حکومت کا نکنوں کو کو غلامی سے نجات دلائے،

217
قموس گل
خٹک
کانکنی کے سیکٹر میں کام کرنے والے محنت کشوں کو آج بھی غیر انسانی مشکلات درپیش ہیں وہ جن حالات میں اپنے قومی فرائض انجام دیتے ہیں شہری علاقوں کی صنعتوں میں کام کرنے والے مزدور ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ گلوبلائیزیشن نے دنیا کویکسر تبدیل کرکے ایک گاؤں اور ایک منڈی میں تبدیل کردیا۔ صنعتی‘ سائنسی ترقی اور آئی ایل او کنونشن نے محنت کشوں کے بنیادی حقوق اور محنت کے معیار کو اُجاگر کیا مگر ہمارے ملک میں کانکنی کی صنعت اور کارکنوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے دور غلامی کا مائینز ایکٹ1923رائج رہاہے۔ نہ دنیا کی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں مثبت تبدیلی کی گئی اور نہ عوام کے منتخب نمائندوں نے اس سیکٹر کے مزدوروں کیلئے کبھی آواز اٹھائی ۔ اس کے برعکس جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں نام نہاد منتخب وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ کے بجائے فنانس بل کے ذریعے لیبر قوانین میں جو ترمیمات کیں تھیں اس میں ای او بی آئی سے پنشن کے حصول کیلئے کانکنوں کے لیے ملازمت کی میعاد دس سال سے بڑھاکر شہری صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے برابر پندرہ سال کردی گئی تھی۔ جب کہ کانکنی کی انڈسٹری میں پندرہ سال تک کام کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ فنانس بل کے ذریعے کی گئی ترمیمات کے خلاف ایمپلائر فیڈریشن پاکستان نے سندھ اور پنجاب ہائی کورٹس سے رجوع کیا جس پر دونوں عدالتوں نے ان ترمیمات کوآئین کے خلاف قرار دے کر منسوخ کیا اور ای او بی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل بھی عدالت عظمیٰ نے خارج کرکے ہائی کورٹس کے فیصلے کو بحال رکھا۔ ای او بی آئی نے پھر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست داخل کی جس پر کوئی اسٹے آرڈر نہیں ملا۔ اس طرح ہائی کورٹس کے فیصلے پر عمل کرنا لازمی ہوجاتاہے مگر ای او بی آئی میں پھر بھی کانکنوں کے لیے 15سال سروس کی شرط بحال ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم چھوٹے صوبوں کی عوام کے لیے تاریخی خوشخبری سے کم نہ تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ اس آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے سطح پر بننے والے لیبر قوانین جدید صنعتی تقاضوں اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بنائے جائیں گے۔ مگر نئے صوبائی قوانین بھی پرانے قوانین کو سامنے رکھ کر ان کی کاپی کی گئی بلکہ یہ نئے صوبائی قوانین پہلے والے قانون کا چربہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی پارٹیاں عملاً مزدور طبقے کے حقوق کی حمایت نہیں کرتی جس کی وجہ سے جمہوریت کی بحال کے باوجود آج دن تک محنت کشوں کی فلاح وبہبود کے لیے نئے قوانین نہیں بن سکے اور نہ اس کی اُمید کی جاسکتی ہے ۔
کئی علاقوں میں کانکنی کی صنعت میں مائیننگ حادثات میں جان بحق کارکنوں کے وارثوں کو معاوضہ موت اور سرکاری چھٹی کے پیسے تک نہیں ملتے ایسی صورت حال میں کانکن دوسرے قانونی سہولیات کا تصور کیسے کر سکتے ہیں؟
منتخب حکومت بھی جمہوری طرز عمل کی عکاس نہیں ہوتی بلکہ عام طورپر وہ حکمران جماعت اور طاقتور قوتوں کے نمائندگی کرنے تک خود کو محدود رکھتی ہے کبھی پارلیمنٹ میں مزدوروں پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف یا کم از کم اُجرت پر عملدرآمد کرانے، مزدوروں کو کارخانوں میں تقرری کا آرڈنہ ملنے، ٹھیکیداری سسٹم کے حوالے سے کارکنوں کو تمام قانونی حقوق سے محروم رکھنے، مائیننگ انڈسٹری میں عدم تحفظ کی وجہ سے حادثات میں کانکنوں کے اموات پر کوئی تحریک یا قرار داد پیش نہیں ہوتی۔ اسی سیاسی کلچر کی وجہ سے معدنیات کے وسائل پر طاقتور یا حکمرانوں کے گماشتوں کا قبضہ ہے جوپیشہ اور سوچ کے لحاظ سے سرمایہ دار اور تمام معاملات میں خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ آئین میں انجمن سازی کا حق ہونے کے باوجود عملی طورپر یہ حق مزدوروں کو حاصل نہیں ہے۔ بعض مائینز اونر ز تویہاں تک کہتے ہیں کہ ہم یونین کے نام پر مزدوروں کے مطالبات ماننے کو ایسا سمجھتے ہیں کہ جیسے پیر کی جوتی کو سرپر رکھا جائے اور اس کو اپنی توہین قرار دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہر سطح پر حکومتی اداروں کی حمایت حاصل رہتی ہے یہی بنیادی محرکات ہیں کہ مائیننگ انڈسٹری میں مائینز ایکٹ کے تحت سیفٹی کے قوانین پر عملدرآمد کے ذمہ دار بیورو کریٹ طاقتور لوگوں کے سامنے بے بس ہوکر ان کے غیر قانونی اقدامات کا تحفظ کرتے ہیں اور سیفٹی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے روزی کمانے کی خاطر کانکن ایسے خطرناک مائینوں میں بھی کام کرتے ہیں جنہیں موت کا کنواں کہا جاسکتا ہے اور مائینز ایکٹ کے سیکشن 19کے تحت خطرناک مائینوں کی درستگتی کرنے تک چیف انسپکٹر آف مائینز کومائینز بند کرنا چاہیے تاکہ کانکنوں کی زندگیاں بچائی جاسکے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے بلوچستان میں خاص طورپر اور سندھ میں بھی مائیننگ حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ زندگی اور موت بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر یہ اموات سیفٹی کے قوانین پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ان المناک واقعات کا نوٹس نہ عدلیہ لیتی ہے اور متعلقہ صوبائی حکومت؟
ایک طرف تو مائیننگ حادثات میں کانکنان کی اموات تو دوسری جانب ملک کے بعض علاقوں میں تو مرنے والے بیواؤں اور قانونی وارثوں کو موت کا معاضہ تک نہیں دیا جاتا اور سال 2012سے صنعتی کارکنوں بشمول مائیننگ حادثات میں مرنے والوں کے وارثوں کو ڈیتھ گرانٹ نہیں ملی۔ صرف حیدر آباد ریجن میں تین سو سے زائد کلیم پڑے ہیں جن پر حکومتی بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ابتدائی کارروائی بھی نہیں کی گئی اور نہ اس کی توقع ہے کتنی شرم کی بات ہے کہ یہ ڈیتھ گرانٹ آمرانہ دور میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر مل جاتی تھی۔ جواب 5سال سے نہیں ملی کیوں کہ جمہوریت ہے؟ جب کہ ڈیتھ گرانٹ جہیز گرانٹ اسکالر شپ اور تمام ویلفیئر اسکیموں کا فنڈ کارخانے دار ار مائینز اونر فراہم کرتے ہیں اور سہ فریقی اداروں میں اصل اسٹیک ہولڈر ایمپلائر اور ورکرز کی نمائندگی کو جعلی نامزدگیوں کے ذریعے ختم کردیا گیا تاکہ بورڈ یا گورننگ باڈی میں صرف ہاں میں ہاں ملانے والے بیٹھے ہوں ۔
ویلفیئر اسکیموں سے فوائد کے حصول کے لیے ای او بی آئی یا سوشل سیکورٹی سے رجسٹریشن نہ ہونے پر کارکنوں کو تمام سہولیات سے محروم رکھنا غیر قانونی اور حقائق کے خلاف ہے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے 136ویں گورننگ باڈی کے اجلاس میں میری تحریک پر ایسے شرائط ختم کرنے کا فیصلہ توہوگیا مگر آج تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ اس کو مختلف طریقوں سے لٹکایا جارہاہے۔ حالاں کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ ای او بی آئی اور سوشل سیکورٹی کے اداروں نے اب تک تعداد کے لحاظ سے 15فی صد مزدوروں کو رجسٹرڈ کیا ہوگا۔ بقیہ 85 فی صد کو کس گناہ کی سزادی جائے گی۔ جب کہ بلدیہ فیکٹری کراچی اور بحری جہاز کے المناک واقعات میں لقمہ اجل بننے والے سیکڑوں افراد میں ایک بھی ان اداروں سے رجسٹرڈ نہ تھا۔ ان واقعات کا میڈیا پر چرچا ہونے کے باوجود ای او بی آئی، سوشل سیکورٹی اور محکمہ محنت کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی
کارروائی نہ ہوئی پھر بھی یہ شرمناک اور ناقابل عمل شرائط برقرار ہیں اور حکومت کی جانب سے مزدور دوستی کے نعرے بھی برقرار ہیں۔ سندھ میں مائیننگ انڈسٹری کو تو عملاً بطور انڈسٹری تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ دو اہم معاملات سیفٹی اور ہیلتھ کو دو وزارتوں میں تقسیم کیا گیا۔ سیفٹی کو وزارت معدنیات سے اور ہیلتھ کو وزارت محنت سے منسلک کیا گیا تاکہ دونوں میں سے ایک پر بھی عملدرآمد نہ ہو۔ 2015 میں مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن نے پورے بجٹ میں کانکنوں کی ہیلتھ کا بجٹ سوشل سیکورٹی کے دو ڈاکٹروں کے ذریعے خرد بردکیا جس کے خلاف مسلسل شکایات اور دباؤکے بعد کمشنر سوشل سیکورٹی نے اپنے ادارے کے تین افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائی اور انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ میڈیسن کے لیے سالانہ بجٹ میں سے ایک روپے کی میڈیسن بھی نہیں خریدی گئی بلکہ 2ڈاکٹروں نے اس کو جعلی کارروائی کے ذریعے ہڑپ کیا اس رپورٹ کو کمشنر سوشل سیکورٹی نے ردی کی ٹوکری میں ڈال رکھا ہے کیوں کہ خرد برد کی رقم اوپر تک تقسیم ہوئی ہوگی۔ البتہ سعیدغنی کے مشیر بننے کے بعد کچھ حالات درست ہونے لگے تھے مگر وہ خود بھی برقرار نہ رہ سکے۔ اس سال کانکنوں کے لیے میڈیسن بجٹ کے مطابق فراہم کیے گئے جو کم از کم چھ ماہ چل جائیں گے، اس کے بعد لاکھڑا کے اسپتال کو متحدہ لیبر فیڈریشن کے فنڈ سے چلایا جائے گا اس سال یہ اسپتال کے لیے فرنیچر اور دیگر مطلوبہ سامان بھی فراہم کیا گیا۔ یہ حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے لکھنا
ضروری تھا۔ مگر مائینز لیبر ویلفیئر بورڈ کو 10 سال سے ردی کی ٹوکری میں ڈال کر اس ادارے کو شخصی طورپر چلایا جارہاہے جو کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے۔ کانکنوں کے ساتھ ہر سطح پر غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک کے نتیجے میں کہا جاسکتا ہے کہ دُنیا بدل گئی مگر کانکنوں کے حالات غلامانہ دور سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ ہم مائیننگ حادثات میں مرنے والوں کو سات لاکھ روپے معاوضہ تو دلوا سکیں ہیں مگر ان کی زندگی بچانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور انسان کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم مائیننگ انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے حادثات، بھتا خوری اور طاقتور لوگوں کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ٹریڈ یونین تنظیموں کے ذریعے مشترکہ جدوجہد کاراستہ اختیار کریں۔