اسلام آباد آپریشن کے خلاف ملک بھر میں احتجاج

682

انتظامیہ کی جانب سے دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن کرنے پر تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں نے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا۔

اسلام آباد میں جاری’تحریک لبیک’ کی جانب سے جاری  دھرنےکوختم کرانے کےخلاف آپریشن کیا گیاجس کےملک کےمختلف شہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کردیں اور ٹائر نذر آتش کیے۔

کراچی کی نمائش چورنگی پر مذہبی جماعت کے کارکنان نے احتجاج کیا اور سڑک بلاک کردی، علاقے میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ نمائش کے اطراف دکانیں بھی بند کرادی گئی ہیں۔نمائش کے علاوہ مذہبی جماعت کے کارکنان نے ٹاور پر بھی احتجاج کی اور ٹائر جلائے۔ نیوکراچی میں اسلام آبادآپریشن کے ردعمل میں نامعلوم افراد نے دکانیں بند کرادیں جب کہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے حسن اسکوائر کے مقام پراحتجاج شروع کردیا۔

اسلام آباد دھرنے کے ممکنہ رد عمل کے پیش نظر پولیس نے گورنر ہاؤس جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے اطراف بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

لاہور میں داروغہ والا، تحصیل ہارون آباد اور داتا دربار کے قریب بھی دھرنا مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کردی جس کے باعث عدالتی امور بند ہوگئے ہیں۔ حسن ابدال، میرپور، آزاد کشمیر، بچیکی میں بھی مذہبی جماعتوں کااحتجاج جای ہے۔

سمبڑیال میں مظاہرین نے اسلام آباد آپریشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلاکر سیالکوٹ وزیرآباد روڈ بلاک کردیا۔راولپنڈی میں دھرنے کی حمایت میں ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے کچہری چوک بلاک کردی۔ کامونکے اور سادھوکی میں مظاہرین نے اسلام آباد آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ بلاک کردی۔ روڈ بلاک ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ڈسکہ میں بھی مظاہرین نے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے شرکا پرکارروائی کے خلاف احتجاجا ریلی نکالی جب کہ رینالہ خورد میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے شرکا نے نیشنل ہائی وے ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اس کے علاوہ دھرنا شرکا کے احتجاج کی وجہ سے موٹر وے ایم ٹو چکری، اسلام آباد ٹول پلازہ بند کردیا گیا۔ جب کہ گوجرانوالہ میں مظاہرین نے پنڈی بائی پاس بلاک کردیاجس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سا منا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ‘تحریک لبیک یارسول اللہ’کے دھرنے کو 20 روز ہوگئے، جسے ختم کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔دھرنے کے شرکا وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر بضد تھے جب کہ حکومت کا مقف ہیکہ سڑکوں پر بیٹھ کر یا دھونس دھاندلی سے کسی سے استعفی نہیں لیا جاسکتا۔