جنت

114

نائلہ شاہد
اُس نے اپنے سامنے بیٹھی سارہ سے کوئی دسویں بار سوال کیا۔ سارہ، جو اس کی شریکِ حیات ہی نہیں اس کو سب سے زیادہ بہت عزیز بھی تھی۔ شادی کو ابھی2 سال ہی ہوئے تھے لیکن وہ اس کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی تھی۔ پتا نہیں کیوں وہ اس کی کوئی بات ٹال ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ سارہ کے منہ سے نکلی ہر بات وہ اسی وقت پوری کردے۔ اس کے لیے اسے زن مرید، جورو کا غلام جیسے القابات سے بھی نوازا جاچکا تھا، لیکن اس کو صرف سارہ کا ہنستا مسکراتا چہرہ عزیز تھا۔ سارہ کی آنکھ سے بہتے آنسو اس کے دل کو لہولہان کردیتے۔
سارہ کی ہر خواہش وہ لازمی پوری کرتا، چاہے اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔ لیکن اِس دفعہ سارہ نے جس خواہش کا اظہار کیا تھا اُس نے اس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔ سارہ نے الگ گھر کا مطالبہ کرکے گویا اس پر دھماکا کیا۔ فراز کے لیے سارہ کی یہ خواہش پوری کرنا تقریباً ناممکن تھا۔
فراز جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا سعادت مند بیٹا تھا، تین بہنوں کا چھوٹا اور لاڈلا بھائی۔ بہنوں کی شادی کے بعد جب تک جاب نہیں لگی تھی وہ اپنی ماں کے ساتھ گھر کا ہر کام کرواتا۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ ماں کو پلنگ سے اترنے نہ دے۔ سارے دوست احباب اس کی، ماں کے ساتھ والہانہ محبت پر رشک کرتے اور کچھ منچلے اس کو چھیڑتے کہ فراز تجھے لڑکی نہیں ملے گی، ماں سے اس قدر محبت کرنے والے اکثر کنوارے ہی رہ جاتے ہیں۔ فراز بس ان کی باتوں پر ہنستا رہتا۔
سارہ اس کی امی کی پسند تھی جس کو اس نے دل و جان سے قبول کیا۔ چارٹرڈ اکائونٹ کی ڈگری کے ساتھ ہی امی نے سہرا بھی سجا دیا، یعنی نوکری اور بیگم دونوں ساتھ ساتھ۔ سارہ کے لیے گھر کا ماحول بہت سازگار تھا، دل و جاں سے چاہنے والا شوہر، جو اس کی ایک ایک ادا پر مر مٹتا، بہنوں کی طرح پیار کرنے والی نندیں اور محبت اور عزت دینے والے ساس سسر۔
سارہ نے سسرال کے بڑے ڈرائونے قصے سنے تھے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔ ’’مما سب اتنے اچھے ہیں‘‘ وہ اپنی مما سے اکثر وہاں کی تعریفیں کرتی۔ ’’ارے بیٹا ذرا سنبھل کر، یہ میٹھے لوگ بڑے میسنے ہوتے ہیں، بس ذرا بچ کر رہنا، اپنے شوہر کو مٹھی میں رکھنا، تمہارا اصل رشتہ بس اسی سے ہے‘‘۔ سارہ کا برین واش کرنے کے بعد مما اسے مزید ٹپس دیتیں۔ فراز سارہ سے کوئی کام نہیں کرواتا تھا۔ اس نے شادی کے پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ ’’تمہاری مرضی تم کام کرو یا نہ کرو، امی اور اپنے کام میں خود کرلیا کروں گا‘‘۔ اور سارہ، جسے کام سے ہمیشہ سے چڑ تھی، وہ تو خوش ہوگئی۔ فراز کے گھر کا نظام فراز کی بے انتہا محبت اور امی کی حکمت و دوراندیشی سے بہ خوبی چل رہا تھا، لیکن سارہ کے میکے سے تواتر سے پڑنے والے پتھروں نے آخر درو دیوار کو ہلا ہی دیا۔
فراز امی کے پیر دباکر جب کمرے میں داخل ہوا تو سارہ قدرے خوش گوار موڈ میں گنگنا رہی تھی۔ فراز اسے محبت سے دیکھتے ہوئے مسکرادیا۔
’’فراز…!‘‘ اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے فراز کو مخاطب کیا۔
’’ہاں بولو…‘‘ فراز اس کے والہانہ انداز پر حیران ہوتے ہوئے بولا۔
’’فراز! مجھے اپنا الگ گھر چاہیے جہاں ہر چیز میری ہو۔ میرا کچن، میرا صحن۔ سب کہیں یہ پیارا سا گھر سارہ کا ہے‘‘۔ فراز حیران و پریشان سارہ کی شکل دیکھ رہا تھا۔ سارہ اس سے الگ گھر کا مطالبہ کرے گی اس نے تو یہ بات خواب میں بھی نہ سوچی تھی۔ ’’سارہ میری جان! یہ گھر تمہارا ہی ہے، تمہیں یہاں ہر قسم کی آزادی ہے، اتنا تو شان دار گھر ہے ہمارا۔‘‘
’’نہیں فراز یہ میرا نہیں آپ کی امی کا گھر ہے، ساری مرضی اُن کی چلتی ہے… مہمان بھی انھی کے آتے ہیں… روز کیا پکے گا یہ وہ بتاتی ہیں، ماسیاں اُن سے پوچھ کر کام کرتی ہیں، میری یہاں کوئی حیثیت نہیں… آپ مجھے میرا گھر لے کر دیں ورنہ…‘‘ فراز اس کے ’’ورنہ‘‘ پر چونک گیا۔ ’’ورنہ کیا…؟‘‘
’’ورنہ میں امی کے گھر چلی جائوں گی…‘‘ سارہ تو فراز کی زندگی تھی، وہ یہاں سے چلی جائے، فراز کو یہ سوچ کر ہی جھرجھری آگئی۔ لیکن سارہ کا یہ واحد مطالبہ تھا جسے فراز کے لیے ماننا ناممکن تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، اور سارہ کے بغیر رہنا اس کے لیے محال تھا۔ اس نے سارہ کو بہت پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا ’’دیکھو سارہ میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں، بڑھاپے میں انھیں کیسے چھوڑ دوں؟‘‘
’’کیوں فراز، میں بھی تو ایک ہی بیٹی ہوں، کیا میں چھوڑ کر نہیں آئی! وہ بھی تو اکیلے ہیں۔‘‘
’’ارے یہ تو دستور ہے دنیا کا، بیٹی تو رخصت ہوکر آتی ہے۔‘‘
’’فراز آپ کچھ بھی کہیں، میں فیصلہ کرچکی ہوں، اگر آپ کو منظور نہیں تو میں یہاں نہیں رہوںگی اور گھر ٹوٹنے کے ذمے دار آپ خود ہوں گے‘‘۔ وہ یہ سب کہہ کر کمرے کی لائٹ بند کرکے سوگئی۔‘‘
فراز کے لیے انتہائی کٹھن صورت حال تھی۔ صبح آفس جانے سے پہلے سارہ میکے جانے کے لیے تیار تھی۔ ’’آپ مجھے چھوڑیں گے یا میں خود چلی جائوں؟‘‘،
فراز اس کی ناراضی پر تڑپ ساگیا ’’دیکھو فیصلوں پر عملدرآمد میں وقت لگتا ہے، مجھے وقت دو میری جان، میں حل نکالتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے جب آپ حل نکال لیں تو مجھے لینے آجایئے گا‘‘۔ سارہ کے حتمی فیصلے سے فراز کا دل گویا بند سا ہوگیا۔ اس نے تو ان حالات کا سوچا بھی نہیں تھا۔ سارہ اپنی بات پر قائم رہی، اُسے یقین تھا کہ وہ اگر فراز کو آسمان سے تارے بھی توڑ کر لانے کو کہے تو وہ لادے گا، الگ گھر تو معمولی بات ہے۔ لیکن وہ حیران ضرور ہوئی تھی فراز کے رویّے پر۔ فراز کے لیے یہ بات ماننا مشکل ہورہا تھا۔ لیکن سارہ نے بھی اپنی بات منوانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
شام کو فراز سارہ کو لینے آگیا تھا۔ ’’چلو سارہ، گھر چل کر اس مسئلے پر بات کرتے ہیں۔‘‘
’’نہیں فراز، جب آپ میری بات مانیں گے تب ہی آئوں گی۔‘‘
’’سارہ حد کرتی ہو تم، کیوں نہیں سمجھتیں میرے لیے یہ آسان بات نہیں۔‘‘
’’کیوں نہیں آسان… کون سا مشکل کام ہے؟‘‘ سارہ اپنی ضد پر بدستور قائم رہی لیکن فراز کو پھر بھی راضی نہ کرسکی۔ اس کو حیرت ہورہی تھی کہ فراز اس کی کوئی بات رد نہیں کرتے لیکن اس بات پر ان میں ذرا بھی لچک نہیں آرہی تھی۔
’’ٹھیک ہے سارہ میں چلتا ہوں…‘‘ فراز نے سارہ کے سوجے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ارے فراز بیٹا! کھانا کھا کر جانا۔‘‘
’’نہیں آنٹی، امی انتظار کررہی ہوں گی … آنٹی آپ سارہ کو سمجھائیے ناں، عجیب ضد باندھی ہے اس نے۔‘‘
’’دیکھو فراز مجھے لگتا ہے یہ اس کا حق ہے۔ بیٹا، الگ گھر لینے سے کوئی اپنے ماں باپ سے الگ نہیں ہوجاتا، لیکن یہ عورت کا بھی ارمان ہوتا ہے کہ اس کا ایک اپنا گھر ہو جہاں اس کی حکمرانی ہو‘‘۔ فراز سارہ کے کہے گئے جملے ساس کے منہ سے سن کر خاموشی سے وہاں سے چلا آیا۔ جنگل کی آگ کی طرح یہ بات بھی خاندان میں پھیل گئی کہ فراز کی بیوی نے الگ گھر کا مطالبہ کردیا ہے …اور فراز تو زن مرید ہے ہی، بیوی کی بات مان بھی لے گا۔ یہ خاندان والوں کو یقین تھا۔ لیکن ایک ہستی جانتی تھی کہ فراز سارہ کو کھونے کی اذیت اور تکلیف سے گزر جائے گا مگر ماں باپ کو نہیں چھوڑے گا، اور وہ ہستی فراز کی ماں تھی، اس لیے وہ فکرمند تھیں کہ اگر سارہ نے ضد نہ چھوڑی تو ان کے بیٹے کا بسا بسایا گھر ٹوٹ جائے گا اور خود ان کا بیٹا ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جائے گا… اور ان کی ممتا اپنے بیٹے کو کسی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی، اسی لیے وہ بیٹے کو راضی کررہی تھیں کہ وہ سارہ کی بات مان لے۔
’’امی میری پیاری امی…‘‘ فراز نے اپنی ماں کے دونوں ہاتھ چومے اور اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے مخاطب ہوا ’’آپ جانتی ہیں ناں میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا، سارہ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں، وہ اکیلے اور تکلیف میں آجائے گی۔ امی میں سارہ سے بہت محبت کرتا ہوں، میں اس کی اور اپنی آخرت کیوں خراب کروں! مجھے معلوم ہے دین اس بات کی اجازت دیتا ہے لیکن امی آپ بتائیے، کیا آپ میرا چہرہ دیکھے بغیر سو پائیں گی؟ امی یہ وقت اور حالات بہت سنگین ہوتے ہیں، نہ جانے کس وقت ڈور ہاتھوں سے چھوٹ جائے اور میں محروم ہوجائوں، مجھے مجبور نہ کریں اپنی جنت سے دور ہونے کے لیے۔ میری بیوی میری متاعِ حیات، مجھے بہت عزیز ہے اور میں اپنے عمل سے ہرگز یہ نہیں چاہوں گا کہ کل اُس کا بیٹا اُس کا دل توڑے، اُس کے لیے غم کا سبب بنے۔ امی میں پوری کوشش کروں گا کہ وہ واپس آجائے۔ اگر وہ میرے ساتھ خوش ہے تو اس گھر میں بھی خوش رہے گی۔‘‘
’’بیٹا اگر وہ نہ آئی تو؟‘‘ امی نے فکرمندانہ انداز میں فراز کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ارے میری پیاری امی! آپ کی محبت کی طاقت نے جس طرح میرے پیروں میں بیڑیاں ڈالی ہیں، اگر میری محبت میں طاقت ہوئی تو سارہ بھی یہ بیڑیاں شوق سے پہنے گی اور میرے ساتھ یہیں اپنی جنت میں رہے گی۔‘‘