انتظامیہ نے جانبداری نہ چھوڑی تو احتجاج کریں گے، جماعت اسلامی

1731

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں پر پولیس اور انتطامیہ کی جانب سے مقدمات درج کر نے پر شدید ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کو 48گھنٹے کا نوٹس دیا ہے کہ وہ دو دن کے اندر اندر اپنا رویہ اور طرزِ عمل تبدیل کرے ۔

پیر کے روز امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور تحریک انصاف کراچی کے صدر سید علی زیدی نے ادارہ نور حق میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ پارٹی نہ بنیں ۔ضابطہ اخلاق کی پابندی سب سے کر وائیں ۔پولیس اور انتظامیہ جواب دے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور ایم این اے اور ایم پی اے جو جگہ جگہ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں اور یہ دونوں پارٹیاں جلسے کر رہی ہیں تو ان کے کن رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نا انصافی اور کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کریں گے ۔اس شہر کو خوف س دہشت اور بھتہ خوری سے آزاد کرانے کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے سائن بورڈ نظر آرہے ہیں ان کے جلسوں اور ریلیوں کو بھی نہیں روکا جارہا لیکن ہم پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ۔ سر کاری وسائل،خصوصاً بلدیاتی وسائل ایم کیو ایم کی مہم میں کھلے عام استعمال کیے جارہے ہیں ۔kالیکٹرک کی گاڑیاں استعمال ہور ہی ہیں اور سرکاری املاک پر ایم کیو ایم کے جھنڈے اور انتخابی نشانات آویزاں کیے جارہے ہیں ۔ان کو روکا جارہا ہے اور نہ ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جارہی ہے یہ کھلی جانبداری اور انتخابی دھاندلی کا انداز ہے لیکن ہمارے امیدواروں کو مختلف آبادیوں میں کام کر نے سے روکا جارہا ہے اور ریلی کے انعقاد پر مزاحمت کی جارہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ایم کیو ایم کو حکومت اور الیکشن کمیشن کی طرف سے سپورٹ کیا جارہا ہے اور ان کو تمام سر گرمیوں کی مکمل آزادی ہے ۔جس میں وہ الیکشن کمیشن کے تمام قوائد و ضوابط کی دھجیاں اُڑارہے ہیں ۔جبکہ ہمارے امیدواروں کو مزارقائد پر فاتحہ خوانی کر نے اور قومی ترانہ پڑ نے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ۔ہم نے جب مزائر قائد پر قومی ترانہ پڑ ھا توہمارے خلاف تھانے میں ایف آئی آر کٹوادی گئی ۔ اسی طر ح کل مزار قائد پر ایک یوتھ ریلی تھی۔نوجوانوں نے مزار قائد پر ترانہ پڑھنے اور فاتحہ خوانی کا پروگرام بنا یا تھا لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کرادی گئی ۔

سید علی زیدی نے کہا کہ اگر مزار قائد پر کراچی کی خدمت کر نے کا عہد لینا اور قومی ترانہ پڑھنا جرم ہے تو یہ جرم ہر روز کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ سائٹ کے علاقے میں مقامی ایس ایچ او نے ہماری ریلی کو روک دیا ۔پولیس اور انتظامیہ یہ اوچھے ہتھکنڈے بند کرے انتخابات کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہو نے دیا جائے او عوام کو فیصلہ کر نے دیا جائے کہ وہ اور اس شہر کا مستقبل کیسا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی اور جماعت اسلامی نے بھی الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے اور ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کے دن رینجرز کو پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر لگا یا جائے ۔رینجرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے جائیں اور پولنگ کا سارا سامان بھی رینجرز کی نگرانی میں لا یا جائے ۔

اس مو قع پر تحریک انصاف کے رہنماء فردوس شمیم نقوی ،جماعت اسلامی کراچی کے نائب امراء مظفر احمد پاشمی ،ڈاکٹر اسامہ رضی ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،ڈپٹی سیکریٹری محمد صابر اور دیگر بھی مو جود تھے ۔