جرمن نوجوانوں نے شام میں مظالم کا مکمل ڈیٹا بیس تیار کرلیا

99
  1. برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن دارالحکومت برلن کے 2 نوجوانوں نے شام میں 5 سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران ہوئے مظالم کا ایک نیا ڈیٹا بیس تیار کیا ہے ، جس میں ساری دستیاب وڈیو فوٹیج کو ایک ہی تکنیکی معیار میں ڈھال کر پیش کر دیا گیا ہے ۔ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں کمپیوٹر ہیکرز کی ’کے اَوس کمپیوٹر کلب‘ نامی سالانہ کانگریس 4 روز تک جاری رہنے کے بعد گزشتہ روز اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ اپنی نوعیت کے اس 33 ویں اجتماع میں 12 ہزار افراد شریک ہوئے اور اس دوران ڈیٹا کے تحفظ، انٹرنیٹ سیکورٹی اور جعلی خبروں کے رجحان سمیت مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے ۔ اسی اجتماع کے دوران برلن شہر کے 2 نوجوانوں ھادی الخطیب (جو 2011ء میں شام سے جرمنی آیا) اور جیف ڈوئچ نے اپنے گھروں پر 3 ہزار یورو کی فنڈنگ کی مدد سے شامی جنگ میں ہوئے مظالم کے حوالے سے تیار کردہ اپنا نیا ڈیٹا بیس متعارف کروایا۔ اس ڈیٹا بیس کو اب اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن راٹس واچ جیسے بین الاقوامی اداروں سے لے کر پوری دنیا کے وکلا اور سیاسی کارکن تک استعمال کر رہے ہیں۔ اس ڈیٹا بیس کا نام ’دا سیریئن آرکائیو‘ رکھا گیا ہے اور اسے اسی نام کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس میں ساڑھے 5 سال سے جاری جنگ کے دوران ہوئے 2200 غیر قانونی واقعات کی تفصیلات کو باقاعدہ شہادتوں کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے اور اس کے لیے دنیا بھر میں موجود رضاکاروں کے ساتھ شام میں موجود سیاسی کارکنوں کی بھی مدد لی گئی، جنہوں نے ان واقعات کی تصدیق کی۔ اس میں یو ٹیوب اور دیگر پلیٹ فارموں پر اَپ لوڈ کی گئی وڈیو فوٹیج بھی شامل ہے ، جس میں مختلف فریقوں کی جانب سے اسپتالوں پر فضائی حملوں، کلورین گیس سے کیے گئے حملوں اور کلسٹر بم حملوں کے فوراً بعد کے انتہائی ہولناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کوئی فوٹیج کس مقام پر کب ریکارڈ کی گئی اور وہ آئی کس ذریعے سے تھی۔ اِس آرکائیو کو مزید فلٹر کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے غیر قانونی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، کیسے لوگوں کو گھر بدر کیا جا رہا ہے ، لُوٹ مار کی جا رہی ہے ، انسانوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، یرغمال بنایا جا رہا ہے اور قتلِ عام کیا جا رہا ہے ۔ روسی حملوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے لیے ایک الگ سے خصوصی فلٹر لگایا گیا ہے ۔ اس ڈیٹا بیس کی تیاری میں شامل شامی نوجوان ھادی الخطیب 2014ء میں ترکی میں انسانی حقوق کے وکلا کے ساتھ مل کر بھی کام کرتا رہا ہے ۔ الخطیب نے میڈیا کے ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی شامی اپوزیشن گروپ کا حصہ نہیں ہے تاہم اُس نے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایسا ریکارڈ تیار کرنے میں وکلا اور صحافیوں کے ساتھ تعاون کیا ہے ، جو بعد میں عدالت میں استعمال ہو سکے ۔
    شام / ڈیٹا بیس