نوازمودی دوستی سے عالمی سطح پر کشمیرکاز کو نقصان پہنچا،لیاقت بلوچ

231

جماعت اسلامی پاکستان وملی یکجہتی کونسل کے سیکر ٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جس ملک کا وزیر خارجہ ہی نہ ہووہ عالمی برادری میں اپنا موقف کیسے پیش کرے گا۔وزیر اعظم کے نریندر مودی کے لئے نرم گوشے اور دوستی سے عالمی برادری میں کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعظم کشمیر پر دو ٹوک قومی موقف اختیار کرنے کو تیار نہیں جس سے قوم سخت مایوس ہے ۔بھارت کی طرف سے ایل او سی اور پاکستانی بارڈر پر آئے روز گولہ باری کے باوجود وزیر اعظم مودی سے توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔ ہم نئے چیف جسٹس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور منصف کا اعلیٰ ترین منصب سنبھالنے پر انہیں مبارک باد دیتے ہیں،قوم کو اعتماد ہے کہ وہ اپنے دور میں بہترین فیصلوں سے عدلیہ کے وقار کو بلند کریں گے اور لوٹی گئی قومی دولت واپس لانے کیلئے دوٹوک فیصلے کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جاری تربیت گاہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب علامہ جاوید قصوری بھی موجود تھے ۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ 2013کے انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی حکومت نے عام آدمی کی امیدوں اور آرزﺅں کا خون کرکے اس کی زندگی اجیرن بنادی ہے ۔حکمرانوں کے شاہانہ اور آمرانہ رویے سے نہ صرف جمہوریت بلکہ سیاست بھی کمزور ہوئی ہے۔جماعت اسلامی نے 2018کے انتخابات میں دیانتدار اور عوامی مفادات کی محافظ قیادت کے انتخاب کیلئے ملک بھر میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کردیا ہے ۔2017میں کم از کم ایک کروڑ ووٹر سے رابطہ کرکے 70سال سے قوم کو ڈسنے والے اژدھوں سے نجات دلانے کی کوشش کریں گے ۔

انہوں نے کہاکہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے بنائے گئے قومی ایکشن پلان کا رخ عالمی سامراج کو خوش کرنے کیلئے منبر و محراب کی طرف موڑ دیا گیا اور مساجد و مدارس اور علماءکرام کو ہدف بنا کر ملک بھر میں ان کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں ،حکمران سامراج کے ایجنڈے کو پورا کرنا چاہتے تھے مگر انہیں اس محاذ پر ناکامی ہوئی ۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ شام کے تاریخی شہر حلب کو کھنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے ہزاروں بچوں خواتین اور بوڑھوں کو اپنے گھر وں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی اور بمباری کرکے شہر کو قبرستا ن بنا دیا گیا لیکن عالمی برادری اس المناک انسانی المیے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے متفقہ لائحہ عمل بناکر مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے اوراسلام دشمن قوتوں کے ہاتھ میں اپنے فیصلے نہیں دینے چاہئیں۔