تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف احتجاج کرنے والی خواتین اساتذہ پر لاٹھی چارج

607
کراچی:سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والی ٹیچرز کو گرفتار کرکے لے جایا جارہاہے
کراچی:سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والی ٹیچرز کو گرفتار کرکے لے جایا جارہاہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سال 2012 میں محکمہ ایجوکیشن میں بھرتی ہونے والے اساتذہ نے تنخواہوں کے اجراء کیلیے کراچی پریس کلب پر احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی تاہم سندھ اسمبلی کے قریب سے وزیراعلی ہاؤس کی جانب پیش قدمی کرنے پر پولیس احتجاجی اساتذہ پر ٹوٹ پڑی، تشدد سے درجن بھر خواتین اور مرد اساتذہ زخمی ہوگئے، پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا، احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی کے جھنڈے بھی نذرِ آتش کیے گئے اور گو زرداری گو، گو بلاول گو کے نعرے بھی لگائے گئے۔ ایم کیو ایم اراکین اسمبلی کے 4 رکنی وفد نے احتجاجی اساتذہ کو اپنے بھرپورتعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب حراست میں لیے گئے اساتذہ اور 80 سے زائد نامعلوم مشتعل افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمے میں نامزد5 اساتذہ میں افضل کوریجو، ملک محمد، ظہیر بلوچ اور ابوبکر شامل ہیں جبکہ آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ نے 15 خواتین اساتذہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 2012ء سے اب تک تنخواہوں سے محروم کراچی، خیر پور، سکھر، نو شہروفیروز، گھوٹکی، سانگھڑ اور مٹیاری کے اساتذہ نے تنخواہوں کے اجراء کیلیے جمعرات کے روز کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ اساتذہ نے سندھ اسمبلی کی جانب پیش قدمی کی تو پولیس کی بھاری نفری نے آرٹس کونسل کے قریب واقع فوارہ چوک پر اساتذہ کو روک دیا، تاہم شام 5 بجے اساتذہ نے سندھ اسمبلی سے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا اور لاٹھی چارج کیا جس سے اساتذہ زخمی ہوگئے۔ کئی اساتذہ کو گرفتار کرکے انہیں ویمن اور پریڈی تھانے منتقل کر دیا گیا۔ مشتعل اساتذہ کی جانب سے پیپلز پارٹی کا جھنڈا بھی نذرِ آتش کیا گیا اور’’پیپلز پارٹی مردہ باد، روٹی کپڑا اور مکان کے کھوکھلے نعرے بندکرو، خواتین کی بے حرمتی کرنا پیپلز پارٹی کا وتیرا بن چکا ہے کی‘‘ نعرے بازی کی گئی۔ قبل ازیں کراچی پریس کلب پر احتجاج کے دوران نیو ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ابوبکر ابڑو اور ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ظہیر احمد بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں تدریسی و غیر تدریسی ملازمتوں پر قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر بھرتیاں کی گئیں اس دوران کراچی، خیر پور، سکھر، نو شہروفیروز، گھوٹکی، سانگھڑ اور مٹیاری کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں جبکہ کچھ اضلاع میں جاری کرنے کے بعد روک دی گئیں۔ کئی مرتبہ اسکروٹنی، انکوائری اور تمام لیٹر بمع ثبوتوں کے جمع کرانے کے باوجود تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق سیکرٹری ایجوکیشن عبدالعزیز عقیلی نے 2 ماہ میں تنخواہیں جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی مدت 15 نومبر کو ختم ہوگئی، اب ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، کو چیئرمین آصف زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کی تنخواہیں فوری جاری کی جائیں۔