دھرنے کے شرکا پر تشدد قابل مذمت ہے‘ حکومت نے معاملات خود بگاڑے‘ سراج الحق

436
لوئر دیر:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
لوئر دیر:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اجتماع سے خطاب کررہے ہیں

دیر(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں دھرنا مظاہرین پر حکومتی اداروں کی طرف سے تشدد اور آپریشن پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی حکومت کا آخری وقت قریب آتا ہے، تووہ لاٹھی گولی اور تشدد کا راستہ اپناتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ دیر کے موقع پر مقامی صحافیوں سے گفتگو اور بعد ازاں بلامبٹ جامعہ احیا العلوم میں جماعت اسلامی کے 2 روزہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسلام آباد میں حکومت نے معاملات خود بگاڑ ے، جس کا حتمی نتیجہ آپریشن کی صورت میں ظاہر ہوا،انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے ایک وزیر کی خاطر پوری قوم کو2ہفتوں سے اعصابی تناؤ میں مبتلا کیے رکھا،انہوں نے مزید کہا کہ یا تو وزیر قانون زاہد حامد کوخود فوری استعفا دینا چاہیے یا ان لوگوں کی نشاندہی کریں جو ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کے جرم میں شریک تھے،انہوں نے کہا کہ آپریشن اور طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار شدہ مظاہرین کو فی الفور رہا کیا جائے اور زخمیوں کی داد رسی کی جائے۔سینیٹر سرا ج الحق نے دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن کو حکمت اور دانشمندی کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ دھرنے کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے حکومت نے معاملے کو الجھا دیا ہے ۔ حکومت کو افہام و تفہیم کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔ حکومت کی ذمے داری تھی کہ ختم نبوت کے خلاف ہونے والی سازش کو بے نقاب کر کے مجرموں کو قرار وا قعی سزا دیتی کیونکہ جب تک ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کرنے والوں کو سزا نہیں ملتی ، عوام مطمئن نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ طاقت کے استعمال سے معاملات حل ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتے ہیں ۔ ملک کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے کی ذمے دار حکومت خود ہے ۔ حکومت نے 2 ماہ سے اس حساس ترین معاملے کو دبا رکھاہے اور ملک بھر میں احتجاج اور عوام کے مطالبے پر بھی راجا ظفر الحق کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں لائی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے احتساب سب کاکے نام سے تحریک شروع کررکھی ہے اور عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کی ہے جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ پاناما ا سکینڈل میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے سخت سزا دی جائے، جماعت اسلامی کرپشن اور سیاست کو الگ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم اور وزرا کوئی کاروبار نہ کریں،ایم ایم اے بحالی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تمام دینی جماعتوں کے مابین رابطے موجود ہیں اور اس کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں جے یو آئی سمیع الحق کا نمائندہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ایم ایم اے کی کابینہ تشکیل نہیں دی گئی ہے ، جب بھی کوئی فورم تشکیل پائے گا تو تمام شریک جماعتیں اپنے الگ الگ تشخص چھوڑ کر ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کریں گی۔