سوشل میڈیا رائونڈ اپ

242

گزشتہ دنوں ملک کے سب سے بڑے اور نامور میڈیا گروپ کی جانب سے کروائے گئے ملک گیر سروے کے نتائج نشر کیے گئے۔ یہ سروے ملک کی دو مؤقر سروے ایجنسیوں سے کروائے گئے تھے اور نتائج کی یکسانیت دیکھ کر آپ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ درست عوامی آراء کا اظہار جھلک رہاہے۔ ان میں ایک سوال یہ تھا کہ پاکستانی شہری ملک کے کس ادارے پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں ملک کے تمام حصوں سے چھ ہزار مرد وخواتین شہریوں نے اس سروے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اُن کی آراء کو سائنٹفک بنیادوں پر ریسرچ کے اصولوں سے گزار کر نتائج مرتب کیے گئے تو جواب یہ سامنے آیا کہ ملک کی 82 فیصد آبادی کے نزدیک فوج کا ادارہ تاحال سب سے زیادہ بااعتماد ہے۔ سروے کے ان نتائج کو مذکورہ میڈیا گروپ نے تو خوب کوریج دی، ساتھ ہی یہ نتائج مخصوص ایجنڈے کو لے کر چلنے والے اہلِ علم و دانش اور رائے عامہ و رائے سازی کے ماہرین کے لیے بھی بہت کچھ پیغام دے گئے۔ بہرحال سوشل میڈیا پر بھی ان کا خاصا ذکر اور مباحث جاری رہے۔ اس سوال کے جواب کے ضمن میں ایک اور اہم بات یہ ہوئی کہ انہی دنوں میں ڈیرہ اسماعیل خان (کولاچی) میں ایک فوجی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کے میجر اسحاق شہید ہوگئے۔ میجر اسحاق شہیدکی نماز جنازہ لاہور میں ہوئی جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ 28سالہ میجر اسحاق نے تو جام شہادت ڈیرہ اسماعیل خان میں نوش کیا مگر اُن کی قربانی سوشل میڈیا پر عالمی شہرت اختیار کر گئی۔ فیس بک پر تو اُن کے نام ’میجر اسحق شہید‘ کے نام سے ایک گروپ بھی بن گیا۔ ملکی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے بھی جنازے کو بھرپور کوریج دی۔ اُن کی خوبصورت مسکراتی ہوئی تصویر خاصی ’وائرل‘ ہوگئی۔ دُنیا بھر میں پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر اُن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے کور فوٹو اور ڈی پی (ڈسپلے پکچر) کو بھی میجر صاحب کی تصویر سے تبدیل کردیا۔

Salman-abid1تبصروں، تجزیوں کا معاملہ بھی ایسا ہی رہا کہ میجر اسحق اور اسحق ڈار میں بھی موازنہ کیے جاتا رہا۔ ساتھ ہی دعائیہ کلمات اور پاک فوج کی ہمت و جرأت کو سلامیاں دی جاتی رہیں۔ یہ سب دیکھ کر واقعی لگا کہ سروے کے نتائج درست ہی ہیں۔ متعدد سیاسی رہنماؤں جن میں خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ سید، عمران خان، شاہ محمود قریشی، مونس الٰہی، جہانگیر ترین، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، طاہرالقادری، سینئر تجزیہ نگار نسیم زہرہ، امیر عباس، ارشد شریف، نازیہ میمن، عاصمہ شیرازی، زید حامد، معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی اپنے ٹوئٹ میں قوم کے لیے شہید کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک دوست نے شہید کی اپنے بچے کے ساتھ مسکراتی تصویر پر تبصرہ کیا کہ ’اس مسکراہٹ کی قیمت شاید پوری قوم ادا نہ کرسکے گی۔ اور اس پھول جیسے بچے کے ہم سب مقروض ہوگئے ہیں جس کے پاپا نے ہم سب کے لیے قربانی دے دی۔‘ مزید یہ ہوا کہ دو روز بعد ہی پشاور میں ایک خودکش بم حملے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس محمد اشرف نور اپنے گن مین کے ہمراہ جام شہادت نوش کرگئے۔ اس افسوس ناک واقعہ پر بھی سوشل میڈیا پر عوامی احساسات اور ردعمل کا سلسلہ جاری رہا۔ ٹوئٹر پر دو ہی گھنٹے میں حیات آباد، اشرف نور اور بلاسٹ کے عنوان سے تین ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ویسے بھی اہل ِپاکستان کو دہشت گردی کی اس تازہ لہر سے ایک وقفے کے بعد دوبارہ سامنا ہوا تھا، اس لیے ردعمل بھی شدید ہی آنا تھا۔ اسی حوالے سے ایک دوست نے اپنے احساسات کچھ یوں قلمبند کیے ’’میجر اسحق شہید۔ کدھر ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فوجی تنخواہ لیتے ہیں۔ کروڑوں لے کر بھی کوئی بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ چھوڑ جانے کی ہمت دکھائے۔ سلام اپنے شہیدوں کو… سرفروشی ہے ایماں تمہارا…جرأتوں کے پرستار ہو تم…جو حفاظت کرے سرحدوں کی… وہ فلک بوس دیوار ہو تم‘‘۔
بات ہورہی تھی سروے کی… اسی میں ایک اور دلچسپ سوشل میڈیا سروے کی بات بھی ہوجائے تو اچھا ہوگا، کیونکہ یہ بھی خاصا موضوع بنارہا۔ 19نومبر کو سوشل میڈیا (ٹوئٹر) پر ایک معروف نوجوان امریکی کامیڈین جرمی مک لیلن نے ایک دلچسپ سروے والی پوسٹ ڈالی۔ ارے! کیاآپ جرمی کو نہیں جانتے؟ بھئی امریکی ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ موصوف اپنے تمام ظاہری قول و فعل سے پاکستان اور یہاں کے مسلمانوں سے خصوصی انسیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں یہاں کے دورے کرنے پر کبھی سی آئی اے ایجنٹ اور امریکا میں اسلامو فوبیا، امریکی سیاسی پالیسیوں پر تنقید اور مسلم حمایت پر مزاح کرنے پر مسلمانوں کا حامی کہا جاتا ہے۔ بہرحال ان سب کے علاوہ اُنہیں ’بریانی لور‘ بھی کہا جاتا ہے، بریانی سے شدید محبت کا اظہار وہ کئی بار کر چکے ہیں، حالیہ دورۂ پاکستان (اگست2017 ء) کو بھی انہوں نے یہاں ’پنڈی بوائز‘ کے عنوان سے خوب منایا۔ بہرحال بات ہورہی تھی اُن کی ٹوئٹ کی جو خاصا موضوع بنی رہی۔ اور ٹوئٹ کیا تھی، ایک دلچسپ سروے تھا جس پر کئی بار خود میرے گھر میں بھی بحث ہوئی ہے۔ مگر مزے دار بات یہ ہے کہ اس دلچسپ سروے جس میں 24گھنٹے میں کوئی 14334 ووٹ ڈالے گئے، مگر نتیجہ انتہائی ففٹی ففٹی رہا یعنی برابر۔ اب آپ کہیں گے کہ ایسا کیا سوال تھا؟ تو جناب سوال یہ تھا: بریانی آلو کے ساتھ ہونی چاہیے یا بغیر آلو کے۔ تو کوئی 7167افراد نے بریانی میں آلو کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ اتنی ہی تعداد نے بریانی میں آلو کی موجودگی کو غیر ضروری قرار دیا۔ کچھ کے نزدیک بریانی کی آفیشل ریسپی میں آلو کی کوئی جگہ نہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ مغلیہ دور میں ایجاد ہونے والی یہ ’بریانی‘ ہمارے برصغیر پاک و ہند کی ایک اہم ترین ڈش شمار کی جاتی ہے۔ بھارت کے مشہور روزنامے انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ اور بی بی سی نے بھی اس سروے پر مبنی اسٹوری کوشائع کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے معروف رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے بھی جرمی کی ٹوئٹ کے نتائج پر دلچسپ جواب دیتے ہوئے تحریر کیا کہ ’’دھاندلی ہے یہ، ہم نہیں مانتے ان دھاندلی والے نتائج کو۔ آلوکے ساتھ ہی بریانی اصل بریانی ہے۔ سائبر اسپیس میں مناسب جگہ ملنے پر ان نتائج کے خلاف دھرنا دیا جائے گا‘‘۔ اُن کی رائے بھی میری طرح آلو کے حق میں پائی گئی۔ جرمی مک لیلن نے اسے ’’گریٹ آلو وار‘‘کا نام دیا۔ اسی طرح بغیر آلو والی بریانی کے حق میں ایک خاتون نے ٹوئٹ کیا کہ ’’پاکستان کو جہاں ایک جانب کرپشن اور دہشت گردی جیسے ناسور کا قلع قمع کرنا ہوگا وہیں دوسری جانب بریانی میں آلو ڈالنے والے سازشی طبقے کو بھی جڑ سے ختم کرنا ہوگا، ورنہ کل کو یہ بریانی میں بھنڈی مکس کرکے بنانا شروع کردیں گے، بیشک زندہ اقوام اپنی ثقافت اور تہذیب کی حفاظت کرتی ہیں۔‘‘
ایک اور سوشل میڈیا کی طاقت پر مبنی مؤثر پیش رفت جو ہم سب نے دیکھی اس ہفتہ، سوری اس جمعہ، وہ تھی ’بلیک فرائیڈے‘ سے ’ بلیسڈ فرائیڈے‘ یا ’ بگ فرائیڈے‘ کا سفر۔ اسرارِ خودی میں علامہ محمد اقبال ؒ مغرب اور اس کی تہذیب کا محاکمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’دانشِ حاضر حجابِ اکبر است……بت پرست و بت فروش و بت گر است‘‘ یعنی یہ جو جدید تعلیم، جدید مغربی تہذیب حقیقت سے دور کردینے والے ایک حجاب کی مانند ہے، یہ خود نئے نظریات کے بت گھڑتے ہیں، نئی اصطلاحات کے چوغے میں سامنے لاتے ہیں، پھر ان بتوں (نظریات و اصطلاحات) کو بیچتے ہیں، پھر سب کو اس کے پیچھے لگا کر کہتے ہیں اِن کی پوجا بھی کرو۔ اسی تشریح کی روشنی میں دیکھیں تو یہ بلیک فرائیڈے اور اس جیسے کئی اور ایام (ویلنٹائن ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے و دیگر) بھی ایسی ہی ایک مغربی اصطلاح کی مانند ہمارے درمیان کوندے۔ تاریخ کے مختلف حوالے و توجیحات دی گئیں مگر ان کی بدقسمتی کہ یہ دن جمعہ سے جوڑ دیا گیا، اور جمعہ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مقدس دن شمار کیا جاتا ہے، اُسے جب لفظ ’سیاہ‘ سے جوڑا گیا اور مختلف بین الاقوامی برانڈز کی جانب سے خوب ساری رعایتوں کی پیش کشیں دی گئیں تو پھر کیا تھا، مغرب کی نقالی میں مقامی برانڈز بھی بنا سوچے سمجھے کود پڑے۔ سوشل میڈیا جیسا اوپن پلیٹ فارم اس طرح پہلے نہیں تھا، اس لیے کئی برسوں سے منائے جانے والے اس ’بلیک فرائیڈے‘ پر شدید ردعمل نہیں آسکا، مگر اِس بار تو دل کھول کر اظہارِ رائے کیا گیا۔ بگ فرائیڈے کے نام سے تو ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی بنایا گیا۔ معاملہ تجارتی تھا اس لیے کاروباری نقصان کے خوف سے یا ایمانی جوش سے سرشار ہوکر عین ایک دن قبل پاکستانی حدود میں تو تقریباً تمام برانڈز نے خواہ ملکی ہوں یا غیر ملکی، بلیک فرائیڈے کی جگہ ’بگ فرائیڈے‘ اور ’بلیسڈ فرائیڈے‘ کا لیبل لگا دیا۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا صارفین کے کچھ دلچسپ مقبول تبصرے پیش ہیں: ’’مولویوں نے دراز کو بھی فتح کرلیا! بلیک فرائیڈے سے بگ فرائیڈے ہوگیا۔ پاکستان میں بلیک فرائیڈے کو متعارف کروانے والی بڑی شاپنگ ویب سائٹ darazنے مجبور ہوکر اپنی سیلز مہم کو’’بگ فرائیڈے‘‘ کے نام سے لانچ کردیا ہے۔ آخر یہ کاروبار کا معاملہ ہے‘‘۔ عالیہ منصور صاحبہ کہتی ہیں کہ ’’دیر آید درست آید… عوام کی خواہش کے مطابق بلیک کو بِگ فرائیڈے میں تبدیل کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے‘‘۔’’دو قومی نظریہ۔ بلیک فرائیڈے اور بلیسڈ فرائیڈے‘‘۔ ویسے کچھ آراء یہ بھی تھیں کہ ’’جمعۃ المبارک کا احترام اپنی جگہ، مگر اسلام میں کالا گورا کی کوئی تقسیم نہیں، سب برابر ہیں۔ بلیک فرائیڈے پر واویلے کا مطلب سمجھ نہیں آرہا۔ دین میں جو بات ممنوع ہے وہ غیر مسلموں کے تہوار کا منانا ہے، اگر آپ وہی تہوار یا دن صرف نام کی تبدیلی سے اُسی دن اُسی وقت منا رہے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے۔‘‘
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی سبوخ سید تبصرہ کرتے ہیں کہ’’اگر مسلمانوں کا مقدس دن جمعہ سیاہ نہیں ہو سکتا تو مسلمانوں کا مقدس پتھر کیوں سیاہ ہے۔ برقعے کا رنگ سیاہ،غلاف کعبہ سیاہ ،کالی کملی سیاہ،عمامہ، مشک وعنبر سیاہ،رسول اللہ کا علم جہاد سیاہ ،عباس علمدار کا علم سیاہ۔یہ سب ویسے ہی ذہن میں آیا ہے ، لازمی نہیں ہر بات ٹھیک ہی ہو۔اچھا ، چلو بات کو نیا پن دیتے ہیں ،وہ جس جمعے کو بلیک کہتے ہیں ، اس کو اتنا مقدس سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لیے اشیاء کی قیمتیں آدھی کر دیتے ہیں ، اور آپ جس مہینے کو مقدس مانتے ہو ، اس میں غریبوں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہو۔ وہ رمضان میں بھی چیزیں سستی کر دیتے ہیں۔