محمدﷺ مسکراتے تھے‘ ہمیشہ مسکراتے تھے…!۔

573

افشاں نوید
حضرت عباسؓ بن مرداس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کی شام اپنی امت کے لیے مغفرت ورحمت کی دیر تک دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی طرف وحی بھیجی کہ بے شک میں نے ایسا کردیا۔ وہ گناہ جو بندوں اور میرے درمیان ہیں ان کو میں نے معاف کردیا، مگر بعض کا ظلم بعض پر معاف نہیں کیا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: اے رب! بے شک تُو اس بات پر قادر ہے کہ اس مظلوم کو اس کے ستائے جانے کے بدلے ثواب دے اور ظالم کو معاف کردے۔ اس شام آپؐ کی یہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ مزدلفہ کی صبح آپؐ نے یہی دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی دعا قبول کرلی کہ بے شک میں نے ظالم کی بھی مغفرت کردی۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادئیے۔
صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ اس وقت مسکرائے جب کہ آپؐ اس وقت مسکرایا نہیں کرتے؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کی وجہ سے مسکرایا۔ جب ابلیس کو معلوم ہوا کہ اللہ نے امت کے بارے میں میری دعا قبول کرلی تو اس نے ہائے ہلاکت اور ہائے خرابی کہتے ہوئے اپنے سر پر مٹی ڈال لی۔ (بیہقی)
امت بڑی خوش نصیب ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو اٹھ کر امتی امتی کہہ کر روتے رہتے۔ امت کو پیغام پہنچانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اللہ نے امت کے بارے میں اپنے محبوب کی دعا سن لی۔ خوشی اور مسرت کے لمحات تھے نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے۔ آپؐ پر ہمارے ماں باپ قربان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو پھیلانے میں آپؐ کے کریمانہ اخلاق کا بہت بڑا حصہ ہے۔ آپؐ محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرنے والے اور مہربانوں سے زیادہ مہربان تھے۔ آپؐ اہلِ ایمان کے دلوں میں رہتے تھے۔ ہنسی مذاق بھی کرتے تھے اور عفو ودرگزر بھی۔
حضرت صہیبؓ، حضرت عمارؓ کے ساتھ مسلمان ہوئے، کہتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا رہے تھے۔ میں بھی کھانے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: آنکھ دکھ رہی ہے اور کھجوریں کھاتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس آنکھ کی طرف سے کھا رہا ہوں جو تندرست ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جواب سن کر ہنس پڑے۔ (فضائل الاعمال)
ایک مرتبہ ایک شخص آیا اور اپنی چادر آپؐ کے گلے میں ڈال کر زور سے کھینچا۔ آپؐ کی گردنِ مبارک پر نشان پڑ گیا۔ آپؐ نے پوچھا: اے بندۂ خدا کیا بات ہے؟ اس نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے دیجیے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مال تو میں دوں گا لیکن تُو نے ستایا ہے اس کا بدلہ بھی لوں گا۔ وہ شخص کہنے لگا: نہیں نہیں! میں بدلہ نہیں دوں گا۔ آپؐ نے پوچھا: کیوں؟ وہ کہنے لگا: اس لیے کہ آپؐ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور صحابہؓ سے فرمایا: اس کو ایک اونٹ پر جو لاد دو اور ایک اونٹ پر کھجوریں۔ (ماہنامہ الخیر، شمارہ نمبر 3، اگست1996ء)
اس موقع پر جو صحابہ کرامؓ آپؐ کے پاس تھے انہوں نے گہرا درسِ نصیحت قبول کیا ہوگا۔ بڑا سبق ہے اس واقعے میں۔ بلاشبہ آپؐ مجسم لطافت اور سخاوت تھے۔ آپؐ کے جودوسخا کی کوئی حد نہیں تھی۔ گالیاں کھا کر آپؐ دعائیں دیتے اور بدسلوکی کے جواب میں بارِ شتر سے نوازتے۔ آپؐ کے اسی اسوے کا اعجاز تھا کہ زندگیوں میں ایسا انقلاب آیا کہ بکریاں چَرانے والے بدّو، دنیا کے امام بن گئے۔
حضرت ربیعہ بن عثمانؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے اپنا اونٹ مسجد سے باہر بٹھادیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے بعض نے حضرت نعیمانؓ سے کہا کہ اگر آپ اس اونٹ کو ذبح کرلیں تو ہم اس کا گوشت کھائیں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قیمت ادا فرما دیں گے۔ حضرت نعیمانؓ نے اونٹ ذبح کردیا۔ جب دیہاتی واپس جانے کے لیے نکلا تو اُس نے اپنا اونٹ ذبح کیا ہوا دیکھ کر شور مچایا اور آپؐ کو پکارا۔ آپؐ باہر تشریف لائے، دریافت فرمایا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: نعیمانؓ نے۔ آپؐ ان کو تلاش کرتے ہوئے ضباعہ بنتِ زبیر بن عبدالمطلب کے گھر پہنچ گئے، جہاں وہ چھپ گئے تھے۔ آپؐ نے ان کو باہر بلایا اور پوچھا کہ کس چیز نے تجھے یہ کرنے پر ابھارا؟ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ان لوگوں نے کہا تھا کہ تُو ذبح کردے ہم گوشت کھائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قیمت ادا فرما دیںگے۔ یہ سنتے ہوئے آپؐ ان کے چہرے سے (مٹی) صاف فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ آپؐ نے اس دیہاتی کو اس کی قیمت ادا کردی۔ (اسد الغابۃ جلد پنجم)
حضرت نعیمانؓ کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ بڑی شگفتہ طبیعت کے مالک تھے۔ حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ شام کی طرف گئے، ان کے ساتھ حضرت نعیمانؓ اور حضرت سویبط ؓ بھی تھے۔ حضرت نعیمانؓ نے حضرت سویبطؓ سے کہا کہ مجھے کھانا کھلائو۔ انہوں نے کہا: نہیں کھلاتا جب تک حضرت ابوبکرؓ نہ آجائیں۔ حضرت نعیمانؓ نے کہا: میں ابھی تیری خبر لیتا ہوں۔ یہ کہہ کر قریب میں ٹھیرے ہوئے تجارتی قافلے کے پاس آئے، سردار سے کہا: میرے پاس ایک عرب غلام ہے، تم مجھ سے خرید لو، لیکن ہوشیار رہنا وہ دوغلا ہے، وہ کہے گا میں آزاد ہوں۔ تم نے اس کی بات کا یقین کرلیا تو میں تمہارے دشمن کی واپسی کا ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا: نہیں نہیں! ہم نے تم سے دس اونٹ کے بدلے اسے خریدلیا۔ حضرت نعیمانؓ حضرت سویبطؓ کھینچتے ہوئے قافلے میں پہنچے۔کہا: یہ وہی ہے۔ لوگوں نے حضرت سویبطؓ سے کہاکہ ہم نے تجھ کو دس اونٹوں کے بدلے میں خرید لیا ہے۔ حضرت سویبطؓ نے کہا: نعیمانؓ جھوٹا ہے، میں تو آزاد مرد ہوں۔ لوگوں نے کہا: ہم کو پہلے اطلاع مل چکی ہے کہ تُو یہی کہے گا۔ حضرت نعیمانؓ نے حضرت سویبطؓ کو ان کے حوالے کیا اور دس اونٹ لے کر آگئے۔ حضرت صدیق اکبرؓ اُس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ واپس آنے پر ان کو اس بات کی اطلاع دی گئی۔ وہ کچھ ساتھیوں کو لے کر قافلے والوں کے پاس گئے۔ ان کے اونٹ واپس کرکے حضرت سویبطؓ کو لے آئے۔ قافلے کے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قصہ کی خبر دی گئی۔ آپؐ مسکرائے، سارے صحابہؓ بھی مسکرادیے۔ (اسد الغابہ جلد پنجم)
آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کا ہر عمل قیامت تک کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ آپؐ چاہتے تو حضرت نعیمانؓ کو سرزنش کرتے یا اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے۔ کیوں کہ حضرت سویبطؓ کو کچھ دیرکے لیے تکلیف اٹھانا پڑی تھی۔ آپؐ مسکرائے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، انسانوںکے لیے آیا ہے۔ انسان مختلف طبیعتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوست آپس میں ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کرسکتے ہیں۔ اصحابِ رسول پاکیزہ اور مثالی معاشرے کا حصہ تھے مگر فطرت کے تقاضوں کی گنجائش تھی۔ اکابر صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہم اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے پر توبوز کے چھلکے پھینکا کرتے تھے۔ اسلامی معاشرہ صحت مند معاشرہ ہوتا ہے، پابندیوں میں جکڑا ہوا نہیں ۔
اس پیاری محفل کا تصور کیجیے۔ ازواجِ مطہرات آپؐ کے گرد جمع ہیں۔ ان کی آواز آپؐ کی آواز سے بلند ہورہی ہے۔ حضرت سعیدؓ فرماتے ہیں: اس دوران حضرت عمرؓ نے آپؐ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اجازت مل گئی تو خواتین چھپ گئیں۔ آپؐ مسکرا دیے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: اللہ آپؐ کو ہمیشہ ہنستا رکھے، میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے کہ یہ میرے پاس تھیں، جب تمہاری آواز سنی تو چلی گئیں۔ حضرت عمرؓ نے ان خواتین کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا: اے اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے ڈرتی ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں؟ خواتین نے کہا: آپؓ زیادہ سخت ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپؐ نے فرمایا: اے عمر، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، شیطان اس راستے سے ہٹ جاتا ہے جس پر تُو چلتا ہے۔ (بخاری جلد دوم)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جلال غالب تھا۔ اس ایمانی جلال کی کیفیت یہ تھی کہ آپؐ فرما رہے ہیں کہ جس راستے پر عمرؓ کا گزر ہوتا ہے شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے۔
آپؐ کا جمال آپؐ کے جلال پر غالب تھا۔ اسی جمال نے دلوں کو فتح کرلیا۔

(جاری ہے)