بھارت ؛صحافی کے قتل پر اخبارات کا انوکھا احتجاج

459
نئی دہلی: صافی سندیپ دتا بھومیک کی ہلاکت پر اخبار کے اداریے کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے
نئی دہلی: صافی سندیپ دتا بھومیک کی ہلاکت پر اخبار کے اداریے کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی شمال مشرقی ریاست تری پورا میں مبینہ طور ایک سینئر فوجی اہل کار کے حکم پر صحافی کو قتل کرنے کے واقعے کے بعد کئی علاقائی اخبارات نے بطور احتجاج اپنے ادارتی صفحات میں اداریے کی جگہ خالی جگہ چھوڑ دی۔ سینئر فوجی اہل کار کمانڈنٹ تپن دبرما نے مبینہ طور پر منگل کے روز اپنے محافظ کو صحافی سُدیپ دتہ کو گولی مارنے کا حکم دیا تھا جس کے الزام میں اسے بدھ کی رات گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ تپن دبرما کے دفتر کے باہر اس وقت پیش آیا جہاں سدیپ دتہ نے منگل کے روز ایک اجلاس میں شرکت کی تھی۔ صحافی سدیپ دتہ کے ادارے کے مدیر سبل کمار کا کہنا ہے کہ سدیپ دتہ کو ان کی رپورٹس کی وجہ سے مارا گیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سدیپ دتہ کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملات کو اٹھایا تھا۔ تری پورا کے کئی اخبارات نے سدیپ دتہ کے قتل کے خلاف بطور احتجاج اپنے ادارتی صفحات کو خالی شائع کیا۔ ریاست کی سیاسی جماعتوں نے بھی سدیپ دتہ کے قتل کے خلاف احتجاج کے لیے ایک روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی جس کے بعد ریاست کے اسکول، کالج اور دیگر دفاتر بند رہے۔ صحافی سدیپ دتہ کو مبینہ طور پر گولی مارنے والے سپاہی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں گزشتہ ماہ بائیں بازو کی ایک سرکردہ صحافی گوری لنکیش کو جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں نامعلوم جوہات کی بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ 55 سالہ صحافی گوری لنکیش ہندو قوم پرست سیاست کی مخالف تھیں۔ گوری لنکیش ایک ہفت روزہ جریدے کی مدیر تھیں اور ان کا شمار نڈر صحافیوں میں ہوتا تھا۔
بھارت ؍ احتجاج