بج? م?? عوام ?و ر?ل?ف د?ن? ?? ام?دو? پر پان? پ??ر د?ا گ?ا ??، سراج الحق

228

سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں حالیہ قومی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا بجٹ بالکل روایتی تھا جس میں ملکی ترقی اور قومی خوشحالی کا کوئی نیا ویژن اور اپروچ نہیں تھی ۔سارا زور بجٹ کے اعداد وشمار کو سیدھا کرنے اور آمدنی کو خرچ کے مطابق ظاہر کرنے پر لگایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ سازی کے لیے عوامی نمائندوں اور بزنس کمیونٹی سے کوئی مشورہ لیا گیا نہ اس پر کوئی عوامی سروے کرایا گیا ۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ بجٹ سازی کا آغاز کم از کم تین ماہ پہلے ہوناچاہیے تھا ۔ امریکہ ، برطانیہ اور بھارت سمیت کئی ممالک میں آمد و خرچ کے حسابات کو کئی ماہ قبل مانیٹر کرنے کا عمل شروع ہوجاتاہے ۔ بجٹ تین حصوں پر مشتمل ہوناچاہیے تھا جس میں انتظامی ، ترقیاتی اور فلاحی اخراجات کا تخمینہ سامنے آناچاہیے تھا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ویلفیئر ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم سے کم سطح پر لائے اور یہی رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے لیکن موجودہ بجٹ کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ یہ ایک فلاحی بجٹ ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آزادی کے بعد نصف صدی میں قرضوں کا بوجھ تین ہزار ارب روپے تھا جبکہ گزشتہ چند سالوں میں 3000 ارب روپے کے قرضے لیے گئے ۔ موجودہ حکومت نے زرداری اور پرویز مشرف کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کی زنجیروں میں جکڑ رہے ہیں ۔ بیرونی قرضوں کا حجم گزشتہ سال 17 ہزار ارب روپے تھا جس میں آنے والے مالی سال میں کم از کم ایک ہزار ارب روپے کا مزید اضافہ ہو جائے گا ۔ وزیر خزانہ صاحب بتائیں کہ کیا یہی ترقی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ   سود اور کرپشن نے ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں جب تک سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا اور کرپشن پر قابو نہیں پایا جاتا ، معیشت کی ترقی خواب و خیال رہے گی ۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ ایک سالانہ رسم بن کر رہ گئی ہے اب لوگ ایک دوسرے کو ”ڈار“ سے ڈرنے کے مشورے دیتے ہیں ۔