بچوں کا عالمی دن

599

فریال احمد

جب ہم اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کو سمجھتے اور جانتے ہیں تو ایک بات بہت واضح نظر آتی ہے کہ ہمارے دین میں سب سے جاندار کردار عورت کا نظر آتا ہے ۔ اسلامی تاریخ کے ہر روشن دور میں مسلم خواتین نے کئی کئی محاذ سنبھالے ۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی تنظیم کوئی تحریک کوئی ملک اپنی ترقی کے عروج تک نہیں جب تک اس ملک کی 50% آبادی اپنا مثبت کردار ادا کرے چونکہ عورت کا کردار گھر اور گھر سے باہر ہر دور ہر زمانے میں رہا ہے تو اسلام گھر اور گھر سے باہر ہر دور اور ہر زمانے میں رہا ہے تو اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو گھر اور چار دیواری کے لئے کچھ اصول و ضوابط مقرر کردیئے اور پھر انہیں ان کا پابند بنادیا ہے ۔
بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور ماں کی گود کو بچے کی اولین درس گاہ بجا طور پر کہا جاتا ہے ۔ نپولین بونا پارٹ نے درست ہی کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا بچے کی سیرت اور اس کے کردار میں ماں کا بڑا ہاتھ ہے ۔
’’ماں‘‘ بظاہر تین حرفی لفظ ہے مگر محبت و خلوص، ایثار و قربانی، رحمت و شفقت، بے نیازی، خلوص اور خاکساری کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے ۔ ماں ایک ایسا سائبان ہے جو سورج کی تیز و تند شعاعوں، بارش کے بے رحم تھپیڑوں اور آندھی کے بے لگام جھونکوں کو اپنے سینے میں دفن کرلیتی ہے کیونکہ کسی قسم کے لالچ کے بغیر، کسی صلہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے بچے کو اپنا خون جگر پلاتی ہے اپنے منہ کا نوالہ چھین کر بچے کے منہ میں ڈالتی ہے ۔
بچوں کی خاطر ماں اوڑھنی کو، بابا پگڑی کو بیچ ڈالے کیا عیش لوٹتے ہیں معصوم بھولے بھالے
اسلام دین فطرت ہے جس نے ہر ذی روح کے حقوق و فرائض کا تعین کرکے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ حقوق العباد میں کوتاہی اور غفلت نہ برتیں تاکہ معاشرے میں عدل و انصاف قائم رہے ۔ اسی طرح اللہ نے اولاد کے حقوق کا بھی تعین کردیا ہے جوکہ نومولود کے پیدا ہوتے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔ نومولود کا پہلا حق جو اس کے والدین کے ذمہ ہے وہ اس کی زندگی اور جان کا تحفظ ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہورہا ہے :
’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے ‘‘۔
(بنی اسرائیل: 31)
پھر بچوں کے بنیادی حقوق ان کے نام رکھنے سے لے کر عقیقہ، تعلیم و تربیت، پرورش، شادی اور وراثت تک کے مسائل ہیں۔ جن کے بارے میں ہمارے دین نے ساری راہنمائی فرمادی ہے ۔
گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی سائنسی ترقی نے انسانی شعور کی بہت سی طلسماتی اور تصوراتی کہانیوں کو اب سادہ حقیقتوں میں بدل کر رکھ دیا ہے یہ دستور زمانہ ہے اور ایک لافانی حقیقت کہ دنیا کی سبھی قوموں کا قیمتی سرمایہ بچے ہوا کرتے ہیں مگر آج اس وقت وہ گود کا کھلونا ہیں تو آگے چل کر یہی بچے مستقل کے معمار بنیں گے اور وہ زندگی گزارنے کے سلیقے ڈھنگ طور طریقے سیکھ کر معاشرے کا حصہ بنیں گے اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کی تربیت اس طرز پر کی جائے کہ ان کے رگ و ریشہ میں دین کی روح پھونک دی جائے ۔ اس کا آغاز ماں کی گود سے کیا جائے اور ماں خود صفات کاملہ کی حامل ہو اس لئے کہ بچے جیسے ماں کو دیکھتے ہیں ویسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا اسی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر ایک ماں مثالی ماں تبھی بنتی ہے جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو اسلامی اصول اور قوانین کے مطابق نبھائے کیونکہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

ماں اپنے خاندان کی روح رواں ہوتی ہے اسی کے وجود سے گھر کا نظام قائم رہتا ہے اس کے بعد والد اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ لہذا والدین کی طرف سے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی ہوگی تو خاندان کی ساکھ بھرم اور نظم و ضبط کو قائم دیکھا جاسکتا ہے اسی صورت میں خاندان کا ہر فرد برا وقت پڑنے پر یا کسی اور آزمائش کے وقت ثابت قدمی سے جم کر صورت حال کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔
بے جالاڈ پیار بعض اوقات بچوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور ان کے مستقبل کو تاریک بھی کرسکتا ہے ۔ اس کی وجہ موقع محل کی پہچان اور عدم پہچان ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کی حرکات و سکنات اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کا پسندیدہ مضمون کیا ہے ؟ کھیل کون سا پسند ہے ؟ فارغ وقت میں بچہ کیا کرتا ہے ؟ والدین کے ساتھ اس کا تعلق کیسا ہے ؟ بہترین تربیت کے حوالے سے بچے کی عمر کے لحاظ سے والدین کو باہم مشاورت ضرور کرنی چاہئے ۔
ہر بچے کی تمنا ہوتی ہے کہ گھر میں اس کی ممتاز حیثیت ہو۔ اس کا اپنے گھر میں نمایاں مقام ہو۔ اس تقاضے کے تحت وہ مشکل سے مشکل کام بھی سرانجام دے لیتا ہے ۔ جیسے جیسے بچے کا شعور پختہ ہوتا ہے اس میں عزت نفس اور خودداری کا احساس بڑھتا جاتا ہے ۔ قدرت نے تمام انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔ اس لئے ہر بچہ اپنی انفرادیت کا خواہاں ہوتا ہے ۔ بچے کی خودداری اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متناسب اور متوازن رویہ اختیار کریں نہ اس قدر آزادی دیں کہ بچہ شرم و حیاء اور ذمہ داریوں کا احساس نہ کرے اور نہ ہی اتنا دبایا جائے کہ وہ دیواریں پھلانگنے پر مجبور ہوجائے ۔
عقل مند والدین اپنی اولاد کی تربیت پر نظر رکھتے ہیں ان کو اچھا انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں حسن خوبی اور سلیقہ سے پیارو محبت سے تربیت کرتے ہیں بچوں کی تربیت کا مرحلہ اتنا ہے ہم ہے کہ اس کی ابتدا ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوجاتی ہے ۔ جس قسم کے نظریات و خیالات اور رحجانات ماں کے ہوں گے وہی خیالات لے کر بچہ دنیا میں آتا ہے ۔ بحر حال یہ بات ضرور ہے کہ بچپن سے والدین کو چاہئے کہ بچوں کے لئے دعا مانگنے کا بھی اہتمام کریں۔ ان کی بہتر تعلیم و تربیت کے لئے اچھے رشتوں کے لئے ان کی روزی میں برکت کے لئے زندگی میں محبت و عافیت کے لئے ضرور دعامانگیں کیونکہ بچے والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوتے ہیں۔
حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک گھر ایسا ہے جسے دارالفرح یعنی خوشیوں کا گھر کہا جاتا ہے اس میں وہ لوگ داخل ہونگے جو بچوں کو خوش رکھتے ہیں۔
قارئین محترم! اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بچوں کا خوش رکھنا اللہ کی رضا مندی کا سبب بھی ہے ۔ بچوں کو خوش رکھنے کے کئی طریقے ہیں مثلاً ان کے ساتھ کھیل میں شامل ہونا۔ ان کی جائز او رمعصوم خواہشات کا احترام کرنا۔ اچھے اخلاق اور خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ یاد رکھئے کہ بچوں کی تعلیم بڑے سکولوں میں داخلہ دلوادینا اور ٹیوشن کی بھاری بھاری فیسیں ادا کردینا کافی نہیں ہے بلکہ تعلیم محبت، ہمدردی، سچائی، خدمت خلق، تہذیب اور ادب سکھانے کا نام ہے ۔
پیارے آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے اس لئے ہر شخص یہ دیکھ لے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے ۔ بچے جب سن شعور کو پہنچیں ان کے لئے نیک اور سمجھدار دوستوں کا انتخاب کریں جو انہیں دین کی حقیقت سمجھائیں اور ایسی بنیادی باتیں سکھائیں جو ہر چیز پر محیط ہوں۔
ہمارے پاکستانی معاشرے میں بچوں کو شرعی مسائل کی تعلیم کے حوالے سے اہم بات ہے کہ والدین اپنی شرم و حیا کی وجہ سے ان کو ضروری شرعی مسائل تک سے ناواقف رکھتے ہیں لہذا ہونا یوں چاہئے کہ جیسے ہی والدین محسوس کریں کہ اولاد بالغ ہونے کے قریب ہے ان میں دینی و شرعی مسائل سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے تو وہ انہیں نہایت پیارو حکمت سے ضروری باتیں سمجھادیں۔
وضو کے ذریعے پاک و صاف ہونے کا تصور سمجھایا جائے ۔ بچوں کو بول کر نماز پڑھ کر سکھائی جائے ۔ نماز سے متعلق واقعات اور کہانیاں سنائی جائیں۔ احادیث اور قرآنی آیات یاد کرائی جائیں۔ کلمے دعائیں زبانی یاد کرائی جائیں۔نعت پڑھنے کا شوق پیدا کیا جائے ۔ گروپ بناکر بچوں سے نعتیں سنی جائیں۔ نعت کے کلچر سے بچوں کے معصوم ذہنوں سے پراگندگی اور کنفیوژن دور کی جائے ۔ ان کے دلوں میں پیارے آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و ادب اور عظمت کا تصور راسخ کیا جائے اور تقریر کی صلاحیت بھی پید اکی جائے ۔
بالخصوص علم سے محبت ہوگی تو احساس جنم لے گا۔ اس کے ساتھ جسمانی اور روحانی تربیت ان خطوط پر کی جائے کہ بچوں کے سامنے عملی کردار کا مظاہرہ کیا جائے ۔ انہیں جدید علوم سکھائے جائیں اور ادب کی چاشنی سے روشناس کرایا جائے ۔ قومی زبان کی حلاوت سے واقف کرائیں۔ ملک و قوم سے محبت کا درس دیں اور ایسا علم دیں جو زندگی کے قرینے سکھائے ۔

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے