مسلسل جھوٹ بولنے پرعمران خان صادق اور امین نہیں رہے، ن لیگ

140

وفاقی وزیرتجارت خرم دستگیر خان اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات محسن شاہ نوازرانجھا نے کہا ہے کہ عمران خان نے شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ‘ اثاثے چھپانے اور کرپشن سمیت 8 جھوٹے الزامات لگائے لیکن عدالت عظمی میں اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے‘ عمران خان الزامات سے باہر نکل کر سچ بولنا سکھیں‘ عدالتی کارروائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور مسلسل جھوٹ بولنے پرعمران خان صادق اور امین نہیں رہے‘ یہ سب عدالت عظمی کے سامنے رکھیں گے‘عمران خان کے پہلے وکیل مقدمہ کمزور ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

وہ جمعرات کو پی آئی ڈی کے میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ عمران خان کے الزامات میں کرپشن‘ منی لانڈرنگ‘ کک بیکس‘ اثاثے چھپانے‘ قرضے معاف کرانے‘فلیٹ کی 1990ءسے ملکیت‘ جھوٹ کی بنیاد پر جمہوریت پر حملہ ‘کرپشن پر اسد کھرل کی کتاب اوراخباری تراشے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھوٹے الزامات پر کوئی پوچھنے یا سرزنش کرنے والا بھی نہیں ہے ‘پی ٹی آئی کے الزامات اور دھرنوں کی سیاست کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ پاکستان اور سی پیک کا منصوبہ آٹھ ماہ تاخیر کا شکار ہوا‘ اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ گذشتہ روز پانامہ لیکس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی لیکن عدالتی فیصلے کا انتظار کئے بغیر پی ٹی آئی والوں نے اپنی ہی داخل کرائی گئی تین کتابوں پر مشتمل ثبوتوں کو ردی قرار دیدیا اور وزیراعظم اور ان کے بچوں کی داخل کرائی گئی دستاویزات پر دلائل دیئے گئے۔

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان نے عدالت میں پہلے دن جو موقف اختیارکیا تھا، اس پر یوٹرن لے لیا گیا ہے‘ فیصلہ ہمیشہ پورا مقدمہ چلنے کے بعد ہوتا ہے‘ عدالت عظمی میں سیاسی بنیادوں پر فیصلے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پہلے وکیل مقدمہ کمزور ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جھوٹ پر جھوٹ بول کر ایسا سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاہد ان کا جھوٹ ہی سچ ہے ‘ اسی لئے عمران خان عدالت عظمی کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے نظر آتے ہیں۔