جسم میں تکالیف کا ظاہر نہ ہونا شوگر کی بدترین کیفیت ہے‘ ڈاکٹر عبدالباسط

995

خطرناک مرض کی علامات میں ہارٹ اٹیک کی صورت میں سینے میں درد نہیں ہوتا، آنکھ میں خون اتر رہا ہو تو تکلیف محسوس نہیں ہوتی

تشخیص کے بعد غذا اور علاج پر توجہ، ورزش کا اہتمام، ادویات کی باقاعدگی اور معالج کی رہنمائی سے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے

بقائی یونیورسٹی اسپتال میں شعبہ ذیابیطس سے وابستہ، انٹرنیشنل ڈائبیٹک فیڈریشن کی مقامی کونسل کے رکن سے خصوصی بات چیتانٹر ویو: جہانگیر سید

ڈاکٹر عبد الباسط بقائی یونیورسٹی اسپتال میں شعبہ ذیابیطس سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔ تمام عمر صرف اسپتال میں ہی او پی ڈی کی ہے اور زیادہ تر وقت تحقیقی و تدریسی سرگرمیوں میں لگاتے ہیں۔ انٹرنیشنل ڈائبیٹک فیڈریشن کی مقامی کونسل کے رکن ہونے کے ساتھ ذیابیطس سے متاثرہ پیروں کی بحالی کے لیے پاکستان ورکنگ گروپ کے چیئرمین بھی ہیں اور بقائی اسپتال کے اس شعبے کے تحت شوگر کے اُن مریضوں کے خصوصی جوتے ، چپل اور سینڈل بھی تیار کر تے ہیں جو کہ خاص اُن کے پیروں کو آرام اور سہولت دینے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں ۔ اس کے لیے ایک پوری سائنٹیفک لیبارٹری بنائی گئی ہے ۔
اس کے علاوہ جرنل آف ڈائیباٹولوجی کے مدیر بھی ہیں۔ شوگر کے عالمی دن کے موقع پرہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں ملک کے مایہ ناز ماہر ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر عبد الباسط سے گفتگو کا موقع ملا۔ شوگر کے مرض کے حوالے سے اُن کے ساتھ ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

dr-abdul-basit1
سوال: ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ کیا شوگر کے مرض کا خاتمہ ممکن ہے ؟ کیا ہم اس سے بچ سکتے ہیں ؟
ڈاکٹر عبد الباسط: اب تک کی تحقیق تو یہی بتاتی ہے کہ جسے ایک بار شوگر کا مرض ہو جائے تو پھر یہ ختم نہیں ہو سکتا۔یہ مرض خاموشی سے مریض کو اندر ہی اندر گھلانا شروع کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ موت کی جانب لے جاتا ہے۔ اس لیے احتیاط بہت ضروری ہے جو کہ اسے قابو میں رکھنے کا کام کرتی ہے۔ اس کے مریض کو اگر ہارٹ اٹیک ہوگا تو عموماً سینے میں درد نہیں ہوگا، بینائی جارہی ہوگی یا آنکھ میں خون اتر رہا ہوگا تو اس کو آنکھ میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔ گردے خراب ہورہے ہوں گے تو اس مریض کا پیشاب بند نہیں ہوگا، کوئی تکلیف ظاہر نہیں ہوگی۔ یہ اس مرض کی سب سے بدترین کیفیت ہوتی ہے جو آپ کو ہر قسم کے درد سے دور کر دیتی ہے اور آپ جان نہیں پاتے کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے؟ اس لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ اگر آپ اپنے وزن کو بڑھتا محسوس کریں ، آپ کے والدین میں سے کوئی ایک بھی شوگر کے مرض میں مبتلا ہو اور آ پ کی عمر 30 سال ہو چکی ہو تو شوگر کے حوالے سے اپنا چیک اپ ضرور کروائیںیا معالج سے رجوع کریں۔ اگر آپ کو مرض لاحق ہو چکا ہے تو اس کی ادویات پابندی سے استعمال کریں۔ جو شوگر کنٹرول کے اہداف ڈاکٹر بتاتا ہے اُن کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں۔ اچھی خبر اس ضمن میں یہ ہے کہ سائنس کی ترقی کی وجہ سے اب شوگر کے مریض کو ضروری نہیں کہ لازمی طورپر بڑی پیچیدگی ہو۔اس وقت ہزاروں بلکہ لاکھوں مریض دنیا میں ایسے ہیں جو بیسیوں سال بغیر کسی پیچیدگی کے جیتے ہیں۔وہ اس لیے کہ اُن کی بر وقت تشخیص کے بعد اُنہوں نے اپنی غذاٹھیک رکھی ہوتی ہے، وہ متوازن غذا لیتے ہیں۔وہ وزن کے نہ بڑھنے اور گھٹانے کی جانب مکمل نظر رکھتے ہیں۔اپنی واک یا ورزش کا باقاعدگی سے اہتمام کرتے ہیں۔ ادویات مستقل پابندی سے لیتے ہیںاور اپنے معالج سے مستقل رہنمائی لیتے ہیںاس طرح سے وہ برسوں تک مستقل پیچیدگیوں سے بچے رہتے ہیں۔
سوال: اس مرض کے علاج میں انسولین کا کیا کردار ہوتا ہے؟
ڈاکٹر عبد الباسط: شوگر کی ویسے تو کئی اقسام ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کے مطابق بنیادی طور پر ہمارے ہاں دو مشہور اقسام ہیں جو اہم ہیں۔ ایک ٹائپ ون اور ایک ٹائپ ٹو ۔ٹائپ ون وہ ہے کہ جس میں پہلے دن سے انسولین چاہیے ہوتی ہے۔ اس لیے کہ لبلبہ اچانک بے کار ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے انسولین ناگزیر ہوتی ہے ورنہ مریض کا بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ ٹائپ ون کے مریض پاکستان میں بہت کم ہیں۔ ہمارا بڑا مسئلہ ٹائپ ٹو شوگر ہے۔ ٹائپ ٹو ہمارا اس لیے بڑا مسئلہ ہے جس میں انسولین ہمیں اُس طرح جینے کے لیے نہیں چاہیے ہوتی ،البتہ کچھ کیسز میں کنٹرول کے لیے تو چاہیے ہوتی ہے لیکن انسولین کے بغیر بھی مریض زندہ رہیں گے اور 20، 30 برس تک گولیوں سے کنٹرول بھی ہوسکتے ہیں۔ عموماً تجربہ یہ کہتا ہے کہ 5 سے 10 سال کے بعد ان کو بھی انسولین درکار ہوتی ہے لیکن موت اور زندگی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا میں چاہے ٹائپ ون ہو یا ٹو ہو انسولین بہترین علاج ہے۔ ہر مریض انسولین پر آجائے کوئی حرج نہیں اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو ایک بار انسولین پر آجائے واپس ادویات پر نہیں جا سکتے۔ مثلا ً،پاؤں کا زخم ہو گیا تھا ہم نے انسولین پر ڈال دیا، انسولین پر 3 ماہ رکھا اور مریض کا زخم بھر گیا۔ واپس گولیوں کے استعمال پر منتقل کر دیا۔ حمل کے دوران شوگر ہو گیا انسولین پر لے آئے بچہ کی ولادت ہو گئی تو دوبارہ گولیوں پر ڈال دیا۔ آج فالج ہو گیا، ہارٹ اٹیک ہو گیا تو ہم نے انسولین دے دی جب مریض بہتر ہو گیا ، گھر آگیا توہم نے دوائی پر منتقل کر دیا۔ انسولین کی گولی کیوں نہیں بنتی؟ لوگ یہ سوال بہت کرتے ہیں اور جس دن انسولین کی گولی بن جائے لوگ لے لیں گے۔ انسولین سے نہیں ڈرتے ٹیکے سے ڈرتے ہیں۔ انسولین کی گولی اس لیے نہیں بنتی کیونکہ انسولین پروٹین ہے۔ جیسے مرغی یا بکرے کا گوشت، انڈاجو ہم کھاتے ہیں وہ تو ہضم ہوجاتا ہے اسی لیے اگر انسولین کی گولی کھائیں گے تو وہ ہضم ہوجائے گی تو وہ اپنا کام ہی نہیں کرے گی اسی لیے انسولین کی گولی نہیں بن پا رہی اُس کو انجیکٹ کر کے ہی جسم میں اُتارا جاتا ہے۔
سوال: کون سی علامات ظاہر ہونے پر مرض کا ٹیسٹ کرانا چاہیے؟
ڈاکٹر عبد الباسط: ہر شخص کا ہر سال شوگر کا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے۔ خصوصا ان لوگوں کو جن کی فیملی میں کسی کو شوگر ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی تو علامات ہوتی ہیں کہ پیشاب زیادہ آتا ہے، وزن گرے گا، کمزوری ہوگی، بھوک زیادہ لگے گی تو جب جا کر چیک کروائیں گے۔ یہ بہت غلط ہے۔اگر یہ علامات کسی کو ہوجائیں تو اس کا مطلب ہے لبلبہ کو بیمار ہوئے 5، 6 سال گزر چکے ہیں۔ اس لیے اس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ شوگر ٹائپ ٹو ہونے کی نشانیاں نہیں کہلائی جاتی ہیں۔ ٹائپ ٹو ہمارے یہاں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔اس کے بارے میں آگہی دینی بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر اس سے بچاؤ اور روک تھام کے لیے۔ پورے پاکستان میں شماریات کے ذریعے سروے یہ بتاتا ہے کہ 26 فیصد لوگوں کو یہ مرض لاحق ہے۔ ہر چوتھا آدمی 20 سال سے زیادہ کی عمر میں شوگر کا مریض ہے۔اسی طرح پری ڈائبیٹکس جسے ہم کہتے ہیں کہ شوگر تو نہیں ہے لیکن بارڈر پر ہے۔ اگر انہوں نے وزن کم نہیں کیا اور تدابیر نہ کیں تو ان کو بھی ہوجائے گی۔وہ بھی 14فیصد لوگ ہیں۔یوں 40 فیصد لوگ شوگر کے نشانے پر ہیں۔
سوال: ایک مطالعے کے مطابق دنیا میں بھوک کا شکار لوگوں سے زیادہ تعداد موٹاپے کاشکار لوگوں کی ہے؟ اس کے باوجود بھی یہ موضوع سنجیدہ نہیں لیا جاتا؟
ڈاکٹر عبد الباسط: سب سے بڑا مسئلہ جو ہم نے محسوس کیا ہے وہ موٹاپا ہے،تو جتنا وزن بڑھے گا اتنا شوگر کا امکان بڑھے گا۔ اگر ہم آج سے 20، 30 برس پہلے کا ڈیٹا دیکھیں تو عمومی طور پر پاکستان میں موٹاپا ان 20، 30 برسوں میں دگنا سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ وزن بڑھنے کی وجہ سے لبلبہ کمزور ہوتا ہے جو ہمیں شوگر کی طرف لے جاتا ہے۔بچپن سے احتیاط کرنی ہے کہ لبلبہ پر بوجھ نہ پڑے۔سائنس یہ کہتی ہے کہ جب ہم وزن تک پہنچتے ہیں جب بھی تاخیر ہوچکی ہوتی ہے۔تو سب سے اہم ہے بچوں کا وزن دیکھا جائے۔ اس کے لیے سب کی ذمے داری بنتی ہے۔ اسکولوں میں کھیلنے کے لیے ایک گھنٹہ ملتا تھااب وہ کھیلنے والا گھنٹہ بھی پڑھائی پر ہے۔یا کھیلنے کا گھنٹہ کمپیوٹر پر ہے۔ اسکول کے بچوں میں جو موٹاپا آرہا ہے اس میں بھی یہ وجہ ہے کہ بچہ پیدائش کے وقت کس وزن میں پیدا ہوا تھا۔ہمارے پاس دونوں مسائل ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک تو وہ بچے ہیں جو چھوٹے پیدا ہو رہے ہیں۔ان کا پیدائشی وزن کم ہے اور کچھ ایسے بچہ پیدا ہورہے ہیں جن کا پیدائشی وزن زیادہ ہے۔یہ دونوں کو آگے چل کر شوگر ہوجائے گی۔یہ دونوں موٹاپے کا شکار ہوجائیں گے آگے جا کر۔ اب کوشش یہ کرنی ہے کہ بچہ کی پیدائش نارمل وزن میں ہو۔
(باقی صفحہ09پر)
ہمارے لیے نارمل وزن 2.3کلو سے لے کر 3.5 کلوگرام تک ہے اس سے کم وزن والے بچے کو بھی خطرہ ہے اور اس سے زیادہ والے کو بھی خطرہ ہے ۔اس کے لیے دیکھنا ہوگا کہ ماؤں کی خوراک کیسی ہے ان کا وزن کیسا ہے ، پیدا ہونے والے بچوں کی نشوونما کیسی ہورہی ہے۔
سوال: غذاؤں کے حوالے سے کچھ رہنمائی کیجیے جو اس مرض سے بچنے یا اس پر قابو پانے میں مفید ہوں؟
ڈاکٹر عبد الباسط: اس کے لیے ہمیں اللہ کی جانب سے بے شمار نعمتیں میسر ہیں، یہ جو پھل ، سبزیاں ہیں انہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس لیے ہمیں اصل غذاؤں کی جانب لوٹنا ہوگا یعنی پھلوں کا زیادہ استعمال، سلاد کا استعمال ، فائبر والی سبزیوں کا زیادہ استعمال شروع کریں۔ آج کے زمانے میں فریش فوڈ کا استعمال نہیں ہو رہافاسٹ فوڈ کلچر آگیا ہے۔ گھروں میں یہ ہو رہا ہے کہ پہلے جو مہمان آتا تھا اس کو چائے پیش کی جاتی تھی اب اس کو بھی کولڈ ڈرنک پیش کی جارہی ہے جو ہائی کیلوریز پر مشتمل ہوتی ہیں۔ آج کل کے بچے برگر، پزا ، فرنچ فرائز استعمال کررہے ہیں۔ غذا بدلنے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اب اس کے دو حل ہیں کہ ایک تو یہ کہ اپنی صحت مند غذا کی طرف واپس آیا جائے۔ ہم باقی چیزوں میں تو مغرب کی نقالی کرتے ہیں مگر وہاں مغرب کا حال یہ ہے کہ وہاں تواب بھی روزانہ ایک نہ ایک پھل کھایا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں بیمار بھی ایک سیب بمشکل کھاتا ہے۔اب جن غذاؤں کی عادت پڑ گئی ہے ان غذاؤں کو کیسے صحت مند بنایا جائے۔ مثلا ً اسکاٹ لینڈ میں انہوں نے کہا کہ بچے پیزا تو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے اسکاٹش پیزا بنا دیا جس کے اندر نمک کم کر دیا، چکنائی کم کردی ، حرارے کم کر دیے، ذائقہ وہی کا وہی رکھا۔ دوسری جانب ہمیں ایک متوازن زندگی گزارنی چاہیے۔تمباکو نوشی، نسوار، گٹکا کھانا ایسے ہے کہ جیسے جلتی پر آپ تیل ڈالے جا رہے ہیں۔ اس کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔خوراک کو چھوڑنے سے وزن کم نہیں ہوتا بلکہ خوراک کو تبدیل کرنا چاہیے۔ روٹی آدھی کردو، چاول آدھے کر دو اور تیل الگ کر دو۔ اب بھوک تو لگے گی جب آدھا آدھا کردیں گے۔ تو آپ ابلی ہوئی سبزیاں اور سلاد کھائیں، پھل کھائیے، اُبلے ہوئے انڈے کھا لیں، گوشت تھوڑا سا ابال کر کھا لیں، چنے ابال کر کھالیں، اسپغول کی بھوسی لے لیں۔ یعنی خوراک کم نہیں کرنی کیونکہ کم کرنے سے وہ کمزوری پر جائے گا اور پھر کھانے پر ہی آجائے گا۔ دودھ بالائی اتار کر پی لیں۔ دہی کھا لیں،بہت ساری چیزیں اﷲ نے دی ہیں۔جو پرانے زمانے کی چیزیں ہیں اسی پر آجائیں ۔ کھائیے لیکن ترتیب سے اور متوازن غذا۔
سوال: اس مرض کی آگہی کے حوالے سے لوگوں کو کسط رح متوجہ کیا جائے؟
ڈاکٹر عبد الباسط: اس وقت میڈیا کا بہت اہم کردار ہے۔ہم لوگ تو مضامین یا کتابیں وغیرہ لکھتے ہیں، اس کا اثر ایک حد تک ہوتا ہے لیکن میڈیا کی رسائی گلی گلی تک ہے۔ اگر میڈیا کے ذریعے صحت مند پیغام مل جائے اور آگاہی کے پروگرام ترتیب دے دیے جائیں تو ضرور فرق پڑے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ ذیابیطس سے بچا جا سکتا ہے، یہ کوئی لازمی مرض نہیں ہے مگر بے احتیاطیوںکی وجہ سے اس مرض کے لاحق ہونے کالازمی خطر ہ ہوتا ہے۔ ہم نے 10، 12 سال کی تحقیق کے بعد ایک اسکور چارٹ تیار کیا ہے جس میں ہمارے پاس 3 سوال ہوتے ہیں، 30 سیکنڈ کے اس سوالنامے کے ذریعے آپ خود پتا لگا سکتے ہیں کہ آپ کو شوگر کا مرض ہے یا ہونے والا ہے ۔مثلا ً پہلا سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی عمر 40سے 50کے درمیان ہے تو آپ اپنے آپ کو 1نمبر دے دیں۔ 50سے اوپر ہے تو 1لکھ لیجیے اور اگر چالیس سے کم ہے تو 0 لکھ لیجیے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ کی فیملی میں کسی کو شوگر ہے ؟ اگر ہے تو 1لکھ لیجیے ۔نہیں ہے تو 0لکھ لیجیے۔ تیسرا سوال یہ کہ مردوں میں کمر 35.5 انچ، عورتیں ہیں تو ان کی کمر 31.5 انچ سے زیادہ ہے تو 2 لکھ لیجیے اور اگر اس سے کم ہے تو0 لکھ لیجیے۔ اب آپ کو اپنا اسکور پتا چل گیا۔ اگر آپ کا اسکور 4یا زائد آرہا ہے تو آپ کو شوگر ہے یا ہونے والی ہے۔ جا کر چیک کرالیں۔ اگر 4 سے کم ہے تو پھر الحمد للہ آپ شوگر سے محفوظ ہیں۔ اس طرح ہم نے اتنا آسان کر دیا ہے کہ آپ خود پہلے اپنا اسکور دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے یا نہیں۔ اسی طرح آپ اپنے اسکور کو کم کرنے میں خود بھی محنت کر سکتے ہیں جیسا کہ آپ کی کمرکا سائز جسے آپ مستقل ورزش، غذائی احتیاطوں سے کم کر سکتے ہیں۔ یہ احتیاطیں بھی ہم نے در ج کر دی ہیں کہ روزانہ پانی کی مناسب مقدار لیں، روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی یا ورزش کو عادت بنائیں، چکنائی ، شکر ، نمک کے استعمال کو کم کریں، کم از کم 8 گھنٹے کی پرسکون نیند لیں، رات کا کھانا کم ازکم سونے سے 3 گھنٹے قبل لیں ۔اس مرض کے حوالے سے آگہی بڑھ رہی ہے البتہ اس کے ساتھ لوگو ں کو عمل کے لیے بھی آمادہ کرنا ضروری ہے ۔یہ ایسا ہے کہ جیسا سگریٹ کے ڈبے پرلکھا ہوتا ہے ، یا نماز کے بارے میں سب کو آگہی ہوتی ہے مگر وہ نمازوں کی پابندی نہیں کرپاتا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا بڑا اہم کردار ادا کررہا ہے اور کر سکتا ہے ۔ اس سے پہلے ہمیں انسولین کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے میں بہت محنت کرنی پڑتی اب یہ کافی بہتر ہو گیا ہے ۔اسی طرح ہما رے ڈاکٹرز کو بھی چاہیے کہ وہ بھی مریض کو زیادہ وقت دیں کچھ کاؤنسلنگ کریں، اُس کو آمادہ کریں بہتر زندگی کی جانب کیونکہ یہ آپ نہ صرف اُس کو بلکہ آنے والی نسلوں اور اُس کے خاندان تک علم پہنچاتے ہیں ۔
سوال: کیا شوگر کی ادویات کے کچھ سائیڈ افیکٹس بھی ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ گردوں پر اثر انداز ہونے کی بات کرتے ہیں ۔حقیقت کیا ہے ؟
ڈاکٹر عبد الباسط: لوگ کیا کہتے ہیں یا کیا سوچتے ہیں؟ اس پر ہم اور آپ کنٹرول تو نہیں کرسکتے۔ شوگر کی کوئی دوائی گردے پر براہ راست اثر نہیں ڈالتی۔ البتہ شوگر کے مرض میں مریض کاگردہ متاثر ہو سکتا ہے۔ شوگر کے مرض میں جسم کا کوئی بھی عضو متاثرہوسکتا ہے۔ جب گردے متاثر ہوجائیں تو پھر ہمیں اپنے ڈاکٹر کے پاس جا کر ضرور ادویات چیک کروانی چاہییں کہ اب میں کون سی دوائی لوں اور کون سی نہ لوں۔ تمام امراض میں 90 فیصد ادویات کو مرض کے بعد تبدیل کیا جاتا ہے۔ بعض کو کم کرنا ہوتا ہے، بعض کی خوراک بڑھانی ہوتی ہے اور بعض کو چھوڑنا ہوتا ہے۔
سوال: جس شخص کو پتا چل جائے کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہو چکا ہے یا وہ پری ڈائبیٹک ہے تو اُسے کن امور پر توجہ دینی ہوگی؟
ڈاکٹر عبد الباسط: اگر شوگر ہوگئی ہے تو ریگولر چیک اپ، دوسرا کام متوازن غذا، تیسرا کام مستقل چہل قدمی یا ورزش، چوتھا کام وزن کو کم کرتے رہنا اور اگر تمباکو نوشی کی عادت ہو تو اُسے ختم کرنا ہوگا۔ ہم اسے ڈسپلن لائف کہتے ہیں، معاشرے کے ساتھ چلانا ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہ اچھوت ہو گیاہے۔ بعض اوقات لوگ مریض کے جینے کا انداز اتنا مشکل کردیتے ہیں یہ بھی بہت نامناسب ہے۔ مریض کو آگہی اور شعور دیں، اُس کے مزاج میں شوق لائیں کہ وہ خود سے اپنی بہتر زندگی کی جانب خوشی سے رجوع کرے، کسی نے زندگی بھر آم کھائے، روغنی کھانے کھائے، اب اچانک آپ اُس پر ساری سخت پابندیاں نہ لگائیں۔ اِس کی زندگی کو مشکل نہ بنا دیں۔ ایک معمول کی زندگی گزارنے کی جانب لائیں ورنہ وہ تو ڈپریشن سے ہی مر جائے گا۔ ناشتہ بھاری کریں۔ سائنس نے تحقیق کرکے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ایک آدمی 2000 حرارے روزانہ کھاتاہے یا اگر ایک آدمی نے 4 روٹیاں روزانہ کھانی ہیں۔ ابھی یہ کرتا ہے کہ ایک روٹی صبح کھاتا ہے، دوسری دوپہر کو کھاتا ہے اور باقی 2 رات کوکھاتا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ 2 یا ڈھائی صبح کھاؤ، اس کی آدھی دوپہر کو کھاؤ اور اس کی بھی آدھی شام میں کھاؤ، 4 پوری کھاؤ لیکن صرف ترتیب بدل دو۔ ہارٹ اٹیک کم ہوجائے گا ، فالج کم ہوجائے گا، شوگر کم ہوجائے گا، بلڈ پریشر کم ہوجائے گا، کولیسٹرول کم ہوجائے گا۔ کیونکہ اﷲ نے ایک نظام بنایا ہے ، قدرت سے کیسے لڑیں گے۔ قدرت صبح کام کے لیے تیار کرتی ہے اور ہم سو رہے ہوتے ہیں۔ شام کو مغرب کے بعد قدرت سلانے کی تیاریاں کررہی ہوتی ہے ہم جاگ رہے ہوتے ہیں۔ رات کو گیارہ بجے کھانا کھانا انتہائی غیر فطری ہے اور اسی قدرت سے لڑنے کی وجہ سے یہ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔میں کہتا ہوں کہ 10 ہزار قدم جو روزانہ چلے گا وہ ان شا اللہ اس بیماری سے بچ جائے گا۔
سوال: شوگر کے مریض کو مزید کن پیچیدگیوں کا امکان ہوتا ہے ؟
ڈاکٹر عبد الباسط: شوگر سب سے زیادہ شریانوں کو متاثر کرتی ہے، اسی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوتے ہیں، فالج ہوتا ہے، گردوں کی پیچیدگی ہوتی ہے اور پاؤں کالے پڑ جاتے ہیں۔پاؤں سُن ہوجاتے ہیں۔ نابینا پن بھی ہوجاتا ہے۔ پھر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شوگر کے ساتھ ہی بلڈ پریشر بھی دستک دیتا ہے۔
سوال: یہ بات بھی سنی ہے کہ ڈپریشن یا اسٹریس سے بھی شوگر ہونے کا امکان ہوتا ہے، اس میں کتنی حقیقت ہے؟
ڈاکٹر عبد الباسط: تناؤیا ڈپریشن کو چونکہ تولا نہیں جا سکتا اس لیے کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی لیکن اس کے برعکس وزن کو ناپا جا سکتا ہے، اسی طرح بلڈ پریشر ناپ لیاجاتا ہے ، بلڈ شوگر ناپی جا سکتی ہے جو عمومی عوامل شمار کیے جاتے ہیں ، مگر تناؤ کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک جگہ تناؤ کا شکار ہے تو دوسری جگہ سکون میں ہے۔ کسی وجہ سے تناؤ میں ہے کسی وجہ سے سکون میں ہے۔ کبھی کبھار بیک وقت تناؤ بھی ہوتا ہے اور سکون بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ تناؤ سے براہ راست تعلق نہ بنایا جائے۔ اس لیے کہ اگر تناؤ کو وجہ بنا لیا جائے تو لوگ غذا میں احتیاط نہیںکریں گے۔ بعض ملک تو ایسے ہیں کہ جہاں سالہا سال سے لوگ تناؤکا شکار چلے آرہے ہیں لیکن وہاں تو سو فیصد شوگر نہیں ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ آپ تناؤ میں کھانا نہ کھائیں شوگر نہیںہوگی۔تناؤ والے مریض کو کھانا دے دیں شوگر ہوجائے گی۔تناؤ سے سارے جسم کے ہارمون متاثر ہورہے ہوتے ہیں۔ انسولین متاثر نہیں ہوگی، اگر غذا ساتھ ساتھ بدلی جائے ۔تناؤ میں اگر وہ واک پر نکل جائے تو اس سے بھی تناؤ ختم ہوجائے گا۔
سوال: ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ آئے دن نت نئی وڈیوز میں مختلف اشیا کو شوگر کے علاج کے لیے استعمال کی جانب راغب کیا جاتا ہے ۔آپ ان دیسی اشیا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟یہ بھی بتائیں کی اس مرض کے علاج کی ادویات کی دستیابی کی اور مریضوں تک رسائی کی کیا صورتحال ہے ؟
ڈاکٹر عبد الباسط: اس میںتواز ن لانا ہوگا۔ کوئی شک نہیں کہ ہلدی کے بہت فائدے نکل کرآرہے ہیں۔ اس کے علاوہ فالسے، جامن کے بھی بہت فائدے ہیں۔ شوگرکے مریض کے لیے ، سدابہار،میتھی، کریلے، کلونجی کے فائدو ں کا انکار نہیں کررہا۔لیکن کتنا کھانے سے فائدہ ہے؟اور اس کی ترتیب کیا ہوگی؟کس طریقے سے کھانا ہے؟ یہ سب معلومات بھی ضروری ہیں جو کہ نیوٹرشنسٹ دیتا ہے۔ جیسا کہ گریپ فروٹ کے بارے میں بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں مگر اس کا جوس شوگر کے لیے فائدے مند نہیں وہ تو شوگر بڑھا دیتا ہے، اصل تو اُس کا ریشہ ، پلپ تھا وہ آپ نے لیا نہیں ہوتا۔جڑی بوٹیاں ضرور ایسی آرہی ہیں کہ جو شوگر کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان کی تلاش پر محنت ہورہی ہے۔ بڑے بڑے ادارے اس پر کام کررہے ہیں کہ ایسے ہربل مل جائیں جو شوگر کے مریضوں کے لیے کام آسکیں۔اسی طرح ادویات پر بھی کام ہو رہا ہے ، مگر پھر بھی ہم نے عالمی ادارہ صحت کو یہ تجویز دی ہیںکہ سرکاری طور پر بلک مینوفیکچرنگ کی جائے ، تاکہ مہنگی برانڈڈ ادویات کے بجائے جینرک ناموں سے تیار کی جائیں تو اس کے نتیجے میں قیمت خاصی کم ہو جائیںگی اور امکان ہے کہ ان کی قیمتیں 300 روپے ماہانہ پر آجائیںگی۔ اس ضمن میں ہم نے پولی پل کی بھی تجویز دی ہے ، یہ ایک دوائی ہے جو کہ مجموعہ ہوتی ہے جس میں شوگرکے ساتھ ، کولیسٹرول کم کرنے، خون پتلا کرنے اور بلڈ پریشر کی دوائی کو یکجا کر کے بنائی جاتی ہے۔ چونکہ عام طور پر شوگر کے مریض کو یہ تمام ادویات دینی پڑتی ہیں اس لیے ہم نے یہ تجویز دی ہے مگر اس پر پاکستان میں ابھی سرکاری سطح پر خاصا کام باقی ہے۔ پڑوسی ملک میں اس پر کام ہو ا ہے اور وہاں کامیابی سے مریضوں کو مزید سستے داموں یہ دوائی دی جا رہی ہے ۔