سال نو: دنیا کو 7 اہم تنازعات کا سامنا ہوگا

131

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ہر نئے سال کے آغاز پر لوگ اس بات کی امید کرتے ہیں کہ آئندہ برس دنیا بھر میں جاری تنازعات اور بحرانوں کا خاتمہ ہو جائے گا تاہم سال کے اختتام پر ان کو اکثر مایوسی ہوتی ہے۔ ایک امریکی مطالعے میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ آنے والا سال 2017ء مزید تنازعات کا حامل ہوگا جن میں بعض نئے اور بعض پرانے ہوں گے ۔ امریکی کونسل فار فارن ریلیشنز کی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں دنیا بھر میں 7 تنازعات بھڑکنے کی توقع ہے جن میں 4 تنازعات بڑے اثرات کے حامل ہیں ۔ مذکورہ تنازعات میں سب سے پہلے شام میں متحارب فریقوں کے لیے بیرونی مدد یا حمایت میں اضافے کے سبب خانہ جنگی مزید ابتر صورت اختیار کر جائے گی۔ اس سپورٹ میں بیرونی طاقتوں مثلاً روس اور ایران کی جانب سے عسکری مداخلت بھی شامل ہے ۔ دوسرے نمبر پر خطے میں مقامی یا غیر ملکی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تیسرے نمبر پر ترکی اور پڑوسی ممالک میں انقرہ اور کردوں کی مختلف مسلح جماعتوں کے درمیان پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔ چوتھے نمبر پر مشرقی یورپ میں روس کے برتاؤ کے سبب نیٹو کے رکن ممالک کے ساتھ دانستہ یا غیردانستہ عسکری تصادم ہو سکتا ہے ۔ ان کے علاوہ معتدل اثرات کے 3تنازعات کا جنم لینا بھی متوقع ہے جن میں شمالی کوریا کی جانب سے جوہری بیلسٹک میزائلوں کے تجربات اور وسیع تباہی کے ہتھیار حاصل کرنے کے نتیجے میں سنگین نوعیت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔ امریکا میں ایسا الکٹرونک حملہ واقع ہو سکتا ہے جو وہاں کے انفرا اسٹرکچر کو ڈگمگا دے ۔ افغانستان میں تشدد اور عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ مطالعاتی رپورٹ کی توقعات کے مطابق آئندہ برس کوئی منظرنامہ امریکا کے مفادات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ رپورٹ میں اُن 4 تنازعات نے جگہ نہیں پائی جو 2016ء کی فہرست میں ترجیحی طور پر شامل تھے ۔ ان میں پناہ گزینوں کے بحران کے سبب یورپی یونین کے ممالک میں سیاسی عدم استحکام ، فرقہ وارانہ تشدد اور داعش تنظیم کے سبب عراق کا ٹوٹ جانا ، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اور لیبیا کا سیاسی طور پر ٹکڑے ہوجانا شامل تھا۔
سال نو / تنازعات