روس اور امریکا کے درمیان سفارتی محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی

121

ماسکو (آن لائن) روس اور امریکا کے درمیان سفارتی محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی ۔ امریکا کی جانب سے35روسی سفارتکاروں کو نکالے جانے پر رد عمل میں روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ترجمان نے دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ سائبر حملوں کا الزام اور اس کے بعد اٹھائے جانے والے امریکی
اقدامات تکلیف دہ ہیں، روس ان کاایسا جواب دے گا جس سے امریکا کو کافی تکلیف پہنچے گی۔تفصیلات کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لارف نے صدر ولادی میر پیوٹن کو 35امریکی سفارتکاروں کو ملک سے نکالنے اور دو سفارتی مراکز بند کرنے کی سفارش کر دی۔اوباما انتظامیہ نے حالیہ صدارتی انتخابات میں روس کی طرف سے ہیکنگ کے الزامات کے بعد روس پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔امریکا کے خفیہ اداروں کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کو روس بے بنیاد قرار دیتا ہے۔روسی سفارتکاروں کونکالنے کے بعد امریکا اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں،روس نے کہاہے کہ سائبر حملوں کے الزام میں سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کے امریکی اقدام کا روس ایسا جواب دے گا جس سے امریکا کو کافی تکلیف پہنچے گی۔روس نے ایسی کسی بھی کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے امریکی فیصلے کو غیر محتاط قرار دیا تھا۔روسی صدر کے ترجمان نے اس بات کی طرف اشارہ بھی دیا کہ روس صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے تک انتظار کر سکتا ہے۔ ترجمان نے ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوٹن ان اقدامات پر جوابی کارروائی کریں گے۔دمتری پسکو کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات غیر قانونی اور غیر محتاط ہیں، انہوں نے انہیں ناقابلِ یقین اور اشتعال انگیز خارجہ پالیسی قرار دیا ہے۔دوسری جانب امریکا نے روس کی جانب سے صدارتی انتخابات کے دوران ہیکنگ کے ذریعے مداخلت کے الزامات کے بارے میں اب تک کی سب سے تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی اور ایف بی آئی نے 13 صفحات پر مبنی اس مشترکہ رپورٹ میں پہلی بار کسی ملک کو ہیکنگ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکا نے سرکاری طور پر اور باضابطہ طریقے سے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے اکاؤنٹس کی ہیکنگ کا تعلق روسی سول اور فوجی انٹیلی جنس اداروں ایف ایس بی اور جی آر یو سے جوڑا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس ادارے امریکی حکومت اور امریکی شہریوں کے خلاف سائبر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ بعض دفعہ تو (روسی انٹیلی جنس اداروں کے) اہلکار کسی تھرڈ پارٹی کا روپ دھار کر، مثال کے طور پر ’جعلی آن لائن شخصیات کے پیچھے چھپ کر حملے کے مقام کو چھپا دیا کرتے تھے۔جمعرات کو یہ رپورٹ جاری ہونے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے جی آر یو اور ایف ایس بی اور جی آر یو کی قیادت اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔