ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کی ٹیکس کے خلاف سپلائی بند کرنے کی دھمکی

137
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیئر مین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان چےئرمین/فاؤنڈر ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ ہمیں ا یل پی جی پر پریمیم بونس، سگنیچر بونس، ریگولیٹری ڈیوٹی اور دیگر لیوی کے نام پر جگا ٹیکس منظور نہیں،ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے ایک اہم اجلاس میں ان سب ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا گیا ، قیمت بڑھانے کے ساتھ مجسٹریٹ گردی، اسپیشل برانچ کی غنڈہ گردی، سول ڈیفنس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی من مانیوں کے خلاف 9دسمبر،2017کو پورے پاکستان (خیبر سے کراچی تک)ایل پی جی کی سپلائی بند کی جائے گی اور ان سب مسائل کے حل کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس معصوم جانوں کے ضیاع کے روک تھام کے لیے گوجرانوالہ میں موجود 400 سے زائد غیر میعاری سلنڈر بنانے والے کارخانوں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کوپورے پنجاب میں بلا جواز تنگ کر رہی ہے۔سردیوں میں قدرتی گیس میں کمی آنے کے باعث ایل پی جی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، ایسے میں عوام کو سستی گیس فراہم کرنے کے بجائے ایل پی جی مافیا قیمت بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے فیصلوں کے باعث ایل پی جی 100 روپے فی کلو پر دستیاب رہی ہے اور ا نہی کے فیصلو ں کی بدولت ایل پی جی کی بلا تعطل درآمد جاری رہی ہے جس کی وجہ سے 3500 روپے پر بکنے والا گھریلو سلنڈر آج 1150روپے پر دستیاب ہے جبکہ گزشتہ 4سالوں میں ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کی تعداد144 ہو گئی ہے اور ایل پی جی کی درآمد میں بڑا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بلیک مارکیٹنگ کر کے گیس بیچنے والے مافیا کا خاتمہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ2014ء میں 502232میٹرک ٹن کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے62117میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی گئی جو کہ 2015ء میں بڑھ کر 875087 میٹرک ٹن کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے245578میٹرک ٹن درآمد کی گئی۔ 2016 ء میں 1164706 میٹرک ٹن کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے 513788میٹرک ٹن درآمد کی گئی اور 2017ء کے 9ماہ میں 852547 میٹرک ٹن کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے 331830میٹرک ٹن ایل پی جی درآمدکی جا چکی ہے جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔حکومت پاکستان کے فیصلوں کی بدولت ملک بھر میں نئے ایل پی جی فلنگ پلانٹ کا وجود عمل میں آرہا ہے ،یومیہ کھپت 4500 میٹرک ٹن جس کو پورا کرنے کے لیے2500 میٹرک ٹن ایل پی جی درآمدکرنا پڑتی ہے،30ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس مقامی ایل پی جی کوٹہ موجود ہے جبکہ144میں سے 114ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کادارومدار صرف درآمدی ایل پی جی پرہے ۔
انہوں نے بتایا کہ درآمدی ایل پی جی پر لگنے والا ٹیکس پوری ایل پی جی انڈسٹری کی تباہی کا باعث ہو گا اور ایل پی جی کی درآمد بند ہونے سے ایل پی جی قیمت آسمانوں سے باتیں کریں گی جس کے بعد قیمت 300روپے فی کلو سے تجاوز کر جائے گی اور گھریلو سلنڈر 3500 روپے پر دستیاب ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ درآمدی ایل پی جی پر ریگولیٹری ڈیوٹی حکومت اور وزارت پٹرولیم کی ایل پی جی صارفین کو 895 روپے سلنڈر فروخت کرنے کی کوشش ناکام بنانے کی سازش ہے ۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال سے ملاقات میں عرفان کھوکھر نے کہا کہ سندھ جیسے طریقے سے پورے پنجاب اور پاکستان سے بھی پولیس کی مداخلت ختم کر دینی چاہیے۔