حدیبیہ کیس میں اسحٰق ڈار ملزم نامز‘ نیب نے تحقیقات کا آغاز کردیا

272

اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد) قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک ارب 24 کروڑ روپے کے حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی دوبارہ تحقیقات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ وزیر خزانہ کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ حدیبیہ پیپرز ملزکیس میں شہبازشریف، عباس شریف اور والد میاں شریف کا نام بھی شاملہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز شریف بھی اس کیس میں نامزد ملزم ہیں‘ وزیر خزانہ سے پوچھ گچھ بطور ملزم کی جائے گی جس کے لیے گرفتاری ضروری ہے اور انہیں وطن واپسی پر کسی بھی وقت عدالتی حکم کے نتیجے میں گرفتار کیا جاسکتا ہے جب کہ اسحاق ڈار کی لندن میں انجیو گرافی کے دوران ایک شریان پھٹ گئی ہے جس سے ان کے علاج میں پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ قریبی ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار مکمل علاج کے بعد ہی پاکستان آئیں گے اور اس وقت ان کا علاج جاری ہے‘ شریان پھٹنے سے خون کافی مقدار میں بہہ گیا ہے‘ جس کا ڈاکٹرز علاج کر رہے ہیں۔ اسلام آباد نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں جسٹس آصف سعیدکھوسہ کے ریمارکس کی روشنی میں ایک اہم فیصلہ ہوا ہے کہ اسحاق ڈار کو ملزم کی حیثیت سے ایک بار پھر تفتیش کے مرحلے سے گزارا جائے گا تاکہ حقائق سامنے آسکیں‘ اس بنیاد پر نیب نے حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی تحقیقات کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق نیب وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اس کیس میں دوبارہ تحقیقات کرے گی‘ اسحاق ڈارحدیبیہ پیپرملز ریفرنس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے‘ تحقیقات کاآغازعدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں کیا ہے اور ریفرنس منسوخی پراسحاق ڈارکے خلاف بحیثیت ملزم تحقیقات کی جارہی ہے۔علاوہ ازیں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے179 میگا کرپشن کیسزکو منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کیسز کی تحقیقات میں کسی اثرورسوخ کی پرواہ نہ کی جائے۔