرنے کے بعد معاملات بگڑنے پر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے حکومت اور مسلم لیگ(ن) میں متحرک کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور میجر جنرل اظہر نوید حیات کو آپریشن کا انچارج بنا دیا گیا ہے وزارت داخلہ نے ان کے تقرر کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا ہے اب وہ اس نئی ذمے داری کے ساتھ آپریشن کی نگرانی کریں گے اور دھرنا ختم کرانے کے لیے رینجرز کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں گے یہ فیصلہ ہوا ہے دھرنا کے شرکاء کے خلاف کسی قسم کا کوئی پر تشدد رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا اور معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا وزیر اعلی پنجاب نے مطالبہ کردیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر آئی ٹی انوشہ رحمن وزارتوں سے مستعفی ہوجائیں کیونکہ ان کے کسی عمل کی وجہ سے پارٹی اور ملک کو نقصان پہنچا ہے وزیر اعلی پنجاب نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب پولیس دھرنے کے شرکا کے خلاف کسی بھی کارروائی میں شریک نہیں ہوگی انہوں نے اپنے اس فیصلے اور رائے سے پارٹی کی ہائی کمان کو بھی آگاہ کردیا ہے وزیر اعلی پنجاب کے اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی کابینہ کسی بھی بڑے معاملے میں کوئی فیصلہ لینے کے لیے آگے بڑھ کرکام کرنے کی یا تو صلاحیت نہیں رکھتے اور یا پھر معاملات پر ان کاکوئی کنٹرول نہیں ہے اسی لیے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو آگے آنا پڑا ہے اور اس معاملے میں نواز شریف کی خاموشی بھی مسلم لیگ(ن) کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے متحرک کردار ادا کرنے کی دوسری وجہ چودھری نثار علی خان کے گھر پر مظاہرین کا دھاوا بولنے کا واقعہ ہے اس واقعہ کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے چودھری نثار علی خان کو فون کیا اور حالات معلوم کیے یہ بات بھی قابل ذکر ہے مسلم لیگ (ن) میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کی سیاسی حکمت عملی میں یکسوئی پائی جاتی ہے اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو وزیر داخلہ احسن اقبال سے بھی دھرنے سے نمٹنے کے حوالے سے بہت بہت گلے شکوے ہیں دریں اثناء فیض آباد دھرنا کی جگہ خالی کرانے اور دھرنا قیادت سے بات چیت کے لیے میجر جنرل اظہر نوید حیات کو آپریشن کا انچارج بنا دیا گیا ہے وزارت داخلہ نے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے اب وہ اس نئی ذمہ داری کے ساتھ آپریشن کی نگرانی کریں گے اور دھرنا ختم کرانے کے لیے رینجرز کے ذریعے اپنا کردار ادا کریں گے یہ فیصلہ ہوا ہے دھرنا کے شرکاء کے خلاف کسی قسم کا کوئی پر تشدد رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا اور معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔