پاکستان میں مذہبی جنونیت (آخری حصہ) 

455

پاکستان میں مذہبی جنونیت کے اس وقت فروغ کے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ موجودہ سیاسی قیادت کی تبدیلی مقصود ہے اور اس منصوبے پر کامیابی کے ساتھ پیش قدمی جاری ہے۔ دوسرے حصے کا تعلق پاکستان کے داخلی معاملات سے زیادہ بین الاقوامی معاملات سے ہے۔
اس وقت عرب کا علاقہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ دھار چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان کے تخت نشیں ہونے کے بعد سے صورت حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو یمن میں جنگ کے بانی ہیں، مزید اثر و رسوخ حاصل کرچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ جلد ہی بادشاہت کا منصب سنبھالنے والے ہیں۔ سعودی قوم کو متحد کیا جاسکے اور یہ آسان ترین جنگ ایران کے خلاف ہی لڑی جاسکتی ہے۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوں گے۔ ایک تو سعودی حکومت مستحکم ہوجائے گی اور دوسرے لبنان، شام اور عراق سے ہمیشہ کے لیے ایرانی فیکٹر سے نجات مل جائے گی۔ اب امریکی بلاک جس میں اسرائیل اور سعودی عرب بھی شامل ہیں، لبنان میں حزب اللہ کے خاتمے کے نام پر ایک نئی جنگ شروع کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔
صورت حال کو مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں۔ مسلمان دو واضح بلاکوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ پہلے بلاک میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ دوسرے بلاک میں روس، ایران، قطر، لبنان، شام اور حزب اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ اب اگر ان دونوں بلاکوں میں جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس کا منظر نامہ کیا ہوگا؟ پہلا گروپ لبنان پر حملہ آور ہوگا اور دوسرا گروپ سعودی عرب پر میزائل برسا رہا ہوگا۔ اس میں سے کوئی میزائیل ممکنہ طور پر مدینہ کے شہر پر بھی گر سکتا ہے یا یہاں پر دھماکے بھی کیے جاسکتے ہیں۔
خلیج کی جنگ کے بعد ایران، شام و عراق میں مسلسل الجھا ہوا ہے۔ حزب اللہ بھی پوری طاقت کے ساتھ شام میں موجود ہے۔ ایسی صورت حال میں ایران کے پاس افرادی قوت کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ شام، عراق اور یمن میں بھی مسلسل جنگ کی وجہ سے شیعہ فوج کی فوری اور بڑی بھرتی ممکن نہیں ہے۔ تقریباً یہی صورت حال سعودی عرب کے ساتھ درپیش ہے۔ سعودی نوجوان عیش کے عادی ہوچکے ہیں اور جنگ کی مشقت کو جھیل نہیں سکتے۔ مصر کے سوا اسے کہیں اور سے افرادی قوت نہیں مل سکتی ہے۔ ان دونوں بلاکوں میں جنگ کا ایندھن بننے کے لیے اگر کہیں سے افرادی قوت میسر ہے تو وہ پاکستا ن ہی ہے۔ پاکستان میں لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ دلوں کو گرما رہا ہے۔ پہلے ختم نبوت کے حوالے سے ایک حساس معاملے کو چھیڑا گیا۔ پھر اس کے بعد ردعمل کے طور پر polarisation کا عمل شروع کردیا گیا۔ پاکستان میں اب انتخابات پارٹی بنیادوں پر نہیں لڑے جائیں گے بلکہ مسلکی بنیادوں پرہوں گے۔ شیعہ اور سنی polarisation کا عمل مزید تیز ہوگا۔ جب پاکستانیوں کی اکثریت مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہوچکی ہوگی تو شیعہ اور سنی مجاہدین کی بھرتی ایک آسان اور خودکار سا عمل ہوگا۔ سنی رسول اللہ کے شہر کی حفاظت کے نام پر مجاہدین کی فہرست میں اپنا نام لکھوا رہے ہوں گے تو شیعہ یہود سے مقابلے کے لیے سر پر کفن باندھے مجاہدین کی لائنوں میں کھڑے ہوں گے۔
دیکھنے میں یہ افسانوی سی کہانی لگتی ہے مگر ایسا ہے نہیں۔ یہ کوئی نئی چیز بھی نہیں ہے۔ یمن و شام کے لیے شیعہ مسلک کے لوگوں کو بھرتی کرکے بھیجا جاتا رہا ہے۔ پارہ چنار میں ان کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ شام کے لیے بذریعہ ایران جنگجوؤں کو بھیجنا بھی کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ میرے پاس 2016 کا روزنامہ جنگ کا وہ تراشا ابھی تک موجود ہے جس میں یمن میں مارے جانے والے ایک شخص کی مجلس عزا میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اسی طرح افغانستان وعراق میں اہلسنت مسلک کے لوگوں کی بھرتی بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ افغان جنگ میں پاکستانی علی الاعلان جاتے رہے ہیں۔ مگر افغانستان کے علاوہ کبھی یہ بھرتی نہ تو بہت بڑے پیمانے پر کی گئی ہے اور نہ ہی ا س کا اعلانیہ کبھی اظہار ہوا ہے۔
پاکستان میں مذہب کے نام پر چڑھنے والے بخار میں روز ایک درجے کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ Polarisation کا عمل انتہائی خاموشی کے ساتھ مگر تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ اب نیو ورلڈ آرڈر کے منصوبے پر دوبارہ نظر ڈالیں۔ نیو ورلڈ آرڈر کا مطلب ہے دنیا پر ایک حکومت۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا میں موجود ساری حکومتوں کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے پھر اس کے بعد دنیا کو دس انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا جائے۔ اب اس کا آغاز خطہ عرب سے کیا جارہا ہے۔ نیوورلڈ آرڈر کا ڈھیلا ڈھالا اعلان 2025 میں کیا جانا ہے اور پھر اسے بتدریج 2040 تک سختی کے ساتھ نافذ کردینا ہے۔ اس عالمگیر حکومت کا ہلکا پھلکا مظاہرہ ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ حکم دے دیا گیا ہے کہ پولیو ویکسین کے نام پر جو کچھ معصوم بچوں کے منہ میں انڈیلا جائے، اس پر کوئی اعتراض نہ کرے۔ ہر چند دن کے بعد پولیو ویکسین پلانے والے پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی انکار تو کرکے تو دیکھے، سیدھا اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ سختی نہ تو کچرا پھیلانے والوں پر ہے، نہ ہی سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں ملانے والوں پر ہے، نہ ہی ملک کو لوٹنے والوں پر ہے۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔