ریس لگاتی بسوں نے ننھی بچی کی جان لے لی ،عوام مشتعل،بسیں نذر آتش

391
کراچی : ایم اے جناح روڈ پر مشتعل افراد کے ہاتھوں نذر آتش کی جانے والی بس سے شعلے بلند ہورہے ہیں ،چھوٹی تصویر حادثے کا نشانہ بننے والی بچی کی ہے
کراچی : ایم اے جناح روڈ پر مشتعل افراد کے ہاتھوں نذر آتش کی جانے والی بس سے شعلے بلند ہورہے ہیں ،چھوٹی تصویر حادثے کا نشانہ بننے والی بچی کی ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)تبت سینٹر ایم اے جناح روڈ پر ریس لگانے والی 2مسافربسوں نے اسکول کی معصوم طالبہ کی جان لے لی ،بیٹی کو اسکول چھوڑنے جانے والاحذیفہ شدید زخمی ،حادثے کامنظر دیکھنے والے مشتعل شہریوں نے دونوں بسوں کوآگ لگادی ، پولیس نے 11شہریوں کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کرلیاجبکہ پولیس رات گئے تک ریس لگا نے والی بسوں کے ڈرائیوروں کنڈیکٹروں اور بس مالکان میں سے صرف ایک کو گرفتار کرسکی ،پولیس حادثے کے ذمے داروں کے بجائے مشتعل شہریوں کو جیل بھجوانے کے لیے سرگرم رہی۔تفصیلات کے مطابق پریڈی کی حدود میں صدر ایم اے جناح روڈ پر واقع تبت سینٹر کے قریب ماما پارسی اسکول کے سامنے جمعہ کی صبح تقریبا ساڑھے 7بجے روٹ نمبر4Kاور4Qکی2 بسیں ریس لگارہی تھیں ، غلط اوور
ٹیک کرنے والی تیز رفتار بس نے سڑک کنارے چلنے والی موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں اس پر سوار شخص اچھل کر فٹ پاتھ پر گر گیا جبکہ اس پر بیٹھی ہو ئی معصوم بچی بس کے ٹائروں تلے آکر کچل گئی۔سپرنٹنڈنٹ پولیس صدر توقیر محمد نعیم نے بتایا کہ دو نوں مسافر بسیں ایک دوسرے سے ریس لگا رہی تھیں، دونوں بسیں جیسے ہی ماما پارسی اسکول کے قریب پہنچیں ’فور کے‘ روٹ کی بس نے سڑک کی غلط سائیڈ سے دوسری بس کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش میں موٹر سائیکل کو ٹکر ماری جس سے 5 سالہ سکینہ اور اس کے والد حذیفہ زخمی ہوئے، جن کو شہریوں نے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کردیا ،جہاں ڈاکٹروں نے سکینہ کی موت کی تصدیق کردی،تاہم اس کے والد حذیفہ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ،حادثے کے وقت زخمی باپ اپنی بیٹی کو گھر سے اسکول چھوڑنے جارہا تھا کہ حادثہ پیش آگیا ، متوفیہ پری پرائمری کلاس کی طالبہ اور اولڈ سٹی ایریا کی رہائشی تھی۔ ادھر ایم اے جناح روڈ پر ہونے والے المناک حادثے کو دیکھ کر شہری مشتعل ہو گئے اور دونوں بسوں کوآگ لگانے کے ساتھ سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کو روک کر ان پر پتھراؤ کیا۔پولیس نے ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد صورتحال پر قابو پاتے ہو ئے فائر بریگیڈ کو طلب کیاِ جس نے بسوں میں لگی آگ پر قابو پایا،پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں11شہریوں کوگرفتار کر لیا۔پولیس حادثے کی ذمے دار بسوں میں سے صرف ایک کے ڈرائیور سلیم عرف پپو کو گرفتار کرسکی جو روٹ نمبر 4Qکی بس چلارہاتھا ، دوسری طرف پولیس پورا دن حادثے کے بعد بچی کی لاش دیکھ کر مشتعل ہونے والے شہریوں کوجیل بھجوانے کے لیے مصروف رہی ،پولیس کی ٹیمیں حادثے کے مناظر کے بجائے بسوں کو جلانے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تلاش کرتی رہیں ۔شہری حلقے پولیس کی جانب سے بسوں کے ڈرائیوروں ،کنڈیکٹروں اور بس مالکان کی عدم گرفتاری اور پولیس کی جانب سے اختیار کیے گئے رویے کو ٹرانسپورٹ مافیا سے ملی بھگت قرار دے رہے ہیں۔انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) اے ڈی خواجہ نے واقعے سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی اور ڈی آئی جی ٹریفک سے معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ادھر ڈاکس تھانے کی حدود ماڑی پور روڈ مچھر کالونی کے سامنے تیز رفتا رآئل ٹینکر نے سڑک عبور کرنے والے بچے کو روند دیا ،حادثے کی اطلاع پر بچے کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر اس نے دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے دم توڑ دیا ،پولیس نے بتایا کہ اسپتال میں متوفی کی شناخت 10سالہ مکھن ولد سفل شاہ کے نام سے کی گئی جو کہ مچھر کالونی بسم اللہ چوک کا رہائشی اور مقامی مدرسے کاطالب علم تھا۔