کرنسی

125

سیدہ عنبرین عالم
سن1694ء میں پہلی دفعہ بینک آف انگلینڈ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ یہودیوں نے انگلینڈ میں جڑ پکڑی ہوئی تھی اور وہ جیسے آج امریکا کو استعمال کرتے ہوئے تمام دنیا میں قہر مچاتے ہیں، اسی طرح انگلینڈ کو اپنا بیس کیمپ بناچکے تھے، اور تمام دنیا پر قبضہ کرنے کے منصوبے بنارہے تھے۔ ایک وقت وہ بھی آیا کہ انگلینڈ کی سلطنت اتنی وسیع ہوگئی کہ ایک جگہ سورج غروب ہوتا تو برطانوی سلطنت میں ہی دوسری جگہ طلوع ہوجاتا۔ 1776ء سے پہلے انگلینڈ میں جارج واشنگٹن نے آزادی کی ایک تحریک چلائی اور پروٹسٹنٹ فرقے کے لوگ امریکا منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ یہ لوگ یورپ اور برطانیہ کے مختلف علاقوں سے گئے اور وہاں کے NATIUES یعنی ریڈ اینڈینز کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر یا تو بے دخل کردیا یا مار ڈالا اور وہی روایتی ہتھکنڈہ، یعنی ریڈ انڈینز کو ہی تاریخ میں برا بنا دیا۔ اور خود کو ظالم ہوتے ہوئے بھی حق پر ظاہر کیا، کہنے کو یہ ایک سیکولر حکومت تھی مگر اس کا خالق جارج واشنگٹن یہودی تھا اور تمام پالیسیاں یہودی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی ہمیشہ مرتب کی گئیں اور یہ ریاست یہودی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی اور پہلی جنگ عظیم کے بعد تو انگلینڈ کی جارحیت اور طاقت میں کافی کمی آگئی۔ مگر یہودی اثر و رسوخ بہر حال اب بھی کافی حد تک موجود ہے۔ بہر حال اب امریکا یہودیوں کی جارحیت کے لیے بیس کیمپ ہے۔ سنبتے ہیں کہ آئندہ بیس کیمپ انڈیا ہوگا۔
بات ہورہی تھی ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ کی، 1694 میں پویر دنیا میں سونے اور چاندی کے سکے استعمال ہوتے تھے اس لئے ہر ملک کیالگ کرنسی نہیں ہوتی تھی بلکہ ہم وزن سونے اور چاندی کے سکے پوری دنیا میں کہیں بھی استعمال کیے جاسکتے تھے۔ چاہے ان پر کسی بھی بادشاہ کی تصویر ہو، بینک آف انگلینڈ نے یہ پرچار کیا کہ اتنا سونا اٹھا کر سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں لہٰذا ہم سے سونے کی رسیدیں لیں، سونا ہمارے پاس رکھوائیں اور ان رسیدوں کے ذریعے کاروبار کریں یوں پہلا کاغذ کا کرنسی نوٹ وجود میں آیا اور نسل در نسل استعمال ہوتے ہوتے چوتھی پانچویں نسل کو تو یاد بھی نہ رہا کہ ہمارا کوئی سونا کسی بینک میں رکھا ہے۔ وہ ان کاغذ کے نوٹوں کو ہی دولت سمجھنے لگے اور یوں یہ سارا سونا یہودیوں کی تحویل میں چلا گیا اس کے بعد سونا حکومت کی ملکیت سمجھا جانے لگا یعنی جس حکومت کی کرنسی کے پیچھے جتنا سونا ہوگا وہ معاشی طور پر اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ 15 اگست 1971کو امریکی پریذیڈنٹ رچرڈ نکسن نے اعلان کیا کہ 30 سال پرانا مانیٹری سسٹم جوہر ملک کی کرنسی کو کنٹرول کرتا تھا اب کسی کام کے لائق نہیں رہا اور اب ڈالر کے پیچھے سونا نہیں ہوگا۔ یوں کسی کرنسی کے پیچھے سونا نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ تھی کہ جنگ ویت نام میں امریکا کے خزانے خالی ہوگئے تھے وہ مسلسل بینک آف امریکا جو یہودی چلاتے تھے، سے قرض لے کر جنگ لڑ رہے تھے، سارا سونا بینک آف امریکا کے یہودیوں کے پاس تھا اور صدر نکسن نے اس سونے کی پہنچ سے ہی جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے انہیں بار بار سونا بینک آف امریکا سے یہودیوں کی شرائط پر نہ لینا پڑے، یہودی امریکا کو استعمال ضرور کررہے ہیں مگر سگے وہ امریکا کے بھی نہیں ہیں، صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔
مسئلہ یہ پڑ گیا کہ کاغذ کے نوٹ تو سب برابر، پھر امریکی ڈالر کی برتری کیسے ثابت کی جائے؟… یہ مسئلہ بھی ہمارے عظیم عرب بھائیوں نے حل کردیا، طے یہ پایا کہ اب جو بھی دنیا میں تیل خریدے گا تو اس کی ادائیگی صرف امریکی ڈالر کے ذریعے ہوگی یعنی تیل سونا قرار پایا اور امریکی ڈالر وہ واحد قوت جس سے یہ سیاہ سونا خریدا جاسکتا تھا۔ یوں دوبارہ سپر پاور کی کرنسی، سپر کرنسی بن گئی، یورپ نے یورو کا اجراء ضرور کیا مگر یہ یورو تیل نہیں خرید سکتا تھا اس لیے ڈالر کو نقصان نہ پہنچا سکا۔
پھر کچھ ہلچل ہوئی ایک طرف صدام حسین نے اعلان کردیا کہ ہم اپنا تیل یورو کے ذریعے بیچیںگے، دوسری طرف لیبیا جو سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے کے صدر نے یہ اعلان کردیا کہ ہم کاروبار سونے کے ذریعے کریںگے، معمر قذافی ایک افریقی کونسل بھی بنانا چاہتے تھے جو تمام افریقی ممالک کے وسائل کو دریافت بھی کرے اور خود افریقا کے اندر ہی استعمال بھی کرے اور کسی دوسرے ملک سے نہ کوئی مدد مانگی جائے نہ کسی کو افریقا کے کسی ملک میں دخل اندازی کی اجازت دی جائے … تو جناب … یہ دونوں کام ایک طرح سے امریکا سے آزادی کی تحریک تھے۔ جنہیں برداشت نہیں کیا گیا اور ان دونوں اصحاب کو عبرت کا نشان بنادیاگیا۔
اب خبر یہ ہے کہ یہودیوں کی دیکھا دیکھی چین اور روس نے سونے کے بہت سے ذخائر جمع کرلیے ہیںاور دونوں ملک آپس میں کاروبار سونے کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں یعنی پھر ڈالر کی اہمیت کے بجائے سونا اہمیت اختیار کرجائے گا۔ یہ پھر خطرے کی گھنٹی ہے امریکا ڈالر کو بچانے کے لیے کچھ بھی کر گزرے گا، چین کا تو وہ کچھ بگاڑ نہیں سکتا، CPEC کے بہانے سے خدانخواستہ پاکستان کی شامت نہ آجائے کیونکہ CPEC چین اور روس کو ملانے کا سبب بنے گی، بس اللہ ہر چال چلنے والے سے بڑا چال چلنے والا ہے۔