الخلیل میں فلسطینیوں کے 20 مکانات مسمار کرنے کی اسرائیلی تیاری

147
مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے کے شہر الخلیل کی اہم شاہراہ بند کیے جانے کے خلاف جمعہ کے روز فلسطینی شہری احتجاج کر رہے ہیں‘ قابض اسرائیلی فوج آنسو گیس برسا رہی ہے
مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے کے شہر الخلیل کی اہم شاہراہ بند کیے جانے کے خلاف جمعہ کے روز فلسطینی شہری احتجاج کر رہے ہیں‘ قابض اسرائیلی فوج آنسو گیس برسا رہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع فلسطینیوں کے 20 گھروں کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں مسمار کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔ عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عدالت عظمیٰ میں صہیونی انتظامیہ کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست میں عدالت سے سوسیا میں فلسطینیوں کے 20 مکانات مسمار کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالت فی الحال اس درخواست پرغور کرہی ہے۔ عبرانی اخبارکے مطابق اسرائیلی مشیر قانون اور اٹارنی جنرل افیحائی کا کہنا ہے کہ سوسیا میں فلسطینیوں کے مکانات غیرقانونی طور پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان کی مسماری کی راہ میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت سوسیا میں 15 مکانات کو جلد از جلد مسمار کرنے کی تیاری کررہی ہے اور وہ اسرائیلی عدالت کے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا چاہتی۔ چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں سال کے دوران سوسیا قصبے کو فلسطینی آبادی سے خالی کرایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوسیا میں فلسطینیوں کی تمام رہائشی تعمیرات غیرقانونی اور اسرائیلی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر قائم کی گئی ہیں۔ اسرائیل کے سیکورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے حالیہ ہفتوں کے دوران فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اُدھر سوسیا قصبے کے فلسطینی میئر جہاد نواجعہ کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام نے 15 سے 20 فلسطینی مکانات مسمار کرنے کا منفی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوسیا میں فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔
الخلیل ؍ مسماری