جدید طبی تحقیق

290

کیلے کا چھلکا اور اس میں پوشیدہ فوائد

چین میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کیلے کے چھلکے میں سیروٹونن ہارمون کی انسانی جسم میں سطح کو برقرار رکھنے کی خصوصیات موجود ہیں۔واضح رہے کہ یہ ہارمون خوش رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے ایسے لوگ جن میں اس ہارمون کی کمی ہوجاتی ہے وہ بلاوجہ اْداس، مایوس اور پریشان رہنے لگتے ہیں۔

4
کیلے کے چھلکوں میں بھرپور غذائیت اور نشاستہ ہوتے ہیں۔ اس میں حیاتین بی -6، بی -12، میگنیشیم کاربوہائیڈریٹ، اینٹی آکسیڈینٹ، پوٹاشیم اور مینگنیز جیسے بھرپور غذائی مادّے موجود ہوتے ہیں جو غذا کے جزوِبدن بننے کے لیے انتہائی مفید ہیں۔
ماہرین کے مطابق کیلے کے چھلکے کو پیس کر اس کا آمیزہ درد کی جگہ 15 منٹ تک لگائے رکھنے سے سر درد دور ہوسکتا ہے۔ دراصل سر کے درد کا سبب خون کی شریانوں میں پیدا ہونے والا تناؤ ہوتا ہے اور کیلے کے چھلکے میں موجود میگنیشیم شریانوں میں سرائیت کرکے درد کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کیلے کے چھلکے کو روزانہ دانتوں پر رگڑنے سے ان میں چمک پیدا ہوتی ہے کیونکہ اس میں موجود پوٹاشیم، میگنیشیم اور مینگنیز دانتوں پر جمے پیلے پن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ باقاعدگی کے ساتھ یہ عمل کیا جائے تو کچھ دنوں میں دانتوں میں قدرتی چمک آ جاتی ہے۔ دن میں دو بار کیلے کے چھلکے دانتوں پر رگڑنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
پیروں یا ہاتھوں میں مسّے نکل آئیں تو ان پر کیلے کے چھلکے رگڑنے اور رات بھر ایسے ہی چھوڑ دینے سے دوبارہ اس جگہ پر مسّے نہیں نکلتے۔
چہرے کے مہاسوں پر چھلکے کو مسل کر 5 منٹ تک لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیلے کے چھلکے جلد میں پانی کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔
مچھلی کھائیے! قوت سماعت بڑھائیے

4-1

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو خواتین باقاعدگی سے مچھلی کھاتی ہیں ان میں مچھلی کم یا بالکل نہ کھانے والی خواتین کی نسبت قوت سماعت میں کمی کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ مچھلی میں شامل چربی دار تیزاب کان کے اندرونی حصوں میں خون کی بہتر گردش میں مدد دیتے ہیں۔ تحقیق میں کہاگیاکہ کان کے اندرونی حصے میں خون کی اچھی طرح گردش ہونی چاہیے اور مچھلی کا زیادہ استعمال خون کے بہتر بہا ؤ میں مددگار ثابت ہوسکتاہے جو کہ قوت سماعت میں کمی سے بچانے میں مدددے سکتاہے۔
رات دیر سے کھانا جسم کے
میٹا بولزم کونقصان پہنچاتا ہے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دن کے 24 گھنٹوں میں سے آدھے دن کا کھانا پینا اور باقی آدھے دن کا روزہ آپ کے وزن کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ ایسے لوگ جو ڈائٹنگ کرکے وزن گھٹانے کی امید کرتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے دن بھر کی کیلوریز کا حساب کتاب رکھنے کے ساتھ گھڑی کی سوئیوں پر بھی نظریں رکھا کریں کیونکہ شام ڈھلنے کے بعد کھانا وزن میں اضافہ کر سکتا ہے۔
امریکی محققین کے مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ ہر روز آدھے دن یا محدود گھنٹوں کے اندر کھانا ہمارے جسم میں چربی جلانے کے قدرتی نظام کو آن کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ’سالک انسٹیٹیوٹ‘ سے منسلک تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ساچی ڈینینڈا پانڈا کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق کا نتیجہ ان پچھلے مطالعوں کے نتائج کی توثیق کرتا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ رات میں دیر سے کھانا وزن میں اضافے کا ایک سبب ہے۔مطالعے کی مصنف امینڈین چائے نے کہا ہے کہ ہمارے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 12 گھنٹے کے لیے بھوکا رہنا وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم ہے اور بارہ گھنٹے بھوکا رہنا کولیسٹرول، ذیابیطس اور موٹاپے سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔
پرفیسر پانڈا کے لیبارٹری معاون محقق نے کہا کہ ان دنوں لوگوں کو سب سے زیادہ مشورہ صحت مند غذا کھانے کا دیا جاتا ہے لیکن بہت سے لوگ صحت مندا غذا تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا بغیر صحت مند غذا کے ساتھ بھی ایسے لوگ محدود گھنٹوں میں کھانے کی مشق سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔آدھے دن بھوکا رہنے کی ڈائیٹ کے اثرات ہر قسم کی خوراک کے ساتھ تھے۔ بلکہ تعجب کی بات یہ تھی کہ ہفتے کے آخری 2 دنوں میں رات میں جی بھر کر کھانے کے باوجود اس فارمولا ڈائیٹ کے اثرات ضائع نہیں ہوئے۔ یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ پورے ہفتے میں صرف ویک اینڈ پر رات کا کھانا اتنا نقصان نہیں پہنچاتا لیکن ہر روز رات میں دیر سے کھانا جسم کے میٹا بولزم کو نقصان پہنچاتا ہے۔