وفاق? وز?ر خزان? س?ن??ر اسحاق ?ار ?? بج? تقر?ر ?ا متن

381

آئندہ مالی سال 2015-16ءوفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ وزیر خزانہ، مالیات، اقتصادی امور، شماریات اورنجکاری نے جمعہ کی شام ایوان زیریں میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔ ان کی تقریر کا متن حسب ذیل ہے
حصہ اول
جناب ا سپیکر!
1۔    آج 2015-16 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے میں پھر رب کریم کا بے حد شکرگذار ہوں جس نے اس قوم کو بے پناہ نعمتوںسے نوازا ہے اور وزیراعظم پاکستان محمدنواز شریف اور اُن کی حکومت کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی شکستہ معیشت کو بحالی کی طرف گامزن کر دیا ہے۔یہ اعزازاس وجہ سے حاصل ہوا کہ ہم نے مضبوط اقتصادی پالیسیوں کو بنایا جن کا اعلان پہلے 2013 کے انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے منشور میں کیا گیا اور پھر بجٹ 2013-14سے ان پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا۔ہم اب تک ان پر مکمل دیانت داری اور مستقل مزاجی سے عمل پیرا ہیں۔

جناب ا سپیکر!
2۔    یہ معزز ایوان جانتا ہے کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی حلقوں میں یہ قیاس آرائی تھی کہ پاکستان 2014 میں Default کر جائے گا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر مذکورہ تاریخ تک ہونے والی ادائیگیوں کو دیکھتے ہوئے اس اندازے کا کافی جواز تھا۔ چونکہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر چکے تھے اس لیے عالمی وسائل کی آمد تو مکمل طور پر بند ہو گئی تھی اور ذخائر کا خاتمہ صاف نظر آ رہا تھا۔ تاہم ہم نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ ان معاشی پنڈتوں کو واضح طور پر غلط ثابت کریں گے۔ اور قوم نے دیکھا کہ پاکستانی معیشت کی ڈولتی کشتی اب محفوظ کناروں تک پہنچ چکی ہے۔
3۔    جون 2013 میں ہمارے سامنے تین مقاصد پر مشتمل ایک واضح Roadmap تھا:
(1)    پاکستان کو 2014 میں Default سے بچانا۔
(2)     جون 2015 تک Macro-economic Stability حاصل کرنا اور
(3)    تیسرے سال سے ایک ایسی ترقی کو فروغ دینا جس سے روزگارکے مواقع پیدا ہوں، عوام کے سارے طبقوں کی شرکت ہو اور غربت میں کمی کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔

4۔    ہم نے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پالیسیاں تشکیل دیں اور پروگرام بنائے۔ ہم نے کبھی بھی ایسے مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی جو معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر تھے۔نتیجتاً پاکستان کی معیشت سنبھل چکی ہے اورملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔

2013-14کی معاشی کارکردگی کا جائزہ
جناب ا سپیکر!
5۔    میں اس معزز ایوان کے سامنے کچھ اہم معاشی اعداد و شمار پیش کرتا ہوں جو موجودہ مالی سال کے پہلے 9 یا 10 یا 11 ماہ کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہیں۔
(1)     2014-15 میں Growth Rate کی عبوری شرح 4.24 فیصد رہی۔ گذشتہ برس کی 4.03 فیصد شرحِ ترقی کے مقابلے میں یہ ترقی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔2008-13 میں ترقی کی اوسط شرح تقریباً 3 فیصد رہی اور یوں موجودہ سال کی Growth Rate گذشتہ 7 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سال ترقی کی شرح کا ہدف 5.1 فیصد تھا جو ان وجوہات کی بنا پر پورا حاصل نہ کیا جا سکا۔
٭    ستمبر 2014 کا سیلاب اور اس کی تباہ کاریاں؛
٭    اگست سے دسمبر 2014 کے درمیان سیاسی احتجاج کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں تعطل؛
٭    اشیاءکی عالمی منڈی خصوصاً تیل کی قیمتوں میںبے پناہ کمی کی بنا پر اس سے متعلقہ شعبوں کی پیداوار میں کمی؛
٭    غیر معمولی لمبی اور شدید سردی کی بنا پر ربیع کی فصلوں خصوصاً گندم کی پیداوار میں کمی؛
٭    گیس اور بجلی کی فراہمی میں بہتری آنے کے باوجود ان کی مانگ کے مقابلے میں کمی کی بنا پر Large Scale Manufacturing شعبے کی پیداوار میں کمی؛
٭    نجی شعبے میں قرضے کے استعمال کی رفتار میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کمی، جس کی وجہ اشیاءکی قیمتوں اورافراطِ زر میں زبردست کمی۔
(2)     فی کس آمدنی (Per Capita Income) جو پچھلے سال 1384 ڈالرفی کس تھی،9.3 فیصد کے اضافے سے 1512 ڈالر فی کس ہوگئی ہے۔
(3)     افراط زر(Inflation) کی شرح جو 2008-13میں اوسطً 12 فیصد رہی جولائی۔مئی 2014-15 میں 4.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو 11 سال کی کم ترین شرح ہے۔
(4)     FBR Revenues میں 2012-13 میں 3 فیصد کے مقابلہ میں 2013-14 میں 16.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔ موجودہ سال کے پہلے 11مہینوں میں ان میں مزید 13 فیصد اضافہ ہوا ہے اور امیدہے کہ موجودہ مالی سال میں15فیصداضافہ حاصل ہو گا۔
(5)    مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit) جون 2013 میں نئی حکومت کو 8.8 فیصد کے خسارے کا سامنا تھا۔ جسے صرف چند ہفتوں میں کم کر کے 8.2 فیصد کیا گیا۔ اگلے مالی سال یعنی 2013-14 میں حکومت نے مالیاتی خسارے کو مزید کم کر کے 5.5 فیصد تک محدود کر دیا۔ جبکہ رواں مالی سال میں خسارے کا ہدف 5 فیصد ہے۔ جسے ہم ’انشاءاللہ‘ حاصل کر لیں گے۔
(6)     نجی شعبے کے قرضے میں 2013-14 کے دوران 11فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ موجودہ سال اس میں 7 فیصد کی شرح سے اضافہ ہونے کی امید ہے۔ تاہم گذشتہ سال کے مقابلے میںFixed Investment کا قرضوں میں حصہ بڑھا ہے۔
(7)    اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا پالیسی ریٹ جو کہ نومبر 2013 میں10 فیصد تھا، اب 7فیصدتک کم ہو گیا ہے۔ جو پچھلی بہت سی دہائیوں کی کم ترین شرح ہے۔ کمرشل بنکوں کے قرضوں کی شرح اس پالیسی ریٹ سے متعین ہوتی ہے۔ اس لیے کمرشل قرضوں کی شرح بھی بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو گا کیونکہ سرمائے کی لاگت میں واضح کمی آئے گی۔
(8)     برآمدات(Exports) گذشتہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے 20.83 ارب ڈالر کے مقابلے میں جولائی۔اپریل 2014-15 میں 20.18 ارب ڈالر رہیں۔ جوکہ 3.2 فیصد کی کمی ہے۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ Quantity-wise برآمدات کا حجم پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ رہا، اشیاءکی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کی بنا پر یہ اضافہ Value-terms میں سامنے نہ آ سکا۔
(9)     درآمدات (Imports) جولائی۔اپریل 2013-14 میں34.65 ارب ڈالر تھیں، اس سال 34.09 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ یہ تقریباً 1.61 فیصد کی کمی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مشینری کی درآمدات میں 10.3 فیصد کا اضافہ ہوا جس سے معیشت میں سرمایہ کاری کی عکاسی ہوتی ہے۔
(10)     Foreign Remittances جو 2013-14 کے پہلے 10 ماہ میں 12.89 ارب ڈالر تھیں، 2014-15 کے اسی عرصے میں 16.14 فیصد کے اضافے سے 14.97 ارب ڈالر ہو گئی ہیں۔ یہ ایک شاندار اضافہ ہے اور اس کے لیے میں سمندر پار پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو ملکی معیشت میں بہت ہی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
(11)     Exchange Rate میں گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ تک استحکام رہا۔ اس میں فقط اگست۔ستمبر کے دوران ایک مختصر تعطل آیا جس کی وجہ Political Instability تھی۔ اِس وقت Inter Bank Market میں ڈالر کا Exchange Rate تقریباً 102 روپے ہے۔ پاکستان جیسی معیشت میں Exchange Rate کو کلیدی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ دیگر اشاریوں پر بھی بڑے پیمانے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لہٰذا مارکیٹ بنیادوں پر تعین کردہ مستحکم شرح مبادلہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرتی ہے اور سرمایہ کاروں اور صارفین کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔ Exchange Rate کا اس طرح کا استحکام پچھلے کئی برس سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ اور اس سے ہماری معیشت کا اعتبار بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
(12)    جون 2013 میںForeign Exchange Reserves کی حالت تشویش ناک تھی۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے ذخائر صرف 6 ارب ڈالر رہ گئے تھے جن میں سے 2 ارب ڈالر تو ایک ایسے swap سے حاصل کیے گئے تھے جس کی ادائیگی اگست میں ہونا تھی جبکہ مزید 3.2 ارب ڈالر سال کے آخر تک IMF کو ادا کیے جانا تھے۔ نتیجتاً 10 فروری 2014 تک اسٹیٹ بنک کے ذخائرکم ہو کر 2.7 ارب ڈالر رہ گئے اور کمرشل بنکوں کے ذخائر کو ملا کر کل ملکی ذخائر 7.7 ارب ڈالر تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ شاید وہ قیاس آرائیاں آخر حقیقت کا روپ دھارنے جا رہی ہیں جن کا میں نے پہلے ذکرکیا ہے۔ تاہم الحمدللہ! اللہ کی مدد سے ہم نے ملکی معیشت کو مضبوط کیا اور اب یہ بیرونی اتار چڑھا¶ سے بڑی حد تک محفوظ ہو گئی ہے۔ اس وقت ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جن میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر SBP کے پاس ہیں۔ یہ بات قابل ذکرہے کہ تقریباً تمام تر اضافہSBPکے ذخائر میں ہوا ہے۔ ہم نے اسی سال ان ذخائر کو تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 19 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
(13)     کراچی سٹاک ایکسچینج انڈیکس(Stock Exchange Index) جو کہ11مئی 2013 کو عام انتخابات کے روز 19,916 کی سطح پر تھا،اب تقریباً 34,000 کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو کہ 70 فیصد کا اضافہ ہے۔ اسی بنیاد پرMarket Capitalization میں بھی تقریباً 40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
(14)     Incorporation of New Companies : 2013-14 میںجولائی سے اپریل کے دوران 3664 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں، جبکہ موجودہ سال کے اسی عرصہ میں اس تعدادمیں 11.9 فیصد کا اضافہ ہوا اور 4100 نئی کمپنیاں رجسٹرڈکی گئیں۔

جناب ا سپیکر!
6۔    اس کے علاوہ چند اور اقدامات قابل ذکر ہیں۔

(1)     انٹرنیشنل سکوک :(International Sukuk) 8 سال کے وقفے کے بعد پاکستان نے نومبر 2014 میں 500 ملین ڈالر حاصل کرنے کے لیے 5 سال کا سکوک Offer کیا جس کے لیے 2.3 ارب ڈالر کی بین الاقوامی Offers آئیں جو کہ 5 گنا تھیں۔تاہم ہم نے صرف 1 ارب ڈالر کے Sukuk جاری کیے۔تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ Euro Bond اورSukuk سے حاصل ہونے والی Proceeds کو اسٹیٹ بنک نے براہ راست اتنی ہی مالیت کے Domestic Debt کو Retire کرنے میں استعمال کیا اور مجموعی قرضہ (Public Debt)میں اس وجہ سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
(2)    IBRD میں واپسی: گذشتہ بجٹ تقریر میں مَیں نے آپ کو عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کے رعائتی پالیسی قرضوں کے دوبارہ اجراءکے حوالے سے بتایا تھا جو کہ Macro Economic Instability کی بنا پر جون 2013 سے پہلے سے معطل چلے آ رہے تھے۔ 2012 سے پاکستان کو IBRD کی Financing Facility کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔Macro Economic Stability اور زرِمبادلہ کے ذخائر میںاضافہ کے بعد فروری 2015 میں پاکستان کو IBRD کے وسائل کے لیے دوبارہ اہل قرار دے دیا گیا ہے۔

7۔     Economic Indicators اور پالیسی Initiatives کا بیان کردہ جائزہ پاکستان کے معاشی استحکام کاثبوت ہے۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ ہمارے Development Partners اور سرمایہ کاروں کا معیشت پراعتبار بحال ہوا ہے۔ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے وہ مواقع فراہم کر رہا ہے جو خطے میں بہت کم ممالک کرتے ہیں۔ لہٰذا اب تیسرے سال میں داخل ہوتے ہوئے ہم پر اعتماد ہیں کہ نیا مالی سال ملک میں مزید بہتری لائے گا۔

جناب اسپیکر!

8۔     کارکردگی کا یہ معیار محض ہمارے خیالات پر مشتمل نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی تجزیہ کار اور مبصرین بھی ہماری معیشت کی کارکردگی اور روشن مستقبل کے معترف ہیں۔ میں ان میں سے چند کا ذکر اس معزز ایوان کے سامنے کرنا چاہتا ہوں۔
٭    Japan External Trade Organization (JETRO) نے پاکستان کو FDI کے لیے دوسرا سب سے زیادہ پسندیدہ ملک قرار دیا ہے۔
٭    Goldman Sach’s Jim O’Neill کے اندازے کے مطابق 2050 میں پاکستان اپنے موجودہ 44 ویں درجہ سے بڑھ کر دنیا کی 18 ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔
٭    OICCI کے Business Confidence Index کے مطابق Negative 34 سے بتدریج بڑھتے ہوئے Positive 18 تک پہنچ گیا ہے۔
٭    Moody’s اور Standard and Poor’s نے پاکستان کے Outlook کو Negative سے پہلے Stable اور حال ہی میں Positive کر دیا ہے۔
٭    Nielsen’s Global Survey of Consumer Confidence جس نے 2011 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کو کم ترین 86 سکور دیا تھا جو 2014 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 99 ہو گیا ہے۔
٭     Morgan Stanley کے David Darst Chief Investment Strategist نے کہا ہے کہ:
“Pakistan is set to take off, it is a matterof time”
٭    Bloomberg News کے مطابق مشکلات کے باوجود پاکستان میں Corporate Earnings میں اضافہ ہوا ہے۔
٭    The Economist London نے اپنے 2 مئی 2015 کے شمارے میں پاکستان کی معاشی بحالی کی تعریف کی ہے۔
٭    ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن(WTO) نے اپریل 2015 میں جاری ہونے والے Trade Policy Review میں پاکستان کی معاشی کارکردگی کو سراہا ہے۔
٭    FATF جو کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور Terrorist Financing کی مانیٹرنگ کے لیے بنایا گیا ایک عالمی ادارہ ہے اس نے پاکستان کو 2012 میں Grey List میں شامل کیا تھا حکومتی اقدامات بشمول قوانین میں تبدیلی کے بعد فروری 2015 میں پاکستان کو Grey List سے نکال کر White List میں شامل کر لیا گیا ہے۔

جناب اسپیکر!

9۔    ہم آج اوپر بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنا معاشی سفر طے کر رہے ہیں۔ ہماری کارکردگی کا یہ مختصر تذکرہ اور آگے آنے والی تفصیلات ہمارے خلوص اور سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک جمہوری حکومت پارلیمان اور عوام کو جواب دہ ہوتی ہے اور ان دونوں سے کئے گئے وعدوں کی ذمہ دار ٹھہرائی جاتی ہے۔ اپنی حکومت کے تیسرے سال کی طرف بڑھتے ہوئے آج بھی ہم اسیVision کے پابندہیں اور اس کی عکاسی اس تیسرے بجٹ میں بھی نظر آئے گی۔

بجٹ حکمت عملی کے بنیادی عناصر
جناب اسپیکر!
10۔    ہماری بجٹ حکمت عملی کے بنیادی عناصر یہ ہیں:
(1)    مالیاتی خسارے میں کمی کو جاری رکھا جائے گا۔ اس مالی سال میں Fiscal Deficit کو 5 فیصد تک رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2015-16 میں اسے مزید کم کر کے 4.3 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
(2)    ٹیکس محصولات میں اضافہ: تقریر کے دوسرے حصہ میں ٹیکس سفارشات ہوں گی۔ تاہم اس موقع پر یہ واضح کرتا چلوں کہ Fiscal Deficit میں یہ کمی ٹیکس محصولات میں بہتری اور اخراجات میں Discipline لانے سے ہی ممکن ہوئی ہے اور ہو گی۔
(3)    توانائی پر مسلسل توجہ: توانائی کا شعبہ ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کی اہمیت اس بات سے عیاں ہے کہ وزیراعظم پاکستان اس شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا باقاعدگی سے ذاتی طور پرجائزہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی برائے توانائی کا قیام عمل میں لاگیا گیا ہے۔ جسکی سربراہی وزیراعظم خود فرماتے ہیں۔ GDP کی شرح کے ہدف اور موجودہ Supply-Demand Gap کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں 7000 MW کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں LNG سے بجلی پیدا کرنے کے 3600 MW کی مجموعی پیداوار کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ دسمبر2017 تک ان منصوبوںکی تکمیل کے نتیجے میں سسٹم میں 10,600 MW کا اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ہماری حکومت بہت سے ایسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جو کہ دسمبر2017 کے بعد مکمل ہوں گے۔ ان میں داسو(Dasu) ، دیامیر بھاشا اور Karachi Civil Nuclear Energy کے علاوہ کئی مزید منصوبے شامل ہیں۔
(4)    برآمدات میں اضافہ کے لیے اس بجٹ میں ہم اضافی سہولتوں کا اعلان کریں گے۔ اس سلسلے میں Cost of doing business کو کم کرنے اور Over all regulatory regime کو بہتر بناتے ہوئے Exporters کو Facilitate کیا جائے گا۔
(5)     Investment to GDP Ratio 2012-13 کے ریکارڈ کیے گئے 12.4 فیصد سے بڑھ کر 2013-14 میں 13.4 فیصد ہو گئی اور اندازے کے مطابق موجودہ مالی سال میں 13.5 فیصد ہو جائے گی۔ سرکاری شعبہ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری سے بھی اس رجحان کو بہتر کرنے میں مدد ملی ہے۔2015-16میں اس شرح کاہدف 16.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
(6)     Public Debt Management : مالیاتی انتظامات کی خاطر ہماری تمام تر کوششوں میں Debt Management کو خصوصی توجہ حاصل رہی ہے۔ ہماری حاصل کردہ fiscal consolidation کی وجہ سے سرکاری قرض کی کمی میں مدد ملی ہے جو کہ 2012-13 میں GDP کا 63.9 فیصد سے کم ہو کر موجودہ مالی سال کے دوران 62.9 فیصد ہو جائے گا۔ آئندہ 3 سال میں Fiscal Responsibility and Debt Limitation Actکے مطابق Public Debtکو GDP کے60 فیصد تک لایا جائے گا۔ انشاءاللہ۔
(7)     Benazir Income Support Progarm (BISP) اس پروگرام کے تحت معاشرے کے غریب اور محروم لوگوں کو سہارا دیا جا رہا ہے جو کہ ہم سب کی ذمہ داری اور اُن کا حق ہے۔2013-14 اور 2014-15 میں ہماری حکومت نے BISP کے بجٹ کو 40 ارب روپے سے بڑھا کر 97 ارب روپے کر دیاہے۔ اگلے مالی سال کے لیے یہ رقم مزید بڑھا کر 102 ارب روپے کی جا رہی ہے۔ اسی طرح موجودہ سال میں Cash Transfer Program کا دائرہ کار 41 لاکھ خاندانوں سے بڑھا کر 50 لاکھ خاندانوں تک بڑھانے کاہدف ہے۔ جب کہ اگلے سال کے لیے یہ تعداد 53 لاکھ ہو گی۔
درج بالا اقدامات کے علاوہ آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان بیت المال کے بجٹ کو 2 ارب روپے سے بڑھا کر4 ارب کیا جا رہا ہے جو کہ 100 فیصد اضافہ ہے۔

ICTشعبہ کی ترقی و ترویج
11۔    گزشتہ بجٹ میں Information and Communication ٹیکنالوجی (ICT) میں بہتری و ترقی کیلئے بہت سے اقدامات کا اعلان کیاگیا تھا۔ ان اقدامات پر کچھ یوں عملدرآمد کیا گیا ہے۔

یونیورسل ای ٹیلی سینٹرز
12۔    12 ارب روپے سے یونیورسل ای ٹیلی سینٹرز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان مراکز میں e-learning ، e-commerce ، e-agriculture وغیرہ کے علاوہ نادرا کے ذریعے SIM کارڈ کی تصدیق اور رجسٹریشن کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں تمام صوبوں بشمول فاٹا میں 500 ٹیلی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے پاکستان بھر میں 217 جگہوں کا انتخاب کیا جا چکا ہے۔ یہ پروگرام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد متعارف کرا دیا جائے گا۔

دور افتادہ علاقوںسے رابطوں میں بہتری
13۔    دور دراز علاقوں کو باقی ملک سے فائبر آپٹک کیبل(Fiber Optic Cable) کے ذریعے جوڑنے کیلئے 2.8 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تیز رفتاری سے عمل جاری ہے۔ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے 128 تحصیلوں کو فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے منسلک کیا جا رہا ہے۔ دیہی مواصلات کے ایک اور منصوبے کے تحت 3.6 ارب روپے کی لاگت سے رابطے سے محروم دیہی علاقوں کو باقی ملک سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

Rationalization of International Clearing House :
14۔    اکتوبر 2012 میں International Clearing House پالیسی کا آغاز کیا گیا تھا۔اس پالیسی میں کئی خامیاں تھیں جس کی وجہ سے بہت سارے صارفین کو نقصان ہو رہا تھا۔White Traffic میںکمی ہوئی اورغیر قانونی Grey Traffic کاروبار میں بھی اضافہ ہوا۔ عام آدمی کو ریلیف پہنچانا حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ لہٰذا ہم نے اس پالیسی کی اصلاح کر دی ہے اور بین الاقوامی Calls کے نرخ Rationalise کر دیے ہیں۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سستی کالز کا فائدہ ہو رہا ہے اور Grey Traffic کا بھی خاتمہ ہوا۔ نئی پالیسی کے نتیجے میں Legal Traffic جو کہ نومبر 2014میں 367 ملین منٹ ماہانہ تک گرگئی تھی، 1.1 بلین منٹ ماہانہ تک بڑھ گئی ہے جو کہ 3 گناسے زیادہ کا اضافہ ہے۔

وزیراعظم کا قومی پروگرام برائے Information And Communication Technology Scholarships
15۔     پچھلے بجٹ میں دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلباءکے لیے 125 ملین روپے سے سکالرشپ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت ICT سے متعلقہ شعبوں میں ملک کی نامور یونیورسٹیوں میں 4 سالہ undergraduate ڈگری سکالرشپ فراہم کئے گئے۔ ان وظائف کے تحت 480 طلبا و طالبات نے پاکستان کی 21 بہترین یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

(Medium Term Macro Economic Framework)
جناب اسپیکر!
16۔    ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہماری بجٹ کی حکمت عملی 3 سالہ وسط مدتی (Medium Term) تناظر میں بنائی گئی ہے جو 2015-16 سے 2017-18 تک کا احاطہ کرتی ہے اور جس کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل ہیں:
(1)    GDP Growth کو 2017-18 تک 7 فیصد تک لے جایا جائے گا۔
(2)     Medium Term میں افراطِ زر کو Single Digit میںرکھا جائے گا۔
(3)    Investment to GDP Ratio کو 21 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
(4)      Fiscal Deficit کو 3.5 فیصد تک کیا جائے گا۔
(5)    Tax to GDP Ratio کو 13 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
(6)    زرِ مبادلہ کے ذخائر کو 20 ارب ڈالرسے اوپر رکھا جائے گا۔ انشاءاللہ۔

17۔    اپنے پہلے دو سال کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہم پر امید ہیں کہMedium Term Framework میں دیے گئے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔انشاءاللہ۔

ترقیاتی پروگرام
Growth Strategy
جناب اسپیکر!
18۔    رواں پنج سالہ منصوبہ (2013-18) ترقی کے لیے ایک جامع لائحہ عمل ہے اور معاشی ترقی کی بلند شرح کو حاصل کرنے کے لیے وقت کا بھی تعین کرتا ہے۔ 2015-16 کے لیے Growth کا ہدف 5.5 فیصد ہے جبکہ 2017-18 تک اس کو بڑھاتے ہوئے 7 فیصد کیا جائے گا۔ 2015-16 میں 5.5فیصد کی شرح سے Growth حاصل کرنے کے لیے زراعت میں 3.9 فیصد کی شرح سے، صنعت میں 6.4 فیصد کی شرح سے اور خدمات کے شعبہ میں 5.7 فیصد کی شرح سے Growth کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

19۔    اس پنج سالہ منصوبے میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں عام کرنے، خواتین کو حقوق دینے اور غربت کے خاتمے کے ذریعے Human Resource کو ترقی دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے تاکہ بڑھی ہوئی آبادی کا اقتصادی فائدہ حاصل کیا جا سکے اور Total Factor Productivity میں اضافہ کیا جائے۔

20۔    ترقیاتی عمل میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ High Growth کا امکان رکھنے والے شعبوں میں ٹرانسپورٹ، مواصلات، مالیات، اور خدمات کے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان شعبوں میں ترقی کی رفتار کو بہتر بنانے اور GDP میں ان کا حصہ بڑھانے کے لیے جامع ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔

21۔    مالی سال 2015-16 میں قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1513 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس میں وفاقی PSDP کے700 ارب روپے شامل ہیں۔ سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے علاوہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ، FDI اور Special Economic Zone کے لیے Fiscal Incentives فراہم کیے جائیں گے۔

22۔    ان اقدامات کے نتیجے میں متعلقہ شعبوں کے Growth Rate میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ جس سے آئندہ برسوںمیں ان شعبوں کا GDP میں حصہ بھی بڑھ جائے گا۔

23۔    اب میں ترقیاتی بجٹ کے اہم اقدامات پر روشنی ڈالوں گا۔
پانی (Water)
24۔    ترقیاتی پروگرام میں پانی کے شعبہ پر بھاری سرمایہ کاری کی جار ہی ہے۔ جس کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں 31 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ ان میںDiamer-Bhasha Dam سب سے نمایاں ہے جو پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس میں 4.7 ملین ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس سال ہم نے ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے کی خاطر 15 ارب روپے مختص کیے ہیں اور ڈیم کے 3 میں سے پہلے حصے پر تعمیر کا کام کرنے کے لیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

25۔    بلوچستان میں پانی کے منصوبے اس شعبے میں حکومت کی دوسری اہم ترجیح ہیں۔ جس کے تحت Delay Action Dams، Flood Dispersal Structures، نہروں اور پانی ذخیرہ کرنے والے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر عمل میں لائے جائے گی۔ ایسے جاری منصوبے ہماری توجہ کا اہم مرکز ہوں گے جن کو آئندہ ایک دو برس میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ان میں کچھی کینال(ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد)،نولنگ ڈیم(جھل مگسی)، پٹ فیڈر کینال کی ڈیرہ بگٹی تک توسیع اور شادی کورڈیم(گوادر) شامل ہیں۔ان بڑے منصوبوں کے علاوہ ہم صوبے میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ اس سال ہم گوادر میں Basool Dam پر کام کا آغاز کریں گے۔

26۔    اسی طرح سندھ میں رینی کینال (گھوٹکی اور سکھر) اور RBODکی سہون شریف سے سمندر تک توسیع اور Darwat ڈیم کے منصوبے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔علاوہ ازیں اس سال ہم مکھی فراش لنک کینال منصوبے پر بھی کام کا آغاز کر دیں گے۔ علاوہ ازیںپنجاب میں نالہ ڈیک اور Ghabir ڈیم (چکوال) پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔خیبر پختونخواہ میں خیال خواڑ کے منصوبے کے لیے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ فاٹا میں کُرّم تنگی ڈیم(شمالی وزیرستان) اور گومل زم ڈیم (جنوبی وزیرستان) پر کام جاری رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ پنجاب ،سندھ اور خیبر پختونخواہ میں سیلاب سے تحفظ اورپانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کھالوں کی پختگی اور ملک بھر میں نکاسی¿ آب کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔

توانائی(Power)
جناب اسپیکر!
27۔    میں نے پہلے بھی توانائی کے شعبے پر حکومت کی توجہ کا ذکر کیا ہے۔ہم نے شعبے کی اصلاح کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں ترسیل کے دوران بجلی کے زیاں میں کمی، Bills کی بہتر وصولی، چوری کے خاتمے اورCircular Debt کا خاتمہ شامل ہیں۔ تاہم ہماری اصل توجہ توانائی کے نئے وسائل پیدا کرنے پر ہے تاکہ مستقل بنیادوں پر بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکے ۔

28 ۔    ماضی کی طرح اس سال بھی ہم نے توانائی کے شعبے میں اضافی اور سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے سب سے زیادہ رقوم مختص کی ہیں۔ پانی، کوئلے، ہوا اور ایٹمی توانائی سے بجلی پیداکرنے کے منصوبوںکی وجہ سے پاکستان میں Energy Mix بہترہوگا، عوام کو سستی بجلی میسرآئے گی۔ اور جن کی مدد سے حکومت دسمبر 2017 تک لوڈ شیڈنگ کو تقریباً ختم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ پچھلے سال کے 200 ارب روپے کے مقابلے میں اس سال اس شعبے کے لیے 248 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان میں سے73 ارب روپے سرکاری ترقیاتی پروگرام (PSDP)میں رکھے گئے ہیں۔اس سلسلے میں چند بڑے منصوبے حسبِ ذیل ہیں:
٭    Dasu Hydropower Project کے پہلے مرحلے کے لیے 52 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭     Diamer Basha Dam (4500 MW) کے لیے زمین حاصل کرنے اور تعمیراتی کام کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭    نیلم جہلم منصوبہ(969 MW) کے لیے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭     تربیلا(Tarbela-IV) چوتھا توسیعی منصوبہ(1410 MW) ،کے لیے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭     گدو پاور پراجیکٹ (747 MW) کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭    کراچی کوسٹل پاور کے دو منصوبے(2200 MW)
٭     چشمہ نیوکلیئر منصوبہ(600 MW)،
٭    گولن گول پاور پراجیکٹ(105 MW)،
٭     Jhimpir اور گھارو میں ہوا سے چلنے والے پاور پراجیکٹس کے لیے Transmission کا قیام،
٭    چشمہ نیوکلیرIII اورIV کے Interconnection
٭    CASA-1000 منصوبے کے ذریعے بجلی کی درآمد کے لیے Interconnctionکی سہولت۔
٭    داسو(Dasu) ہائیڈرو پاور منصوبے سے (2160 MW) بجلی کی ترسیل کا منصوبہ۔
٭    بن قاسم پر واقع پاور پلانٹ سے حاصل ہونے والی 1320 MW بجلی کیTransmission کا منصوبہ
٭    سُکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے Swiching Station اور Interconnection۔

شاہراہیں(Highways)
جناب اسپیکر!
29۔    پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے پورے خطے کو آپس میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قدرتی طور پر حاصل حیثیت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور اسے معاشی بہتری میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مواصلاتی نظام میں سرمایہ کاری کریں۔ لہٰذا ہم نے سڑکوں، شاہراہوں اور پلوں کی تعمیر کے لیے 185 ارب روپے رکھے ہیں۔ پچھلے سال کے 112 ارب روپے کے مقابلے میں یہ 65 فیصد کا اضافہ ہے۔

30۔    شاہراہوںکے شعبے میں لاہور کراچی موٹر وے کی تکمیل ہماری اہم ترین ترجیح ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ 1152 کلومیٹر لمبی یہ شاہراہ ملک کی تقدیر بدل دے گی۔ اس سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا، کھیت سے مارکیٹ تک رسائی آسان ہو گی اور اقتصادی اور معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔ بجٹ 2015-16 میں ہم نے 230 کلومیٹر طویل لاہور۔ عبدالحکیم سیکشن کے لیے 120 ارب روپے رکھے ہیں۔اسی طرح سے 387 کلومیٹر طویل ملتان۔سکھر سیکشن کے لیے 61 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ 296 کلومیٹر طویل سکھر۔حیدرآباد سیکشن کی تکمیل کے لیے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں 10.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

31۔    اس بجٹ میں شاہراہیں تعمیر کرنے کے بہت سے منصوبوں کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔ جن میںگوادر۔ رتوڈیرو روڑکا 200 کلو میٹر طویل گوادر تربت ہوشاب سیکشن، N-85 کا ہوشاب۔ناگ۔ بسیمہ۔سوراب سیکشن، فیصل آباد۔خانیوال ایکسپریس وے، لواری ٹنل اور دیر میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔

32۔    اس کے علاوہ ہماری حکومت کراچی کے عوام کیلئے تحفے کے طور پر ایک ورلڈ کلاس Bus Transit System قائم کر رہی ہے ۔ Green Line Bus Transit System نامی یہ منصوبہ صدر اور سورجانی ٹاﺅن کے درمیان روزانہ تین لاکھ مسافروں کی نقل و حمل کا اہل ہوگا۔ ہم تقریباً 16 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے یہ منصوبہ دسمبر 2016 تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

33۔    اسلام آباد/ لاہور موٹروے (M2) ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ایک شاہکار منصوبہ ہے جس نے پاکستان میں سفر کے شعبے میں انقلاب برپا کیا۔ ایسے منصوبوں کو ہر 8 سے 10 سال کے بعد Re-surfacing کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم پچھلے 18 سال میں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہدایت پر گورنمنٹ نے نجی شعبہ کے تعاون سے M-2 کی Re-surfacing کا Inititative لیا ہے۔

ریلویز(Railways)
جناب اسپیکر!
34۔    ریلوے مسافروں اور سامان کی سستی، تیز رفتار اور آرام دہ ترسیل کا ذریعہ ہے۔ لہذا اس کی ترقی ہماری اہم ترجیح ہے ۔

35۔    اسلام آباد اور کراچی کے درمیان حال ہی میں چلائی گئی گرین لائن ٹرین وزارت ریلوے کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک تابندہ مستقبل کا آغاز ہے۔ پاکستان ریلویز انجنوں، بوگیوں، Tracks ، Signaleing System اور ریلوے سٹیشنوں کی بہتری میں سرمایہ کاری کرے گا۔

36۔    موجودہ سال کے بجٹ میں مندرجہ ذیل منصوبے ہماری ترجیح ہوں گے۔
٭    خانیوال سے رائے ونڈ اور شاہدرہ سے لالہ موسیٰ کے درمیان پٹڑی کو دو رویہ کرنے کا کام مالی سال 2015-16 میں مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ دونوں حصے شمال سے جنوب کی مین لائن کے بیشتر حصے پر مشتمل ہیں۔ آنے والے برسوں میں پاکستان ریلویز باقی پٹڑیوں کو بھی دو رویہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں کراچی سے خانپور کے درمیان پٹڑی کی بحالی کا کام بھی مکمل کیا جائے گا۔ اس دوران خان پور لودھراں سیکشن پر پٹڑی کی بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔
٭    میں یہ بتاتے ہوئے اطمینان محسوس کرتا ہوں کہ ریلوے کے 159 کمزور پلوں کو مضبوط بنانے کا کام جون 2017 تک مکمل کر لیا جائے گا۔
٭     پاکستان ریلویز کو انجنوں اور بوگیوں کی شدید کمی کاسامنا ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں ضروری رقوم رکھی گئی ہیں جن سے 170 نئے انجن خریدے جائیں گے جبکہ 100 پرانے انجنوں کو مرمت کے ذریعے دوبارہ قابل استعمال بنائیں گے۔
٭    علاوہ ازیں 1500 نئی بوگیوں کا انتظام بھی کیا جار ہا ہے۔ پاکستان ریلوے یہ اقدامات اپنے صارفین کے سفر کے تجربے کو خوشگوار بنانے کے لیے کر رہی ہے۔ ریلوے کے سفر کو مزید خوشگوار بنانے کے لیے موجودہ بجٹ میں مختلف شہروں کے ریلوے سٹیشنوں کی بحالی کے لیے خصوصی رقوم مختص کی گئی ہیں۔
٭    اس سال سے ہم ایک اہم منصوبے پر کام شروع کر رہے ہیں جس کے تحت لودھراں۔خانپور۔کوٹڑی سیکشن کے درمیان سگنل کا نظام بہتر بنایا جائے گا۔ اور ایک مرکزی ٹریفک کنٹرول سنٹر بنایا جائے گا۔
٭     موجودہ بجٹ میں مال گاڑیوں کے لیے اضافی بوگیاں خریدنے کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔ اور مال برداری کے لیے علیحدہ پٹڑی بنانے کے لیے فزیبلٹی سٹڈی کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

35۔    حکومت نے اس بجٹ میں ریلوے کے لیے کل ملا کر 78 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جس میں سے 41 ارب روپے 52 ترقیاتی سکیموں کے لیے اور 37 ارب روپے ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے رکھے گئے ہیں۔ موجودہ مالی سال میں ریلوے کے شعبے میں نجی اور عالمی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

انسانی ترقی(Human Development)
جناب اسپیکر!
37۔    کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم سماجی شعبے میں انسانی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات کو سرمایہ کاری کا درجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ مستقبل میں تیز رفتار معاشی ترقی کی بنیاد بنیں گے۔
38۔    ان شعبوں میں اٹھائے جانے والے اقدامات مندرجہ ذیل ہیں۔
٭    HEC کے 143 منصوبوں کے لیے 20.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن سے ملک بھر میں مختلف یونیورسٹیوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ جاری اخراجات کے لیے بھی HECکو 51 ارب روپے دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح اعلیٰ تعلیم کے لیے کل ملا کر 71.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔یہ رقم پچھلے برس کی نسبت 14 فیصد زیادہ ہے۔ جو ملکی مالی حالات کو دیکھتے ہوئے خاصا معقول اضافہ ہے۔
٭    صحت کے شعبے میں خدمات کی فراہمی مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ 2010 میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے تحت وفاقی حکومت نے سال 2014-15 تک صحت اور بہبود آبادی کے قومی پروگراموں کے لیے رقوم فراہم کی ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ برس سے صوبائی حکومتیں ان اقدامات کے لیے خود رقوم فراہم کریں گی۔ تاہم وفاقی حکومت اہم قومی پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں کو تکنیکی امداد مہیا کرتی رہے گی۔
٭    ہم نے مسلم لیگ کے منشور میں اور بعد ازاں وزیراعظم نے اپنے اس عزم کا اعلان کیا تھا کہ ہم تعلیم پر ہونے والے اخراجات اپنے دور حکومت میں GDPکے 4 فیصد تک بڑھا دیں گے۔ ہم اپنے اس عزم پر قائم ہیں لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ تعلیم پر اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ صوبائی سطح پر کیا جاتا ہے اور مجموعی تعلیمی اخراجات میں وفاق کا حصہ صرف20 فیصد ہے۔ تعلیم پر اخراجات کی موجودہ شرح یعنی GDP کا 1.67 فیصد کو 4 فیصد تک لے جانے کے لیے، وفاقی حکومت کو اپنی موجودہ شرح یعنیGDP کا 0.34 فیصدسے بڑھا کر 0.80 فیصد کرنا ہو گا۔ جبکہ صوبوں کو اپنے موجودہ حصے یعنی GDPکے 1.3فیصد کو بڑھا کر 3.2 فیصد کرنا ہو گا۔وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری کو پورا کرے گی اور National Economic Council کے حالیہ اجلاس کی روشنی میں جہاں اس موضوع پر بھی گفتگو ہوئی اس کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گی۔

TDPs and Security Enhancement
َ(Special Development Package)
جناب اسپیکر!
39۔    ہماری قوم نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے مال و جان کی بے بہا قربانیاں دی ہیں لیکن یہ ایک ایسی لعنت ہے جس کے خاتمے کیلئے طویل المدتی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ آپریشن ضرب عزب اس مصیبت کے مستقل خاتمے کے عزم صمیم کے ساتھ شروع کیا گیا تھا اور ہماری افواج نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے اور مثالی کامیابیاں سمیٹی ہیں جس کے لیے افواج پاکستان مبارکباد کی مستحق ہیں۔ تاہم پسپا ہوتے ہوئے دشمن کی جانب سے پشاور اور کراچی میں کی جانے والی بزدلانہ کارروائیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جنگ جاری ہے اور ابھی آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں آیا ۔

40۔    اِن واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اندرونی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان علاقوں کی حفاظت کرنا ہے جہاں سے دہشت گردوں کو نکالا جا چکا ہے۔ ہمیں گھر سے بے گھر ہوجانے والے لوگوں(TDPs) کو اپنے گھروں میں باوقار طریقے سے آباد کرنا ہے تاکہ وہ نئے سرے سے اپنی زندگیاں شروع کر سکیں۔چنانچہ ایک مکمل حکمت عملی کے تحت TDPs کی واپسی اور مستقبل کے لیے Scurity Enhancement کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے 100 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

MDGs Community Development Program
41۔    MDGs کے حصول اور وسیع تر قومی مفاد میں ترقیاتی کاموں کو مقامی سطح پر لے کر جانے کے لیے حکومت نے صحت ، تعلیم ، چھوٹی سڑکوں، بندوں اور چھوٹے ڈیموں پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ترقیاتی سکیمیں شروع کرنے کا پروگرام بنایا ہے جن کی نشاندہی بھی صوبائی حکومتیں کریں گی اور مقامی لوگوں کی مدد سے ان پر عملدرآمد کی ذمہ دار بھی صوبائی حکومتیں ہی ہوں گی۔ اس پروگرام کے لیے بجٹ 2015-16 میں 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (China Pakistan Economic Corridor)
42۔    چین پاکستان اقتصادی راہداری وزیراعظم نواز شریف اور اعلیٰ چینی قیادت کا Vision ہے جس کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان تاریخی رابطوں کو بحال کرنا اور مزید بہتر طور پر تعمیر کرنا اور آخر کار اس کو وسط ایشیا اور مغربی ایشیا تک بڑھایا جاناہے۔ ہم اس کلیدی منصوبے پر فخر محسوس کرتے ہیں جو پاکستانی معیشت کی تقدیر بدل دے گا۔

43۔    چائنا پاکستان اکنامک کوریڈو(CPEC)ہماری اہم ترجیح ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل چینی صدر ژی جن پنگ (Xi Jin Ping) اور وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے تقریباً 46 ارب ڈالر مالیت سے سڑکوں، ریلوے ، ٹیلی کام ، گوادر پورٹ ، اور توانائی کے مختلف منصوبوں کی تعمیر کے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔ CPEC دونوں برادر ممالک اور خطے کو جوڑنے کی اہم بنیاد ہے۔یہ کوریڈور بازی بدلنے (Game Changer)کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انشاءاللہ ہمارا ملک اور اس کے عوام خوشحالی کی اس منزل کو پا لیں گے جس کی ان سے توقع ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے 28 مئی 2015 کو تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو منصوبے کے حوالے سے اعتماد میں لیا تا کہ اس سلسلے میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی اور اب یہ قومی اتفاق رائے کا منصوبہ بن گیا ہے۔ ہم اس منصوبے کے بیرونی ناقدین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اس قومی اتفاق کے منصوبے پر نہ بے جا اعتراض اٹھائیں اور نہ ہی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں کیونکہ ہم اس طرح کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

44۔     کراچی لاہور موٹر وے کے مختلف حصوں کی تکمیل کے علاوہ ہم نے CPEC کے دیگر حصوں پر کام شروع کرنے کے لیے رقوم مختص کر دی ہیں۔ اسلام آباد۔ڈیرہ اسماعیل خان روٹ کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے زمین حاصل کرنے اور ٹیکنیکل سٹڈی کی خاطراس بجٹ میں 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں تھاکوٹ۔حویلیاں لنک پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔یہ شاہراہِ قراقرم فیز IIکے رائے کوٹ۔اسلام آباد حصے کا اہم سیکشن ہے ۔جس کے لیے 29.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔CPEC کے تحت ریلوے سیکٹر میں بھی وسیع سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس سے پاکستان میں تیز رفتار جدید اورقابل اعتماد ریلوے سفرکا آغازہوگا۔

CPEC پروگرام میں شامل چند اہم منصوبے یہ ہیں:
۔    پورٹ قاسم پر کوئلے سے 660 میگا واٹ بجلی بنانے کے دو منصوبے (IPP)۔
۔    مٹیاری سے قومی گرڈ کو بجلی کی ترسیل (IPP)۔
۔    تھر بلاک۔II سے 3.5 میٹرک ٹن سالانہ کوئلہ نکالنے اور 330×2 MW بجلی پیدا کرنے کے منصوبے
۔    بہاول پور میں شمسی توانائی کا پارک۔
۔    پانی سے 2793 میگاواٹ بجلی بنانے کے تین منصوبے۔
۔    کراچی لاہور موٹر وے کا ملتان سکھر سیکشن۔ (387 کلومیٹر)
۔    شاہراہ قراقرم کا دوسرا مرحلہ۔ رائی کوٹ سے اسلام آباد
۔    فائبر آپٹک
۔    کراچی ، لاہور ، پشاور (ML-1) ریلوے پٹری کی بحالی اور اَپ گریڈیشن۔
۔    گوادر پیکیج
۔    East Bay Expressway at Gawadar(18.98 km)
۔    جھم پیر میں ہوا سے 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ۔
۔    ساہیوال میں کوئلے سے 660 میگاواٹ بجلی بنانے کے 2 منصوبے۔
۔    گڈانی میں Jetty اور دیگر Infrastructure

45۔    حکومت پاکستانCPEC منصوبوںکی تمام منصوبوںکی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

گوادر کی ڈویلپمنٹ
46۔    آنے والے دنوں میں گوادر پاکستان کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اس علاقے کی ڈویلپمنٹ کیلئے بہت سنجیدہ ہے۔ چنانچہ ہم اپنے وسائل کا ایک خاطر خواہ حصہ بہت سے ایسے Projects کیلئے مختص کر رہے ہیں جو گوادر کی ترقی کیلئے اہم ہیں۔ ان میں سے چند Projects درج ذیل ہیں۔
a۔    New Gawadar International Airport کیلئے 2014-15 میں 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔
b۔    2 ارب روپے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے مختص کئے گئے ہیں اور
c۔    گوادر میں پانی کی فراہمی ، Treatment اور Distribution کی سہولیات کیلئے اگلے بجٹ میں 3 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

بجٹ 2014-15 میں اعلان کئے گئے نئے اقدامات پر عملدرآمد کی رپورٹ
جناب سپیکر!
47۔    اس سے قبل کہ میں بجٹ 2015-16 کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کروں میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اس معزز ایوان کے سامنے گزشتہ بجٹ میں اعلان کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کروں۔ بجٹ 2014-15 میں حکومت نے مختلف شعبوں بشمول ٹیکسٹائل ، برآمدات، زراعت، صحت، ٹیلی کام ، ٹیکس اور Social Safety Nets کے حوالے سے متعدد نئے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ ان اقدامات میں کئی نئے ادارے بنانے کا اعلان تھا جیسے لینڈ پورٹ اتھارٹی، Mortgage Refinance Company ، نیشنل فوڈ سیکورٹی کونسل وغیرہ ۔ علاوہ ازیں کئی نئی سکیموں کا اعلان کیا گیا جن میں چھوٹے کسانوں کے لیے Credit Guarantee Scheme ، فصلوں کے بیمے کی Reimbursement ، وزیراعظم اسکیم برائے کم لاگت مکانات اور صحت کے بیمے کا اجراءشامل ہیں۔ ان سوچے سمجھے اقدامات کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے ہم نے وسائل کی کمی کے باوجود ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کئے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ کل 34 اقدامات میں سے 20 پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے اور باقی ماندہ پرعمل جاری ہے۔

خصوصی اقدامات (Special Initiatives) برائے مالی سال 2015-16
48۔    پاکستان تیز رفتار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ تبدیلی کے اس مرحلے پر ہمیں چاہیے کہ حال ہی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنائیں، اصلاحات کے عمل کو تیز کریں اور پیچھے رہ جانے والے شعبوں کی ترقی کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ تقریر کے اس حصے میں، میں آخری معاملے پر بات کروں گا کیونکہ باقی دو کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اب میں ان شعبوں کی ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے چند اقدامات کا ذکر کرتا ہوں۔

برآمدات کا فروغ
49۔    میں نے پہلے ہی اس سال برآمدات کی کمزور کارکردگی کا ذکر کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو عالمی منڈی میں اشیاءخصوصاً کپاس اور چاول کی قیمتوں میں کمی ہے۔ ایک چھوٹا ملک عالمی قیمتوں کو متاثر نہیں کر سکتا مگر ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے معاملات پر بھی نظر دوڑائیں جو ہماری برآمدات کی مسابقتی استعداد کو متاثر کررہے ہیں۔
(1)    EXIM Bank of Pakistan (Specialized DFI) برآمدی شعبے کو قرضے کی فراہمی بڑھانے، طویل المدتی برآمدی قرضے کی قیمت کم کرنے،Export Credit Gaurentees اور بیمے کی سہولیات کے ذریعے برآمد کنندگان کا Risk کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ یہ بنک مالی سال 2015-16 سے کام شروع کر دے گا۔
(2)    Export Refinance Facility(ERF) : گزشتہ بجٹ میں حکومت نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے ذریعے برآمدات کنندگان کو دیئے جانے والے قرضے پر مارک اپ کی شرح کو 9.4فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصدکر دیا تھا اس ریٹ کو فرروی 2015میں کم کر کے 6 فیصد کیاگیااور یکم جولائی2015 سے اسے مزیدکم کر کے 4.5 فیصد کیا جا رہا ہے۔
(3)    Long Term Finance Facility (LTFF) : گزشتہ بجٹ میں حکومت نے اسٹیٹ بنک کے ذریعے 3 سے 10 سالہ مدت کے قرضوں کے مارک اپ کو 11.4فیصد سے 9 فیصدکیا تھا تاکہ برآمدی شعبے کی صنعتیں مسابقتی بنیادوں پر سرمایہ کاری کر سکیں۔ اس ریٹ کو فروری 2015 میں کم کر کے 7.5 فیصد کیا گیا اور یکم جولائی 2015 سے اسے مزید کم کرکے 6فیصد کیا جا رہا ہے۔
(4)     Removing Anti Exports Bias in Imports : اس بجٹ میں چند ایسے اقدامات کا اعلان کیا جا رہا ہے جن سے ٹیرف کی شرح کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے گا اور برآمدی صنعتوں پر لاگو ہونے والے ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے بتدریج Anti Exports Bias کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس سے ہماری برآمدات عالمی منڈیوں میں بہتر مقابلہ کر سکیں گی۔
(5) Export Development Initiatives : برآمدات میں فروغ کے لیے وزارتِ تجارت درج ذیل شعبوں میں مختلف اقدامات کررہی ہے:
a.     Product Diversification
b.    Value Addition
c.    Trade Facilitation
d.    Enhanced Market Access اور
e.    Institutional Strenghthening
ان اقدامات پر عملدرآمد کے لیے بجٹ میں 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ Export Development Fund کے بورڈ کی بھی تشکیلِ نو کی گئی ہے۔ جس سے اس پروگرام کے نفاذ میں مدد ملے گی۔
(6)     لینڈ پورٹ اتھارٹی آف پاکستان کے قیام: لینڈ پورٹ اتھارٹی آف پاکستان کے قیام کا Pocessشروع ہو چکا ہے۔ سال 2014-15 کے دوران ہم نے طورخم کی سرحد پر Terminal کی تعمیر کے لیے 352 ملین روپے خرچ کیے ہیں تاکہ یہ ایک جدید پورٹ کے طور پر کام کر سکے۔

ٹیکسٹائل پیکج:
50۔    پاکستانی معیشت میںٹیکسٹائل کے شعبے کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ٹیکسٹائل کاہماری برآمدات میں نصف حصہ ہے۔ روزگار فراہم کرنے میں بھی یہ تمام صنعتوں میں ممتاز ہے۔ اس شعبے کی طویل پیداواری زنجیر میں کپاس چننے، ginning،spinning، weaving، knitting،processing اور stitching شامل ہیں جن میں ہر سطح پر value addition ہوتی ہے۔ اس شعبے کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت نے گذشتہ بجٹ میں ایک خصوصی ٹیکسٹائل پیکیج کا اعلان کیا تھا۔مندرجہ ذیل سہولیات مالی سال 2015-16میں بھی میسر رہیں گی:۔
(1)     ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19 کے تحت 2019 تک ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کو دوگنا کرنے اور شعبے میں روزگار کے 30 لاکھ اضافی مواقع پیدا کرنے کیلئے 64.15 ارب روپے کے مالیاتی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے۔
(2)    ٹیکسٹائل شعبے کے مختلف مسائل کو حل کرنے اور ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19 پر عملدرآمد کیلئے حکومت نے فیڈرل ٹیکسٹائل بورڈ کی تشکیل نو کی ہے اور اب اس کے ارکان میں نجی شعبے کی Majorityہے۔
(3)    Textiles Exporters کو مقامی محصولات سے چھوٹ کی سہولت2015-16 میں بھی حاصل رہے گی جس کے تحت برآمدات میں 10 فیصد اضافہ کرنے والے برآمد کنندگان کو برآمدات کی FOB ویلیو کے حساب سے مندرجہ ذیل شرح کے مطابق Drawback دیا جائے گا۔
٭    Garments        5 فیصد
٭    Made-ups        3فیصد اور
٭    Processed fabric    1فیصد
(4)    یکم جولائی 2015 سے Textile Exporters کو بھی ملکی تاریخ کے موزوں ترین ریٹس پر Export Refinance Facility ، 4.5 فیصد پر اور Long Term Finance Facility ، 6 فیصد پر مہیا ہو گا۔
(5)     SRO-809 کے تحت ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی مالی سال 2015-16 میں بھی صفر رہے گی۔
(6)    پلانٹ اور مشینری میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19 کی روشنی میں Technology Upgradation Fund Scheme کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
(7)    حکومت بیج کی جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں Seed Act قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے۔ جبکہ Plants Breeders Rights Act بھی ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا۔اس قانون کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور جلد ہی اسے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
(8     ٹیکسٹائل کے شعبے پر 120,000 غیر تربیت یافتہ خواتین و حضرات کی تربیت کیلئے 4.4 ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک میگا پروجیکٹ پر ابتدائی کام مکمل کیا جا چکا ہے اور مالی سال 2015-16 میں اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

زراعت (Agriculture)
51۔    اس شعبے کی عملی کاموں کی ذمہ داریوںکے ایک بڑے حصے کے صوبوں کو Devolve ہونے کے باوجود زراعت پر ہماری حکومت کی خصوصی توجہ ہے۔ کسانوںکو اجناس پر اچھی قیمتیں ملنا ، مارکیٹ میں اتار چڑھا¶ اور قدرتی آفات کی صورت میں تحفظ حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

52۔    زرعی شعبے کی مدد کے لیے ٹیکس ترغیبات دی جا رہی ہیں جن کا ذکر تقریر کے دوسرے حصے میں آئے گا۔یہاں میں گذشتہ برس میں کیے گئے اقدامات کا ذکر کروں گا۔
(1)    Credit Guarantee Scheme for Small and Marginalized Farmers :    گذشتہ بجٹ میں چھوٹے کسانوں کو قرضے فراہم کرنے کیلئے گارنٹی اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا جس پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت اسٹیٹ بنک کے ساتھ مل کر کمرشل بنکوں اور مائیکرو فنانس بنکوں کو زرعی قرضوں پر 50فیصد نقصان کی شراکت داری کی گارنٹی فراہم کرے گی۔ اس اسکیم کے تحت پانچ ایکڑ نہری اور 10ایکڑ بارانی ملکیت والے کسانوں کو قرضے دیئے جائیں گے۔ اس اسکیم کے تحت تین لاکھ کسان گھرانوں کو ایک لاکھ روپے تک کے قرضے ملیں گے۔ اسکیم کے تحت کل 30 ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے جبکہ حکومت کو بوقتِ ضرورت 5 ارب روپے لگانے پڑیں گے۔
(2)     Crop Loan Insurance Scheme (CLIS) فصلوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں کے بیمے کی اسکیم پر عمل ہو رہا ہے۔ یہ اسکیم مستقبل میں بھی جاری رکھی جائے گی۔
(3)    Livestock Insurance Scheme: زراعت میں Live Stock کا حصہ Major Crops سے بھی زیادہ ہے۔ حال ہی میں اس شعبے میں وسیع سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اورکسانوں کو مویشی پالنے کی ترغیب دینے کے لیے پچھلے سال ہم نے چھوٹے کسانوں کے مویشیوں کو لاحق خطرات کو Cover کرنے کے لئے انشورنس کے پریمیم کی Reimbursement کی اسکیم کااعلان کیا تھا۔اس اسکیم پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور اس کے تحت 10 مویشی رکھنے والے کسانوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
(4)    زرعی قرضہ جات: ہم زرعی قرضہ جات میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں امید ہے کہ زرعی پیداوار بڑھانے میں قرضے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ رواں مالی سال میں حکومت نے زرعی قرضہ جات کی حد 380 ارب روپے سے بڑھا کر 500 ارب روپے کر دی تھی۔ جو کہ 32 فیصد کا اضافہ تھا۔ مجھے اس ایوان کو یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 10ماہ میں زرعی قرضہ جات 369 ارب روپے تک دیے جا چکے ہیں جو کہ ہمارے ہدف کے مطابق ہے۔ آئندہ برس ہم اس میں 20 فیصد اضافہ کرتے ہوئے زرعی قرضے کو 600 ارب روپے تک لے جائیں گے۔قرضوں کی فراہمی میں اضافے اور انشورنس سکیموں کی بنا پر کسانوں کو مالی سسٹم تک رسائی میں مزید سہولت پیدا ہوگی۔
(5)    شمسی توانائی سے چلے والے ٹیوب ویلوں کے لیے بلا سود قرضے: وزیراعظم نواز شریف کی منظوری سے چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے اور ڈیزل اور بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر آنے والے بھاری اخراجات کم کرنے کے لیے نئے شمسی(Solar) ٹیوب ویل لگانے یا پرانے ٹیوب ویلوں کو نئے شمسی ٹیوب ویلوں سے تبدیل کرنے کے لیے کسانوں کو بلا سود قرضے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شمسی توانائی سے چلنے والے آدھا کیوسک ٹیوب ویل کی قیمت تقریباً 11 لاکھ روپے ہے۔ ان کی خریداری پر حکومت ایک لاکھ روپے جمع کرانے والے کسان بھائیوں کو کمرشل بنکوں کے ذریعے بغیر مارک اَپ قرضے فراہم کرے گی۔ ان قرضوں کا Mark-up حکومت خود ادا کرے گی۔ اس سکیم کے تحت آئندہ 3 برسوں میں 30 ہزار ٹیوب ویل لگانے کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔ 12.5 ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کسان اس قرضے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔اگر کسی برس قرضے کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ جائے گی تویہ قرضے Open Transparent Ballot کے ذریعے دیے جائیںگے۔ شمسی ٹیوب ویل لگانے والے کسان کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ روزانہ 5 گھنٹے ڈیزل انجن چلانے والے کسان کو 1660 روپے یومیہ کی بچت ہو گی، جبکہ بجلی سے 5 گھنٹے ٹیوب ویل چلانے والے کسان کو 466 روپے یومیہ بچت ہو گی۔
(6)    Production Index Units (PIU) کی قدر میں اضافہ: Production Inex Units کی موجودہ قدر جولائی 2010 میں 2000 روپے مقرر کی گئی تھی۔ زرعی زمین کی موجودہ قیمتوں کے مقابلے میں یہ قدر ناکافی ہے۔ کسانوں کو زیادہ Financing Facilities کااہل کرنے کے لیے PIU کی شرح کو یکم جولائی 2015 سے 3000 روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم ہیلتھ انشورنس سکیم

53۔    وزیراعظم کی Health Insurance Scheme کے تحت سنجیدہ اور موذی امراض کے علاج کیلئے بیمہ کی سہولت مہیا کی جائے گی۔2015-18میں اس اسکیم کی Premium Cost ، 9 ارب روپے ہو گی۔ ابتدا میں یہ اسکیم 23اضلاع میں شروع کی جارہی ہے۔ آئندہ تین برسوں میں اس کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے یہ سہولت 60فیصد غریب ترین لوگوں کو مہیا کی جائے گی۔ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں یعنی اسلام آباد ، فاٹا ، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں اس سکیم کے تحت Secondary Medical Coverage بھی مہیا کی جائے گی۔ Benificiaries کا انتخاب کرنے کیلئے BISP میں استعمال کیا جانے والا Score Card استعمال کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی خصوصی اسکیمیں

54۔    الیکشن کے دوران کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی بابت، بالخصوص نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے سال 2013-14 کے بجٹ میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ہدایت پر خصوصی اسکیموں کا اجراءکیا گیا۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس ایوان کے سامنے ایک جائزہ پیش کروں کہ لوگ اس سے کس طرح مستفید ہورہے ہیں۔
1)    PM Youth Business Loan Scheme : نوجوانوں کی کاروباری صلاحیت کو ترقی دینے اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے اس اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت کی حامل یہ اسکیم رعایتی Mark-up پر قرضے مہیا کرتی ہے۔ یہ بات حوصلہ افزاءہے کہ نیشنل بنک اور فرسٹ وومن بنک کے بعد 7 نجی شعبے کے بنک بھی اس پروگرام میں شامل ہو گئے ہیں۔اب تک اس اسکیم کے تحت 15 ہزار قرضے منظور ہوئے ہیںجبکہ تقریباً 20 ہزار درخواستیں زیر غور ہیں۔یکم جولائی 2015 سے اس سکیم کے تحت قرضہ پر Mark-up شرح میں 2 فیصد کمی کی جارہی ہے یعنی 8 فیصد سے6 فیصد کیا جا رہا ہے۔
2)    PM Youth Skills Development Scheme :اس منصوبے کا مقصد پورے ملک میں ہنرمندی میں اضافہ اور بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تربیت دے کر روزگار فراہم کرنا ہے۔ اب تک 20 ہزار نوجوان اس منصوبے سے مستفید ہو چکے ہیں جبکہ 25 ہزار مزید نوجوانوں کی تربیت کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے۔ سال 2015-16 کیلئے اس پروگرام کو دینی مدارس ، کم عمر قیدیوں اور دہشت گردی کے شکار افراد تک پھیلایا جا رہا ہے۔
3)    PM Interest Free Loans Scheme: اس سکیم کے تحت ایسے خواتین و حضرات ، جن کا غربت گنتی کارڈ (PSC) میں سکور 40 ہے اور انہیں بنک یا چھوٹے قرضوں کے اداروں تک رسائی نہیں ان کو اوسطاً 50 ہزار روپے تک قرضے فراہم کئے جاتے ہیں۔ سال 2014-15 میں اس سکیم کے تحت 1.75 ارب روپے جاری کئے گئے۔ اب تک اس سکیم سے 44 ہزار افراد مستفید ہوئے ہیں اور اس کی شرح وصولی 100 فیصد ہے۔اس اسکیم کو آئندہ سال مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
4)    PM Fee Reimbursement Scheme for Less Developed Areas: اس اسکیم کے تحت ایسے طلباءجو اعلیٰ تعلیمی کمیشن (HEC) کے منظور شدہ حکومتی تعلیمی اداروں میں Ph.D یا Master پروگرام میں داخل ہیں اور جو کم ترقی یافتہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، مرکزی حکومت اُن کے تعلیمی اخراجات ادا کرتی ہے۔ ان علاقوں میں بلوچستان، گلگت بلتستان، فاٹا، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب (ملتان، بہاول پور اور ڈی جی خان، لیہ ، میانوالی، بھکر، خوشاب، اٹک) اور خیبر پختونخواہ (لکی مروت، بٹ گرام، کالا ڈھاکہ ، تورغر ، کوہاٹ، بنوںاور ہنگو) کے کم ترقی یافتہ اضلاع شامل ہیں۔ سال رواں میں اس سکیم سے مجموعی طور پر 41,871 طلباءمستفید ہوئے۔ جبکہ اوسطاً 35 ہزار روپے فی طالب علم تعلیمی اخراجات مرکزی حکومت نے برداشت کئے۔ زیادہ سے زیادہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے HEC نے Student Service Portal قائم کیا ہے جس کے تحت online درخواست جمع کروانے اور مستفید طلباءکے اعداد و شمار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ اس سکیم کے تحت داخلوں میں 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
5)    PM Youth Training Scheme:اس سکیم کے تحت ملک بھر میں 16 سال تعلیم رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کو Internship دی جائے گی۔ اس پروگرام کے ذریعے ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، ان کے روزگار حاصل کرنے کا امکان بڑھ جائے گا ، ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کی منڈی میں داخلے کے لیے ان کو ضروری تجربہ بھی میسر ہوگا۔ اس سلسلے میں ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا اور مالی سال 2015-16 سے اس سکیم کا آغاز کر دیا جائے گا جس کے تحت پہلے مرحلے میں 50 ہزار نوجوانوں کو سرکاری اور نجی شعبے میں Internship دی جائے گی جس کیلئے وظیفے کی رقم 12 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ Internships قومی مالیاتی کمیشن کے فارمولے کے مطابق دی جائیں گی۔
(6    PM Scheme for Provision of Laptops: اس سکیم کے تحت PPRA رولز کے مطابق کھلے مقابلے کے ذریعے Transperancy International کی نگرانی میں لیپ ٹاپ خریدے جاتے ہیں اور پاکستان بھر اور آزاد جموں و کشمیر کی سرکاری یونیورسٹیوں کو فراہم کئے جاتے ہیں۔ اس طرح اب تک 70 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک جدید مقامی پلانٹ کے ذریعے 700 لیپ ٹاپ مقامی طور پر بھی تیار کئے گئے ہیں۔ اس طرح اس اسکیم سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

55۔    مالی سال 2015-16میں وزیراعظم کی ان تمام خصوصی اسکیموں پر عملدرآمد کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔

Performance Management and Compensation System
پبلک سیکٹر کے اندر Performance Management کے موثر نظام کی عدم موجودگی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔اس لیے انفرادی، محکمانہ اور مجموعی، ہر سطح پرPerformance Management and Compensation Systemکے ذریعے انتظامی امور Efficiencyلانے کی اشد ضرورت ہے۔اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان نے ایک Performance-based Remuneration Committee قائم کی ہے ۔ اس کمیٹی کی ابتدائی سفارشات کی روشنی میں 2015-16 کے بجٹ میں ایک ارب روپے کے وسائل مختص کئے جا رہے ہیں جن سے پہلے سے طے شدہ نتائج کی روشنی میں جانچتے ہوئے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی منسٹریوں ، ڈویژنوں اور افراد کو Compensation دی جائے گی۔

Budget Estimates
جناب اسپیکر!
56۔    اب میں آئندہ مالی سال کے محاصل اور اخراجاتی Estimates کی طرف آتا ہوں۔

57۔    مالی سال 2015-16 کے لیے وفاقی حکومت کے مجموعی مالی محصولات کا تخمینہ 4,313 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ 2014-15 کے 3,952 ارب روپے کے مقابلے میں 9.1 فیصد زیادہ ہے۔ ہم نے ٹیکس وصولی کے لیے ایک بڑا ہدف رکھا ہے۔کیونکہ معاشی ترقی کے لیے ضروری سمجھے جانے والے ترقیاتی اخراجات میں زیادہ ٹیکس وصولی کے بغیر اضافہ ممکن نہیں ہے۔ میں اس سلسلے میں اپنی تقریر کے حصہ دوئم میں مزید تفصیل بیان کروں گا۔

58۔    صوبائی حکومتوں کا ان ٹیکسوں میں حصہ اضافے کے ساتھ 1,849 ارب روپے ہے جو گذشتہ سال کے نظرثانی شدہ 1575 ارب روپے کے مقابلے میں 17.4 فیصد زیادہ ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کے پاس باقی ماندہ وسائل 2,463 ارب روپے رہ جائیں گے جو کہ گذشتہ سال کے 2,378 ارب روپے سے3.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ نئے انتظامات کے تحت صوبائی حکومتوں کی سماجی شعبے میں Service Delivery کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا ہم صوبائی حکومتوں کو پاکستان کے لوگوں کے لیے سماجی خدمت اور امن عامہ کی ذمہ داری بہتر طور پر ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے صوبوں کو دی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

59۔    بجٹ میں مالی سال 2015-16 کے کل اخراجات 4,089 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ2014-15 کے Revised Estimates کے 3,902ارب روپے سے صرف 4.8 فیصد زیادہ ہیں جو آئندہ سال کے افراطِ زر کے ہدف سے کم ہے۔ اگر Real Terms میں دیکھا جائے تو حکومتی اخراجات بڑھنے کی بجائے حقیقت میں کم ہوئے ہیں۔ محصولات میں بتدریج اضافہ اور اخراجات میں کمی سے ہماری معیشت Stabilize ہوئی ہے۔

60۔    Current Expenditure کا تخمینہ برائے سال 2015-16 ، 3,128 ارب روپے ہے جب کہ 2014-15 کے Revised Estimates 3151 ارب روپے ہیں، یعنی ان اخراجات میں کمی ہو رہی ہے۔ تاہم ہم نے سیکیورٹی کی صوتحال کو مد نظررکھتے ہوئے مسلح افواج کی ضروریات کا خیال رہا ہے اور 2014-15 کے 700 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کو اگلے سال بڑھا کر 780 ارب روپے بڑھا دیا ہے جو کہ 11 فیصد کا اضافہ ہے۔

61۔     ایک ترقی پذیر معیشت کی سرمایہ کارانہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ PSDP کے لیے 2014-15 میں 542 ارب کے مقابلے میں 2015-16 میں 29 فیصد اضافے کے ساتھ 700 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس میں سیکیورٹی میں اضافے کے لیے Special Development Program اور Temprarily Displaced Persons (TDPs) کی باعزت واپسی اور اُن کے علاقوں کی تعمیرِ نو شامل ہیں۔

62۔     جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ہم 2014-15میں بجٹ خسارے کو کم کر کے 5 فیصد تک لے آئے ہیں۔2015-16 میں ہمارا ہدف اسے مزید کم کرکے 4.3 فیصد تک لانے کا ہے۔ سال 2015-16 کے لیے وفاقی خسارے کا تخمینہ 1625 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ گذشتہ برس یہ خسارہ 1524 ارب روپے تھا۔ صوبوں کی جانب سے 297 ارب روپے کے Surplus کے بعد 2015-16 کا خسارہ 1328 ارب روپے رہ جاتا ہے جو گذشتہ سال کے نظر ثانی شدہ 1383 ارب روپے کے خسارے سے کم ہے۔

حصہ دوم

جنابِ سپیکر!
اب میں تقریر کا دوسرا حصہ پیش کرتا ہوں جو ٹیکس تجاویز پر مشتمل ہے۔

-1    ملک کو اپنے عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے وافر مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت ٹیکسوں میں اضافے کو معیشت میں ترقی سے مشروط سمجھتی ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کومنظم کرنے اور ایک منصفانہ ٹیکس نظام کے لئے اپنی کوششوں کو اور تیز کرنا ہوگا۔ پچھلے سال کے بجٹ کی طرح اس بار بھی ہم نے ایک شعوری کوشش (Conscious Effort) کی ہے کہ ہماری ٹیکس تجاویز کا بوجھ غیر مراعات یافتہ طبقے اور غریب آدمی پر نہ پڑے۔ ہماری بجٹ تجاویز اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ با ثروت افراد اور خصوصی طور پر وہ لوگ جو ٹیکس نہیں دیتے وہ بھی قومی فریضہ ادا کرتے ہوئے ٹیکس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

جناب اسپیکر!
-2    ٹیکس تجاویز کے نمایاں خطوط
2015-16 کے لئے دی جانے والی تجاویز مندرجہ ذیل نمایاں خطوط پر مبنی ہیں۔
(i)    Exemptions اور غیرمساوی رعائتوں کوختم کرنے کی غرض سے ایس آر اوز کو واپس لینے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد۔
(ii)     Filersاور Non-Filers کے لئے ٹیکس کی الگ الگ شرحوں کے نظام کومزید وسیع کرنا تا کہ قانون پر عمل درآمد کرنے والوںپر مزید بوجھ ڈالے بغیر قانون سے رُوگردانی کرنے والوں کیcost of doing businessزیادہ کی جائے تاکہ وہ بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔
(iii)    کسٹم ٹیرف کی اصلاح کرنا تا کہ Slabs کی تعداد اور ڈیوٹی کی شرح کو کم کیا جائے۔
(iv)    ٹیکس کے قوانین اور طریقہ‘¿ کارپر نظرثانی تا کہ صوابدیدی احتیارات کم کئے جاسکیں۔
(v)     ٹیکسوں میںdistortoinsکا خاتمہ۔
(vi)    Tax base کو وسعت دینے اورDocumentation کے لئے اقدامات
(vii)     مجوعی ٹیکسوں میں Direct Taxes کا حصہ بڑھانا۔

ریونیو اقدامات(Revenue Measures)
-3 اب میں بجٹ کے مندرجہ ذیل ریونیو اقدامات کا ایک مختصر خلاصہ پیش کرتے ہوئے تجویز کرتا ہوں کہ:
(الف) Securitiesکے لئے ٹیکس کی شرح اور ہولڈنگ پیریڈ میں تبدیلی:
ٹیکس سال 2015ءکے لئے سیکورٹیز پرCapital Gain پر ٹیکس کی شرح کو ایک سال تک رکھی ہوئی (Securities)پر 12.5 فیصد تک بڑھایا گیا تھااور ایک سے دو سال تک رکھی سیکورٹیز(Securities) کے لئے یہ شرح 10فیصد کردی گئی تھی۔ٹیکس کی شرحوں کو بتدریج بڑھانے کی اِس پالیسی کے مطابق اِن شرحوں کو 12.5فیصد سے بڑھاکر 15فیصد اور 10فیصد سے بڑھاکر 12.5فیصد کردیاجائے۔ مزید یہ کہ جو سیکورٹیز دو سال سے زیادہ اور چار سال سے کم عرصے کے لئے رکھی گئی ہوں اُن پر 7.5فیصد کی شرح سے ٹیکس عائدکیا جائے۔

(ب) ٹیکس قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کا بڑھتا ہوا بوجھ
ٹیکس کلچر کے فروغ ، ٹیکس قوانین پر عمل نہ کرنے کی حوصلہ شکنی اور اُن شہریوں کے تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے ، جو اپنے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور نتیجتاً ٹیکس نہ دینے والوں کے مقابلے میں کاروبار کرنے کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، اِن دو طبقوں میں بجٹ 2014-15 میں ایسا فرق پیدا کیا گیا تھا کہ ٹیکس نہ دینے والوں پرWithholding Taxکی شرح زیادہ لگائی گئی تھی۔اس اقدام کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے Filers اور Non-Filersکے لئے ٹیکس کی مختلف شرحیں مزید شعبوں تک بڑھائی جارہی ہیں۔ لہذا Filers کے مقابلے میںNon-Filersکے لئے Contractsپر ٹیکس کی شرح 3 فیصد، سپلائرز پر 2فیصد، کمیشن ایجنٹ پر3 فیصد اور Profit on Depositپر2.5 فیصدتک بڑھائی جائے۔Non-Filers ٹرانسپورٹرز پر بھی مختلف شرح سے اضافہ کیا جائے ۔اسی طرح Non-resident ٹیکس گزاروں پر بھی ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جائے۔یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ کوئی بھی شخص گوشوارہ داخل کرنے کے بعداِس ایڈوانس ٹیکس سے بچ سکتا ہے اور adjustmentیا ریفنڈبھی کلیم کرسکتا ہے۔

(ج)Non-Filers پر Banking Instrumentsاور ٹرانسفرکے دیگر ذرائع پر ایڈوانس انکم ٹیکس
پاکستان میںDocumented Economy کے متوازی چلتی ہوئی Un-Documented Economyایک بہت بڑا پالیسی چیلنج ہے ۔یہ غیررسمی، غیراُصولی شعبہ ریاست کی طرف سے دی گئی تمام خدمات سے مستفید تو ہوتا ہے لیکن اُن محصولات میں اپنا حصہ نہیں ڈالتا جو اِن خدمات کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ لہذا 0.6 فیصدکی شرح سے اُن لوگوںکی تمام Banking Instrumentsاور فنڈز کی ٹرانسفر کے دیگر ذرائع پر ٹیکس عائد کیا جائے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل نہیںکرتے۔ میں یہ بات ایک بار پھر دُہراتا چلوں کہ اس شِق کا اطلاق ٹیکس گزاروں پر نہیں ہو گا۔

(د) بینکنگ کمپنیوںکے مختلف ذرائع آمدن پر ٹیکس کی شرحوں میںRationalization
اس وقت بینکنگ کمپنیوں کے تمام ذرائع آمد ن پر 35 فیصد کی شرح سے ٹیکس لاگو ہے، ماسوائے ڈیویڈنڈ انکم Dividend Income جس پر 10سے 25فیصد کی مختلف شرحوں اور Capital Gain جس پر10اور12.5فیصد کی شرحوں سے ٹیکس لگتا ہے ۔ یہ طریقہءکاربینک کے مختلف ذرائع آمدن میں ایک تفریق کا باعث بنتا ہے ۔اس لئے بینکوں کے مختلف ذرائع آمدن پر موجودہ35فیصد کی شرح سے یکساں ٹیکس لگایا جائے ۔

(ذ) Dividend پر ٹیکس
اِس وقت ڈیوڈینڈکی آمدنی پر 10فیصدکی شرح سے ٹیکس عائد ہے جوبہت سے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔اِس شرح کو 12.5فیصد تک بڑھایا جائے، نتیجتاً Non-Filersکے لیے بھی ٹیکس کی شرح میں 2.5فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے لیکن 5فیصد بدستور Adjustable رہے گا۔ میں یہ واضح کر دوں کہ Mutual Fundsپر ٹیکس کی موجودہ 10فیصد کی شرح برقرار رہے گی۔

(ح) Future Trading کی تجارت سے کپیٹیل گینز پر ٹیکس
Pakistan Mercantile Exchange(PMEX)میںسودوں کی تجارت سے حاصل ہونے والاCapital Gain ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں تا ہم یہ کاروباری حضرات نہ تو گوشوارے داخل کرتے ہیں اور نہ اِن کے اِس لین دین پر کوئی Withholding Taxعائد ہے۔ اِن کے ہر سودے پر 0.1فیصد کی شرح سے ایڈوانس انکم ٹیکس متعارف کرایا جائے ۔

(خ) گھریلو بجلی کا استعمال
اِس وقت ایک لاکھ سے زیادہ روپے کے گھریلو بجلی کے بلوں پر 10فیصد کی شرح سے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر اِس شق کے لئے بنیادی حد کو کم کرکے 75,000روپے کیا جا رہا ہے ۔

(س) مشینری اور آلات کرایہ پر دینا
اِس وقت کرائے پر د یئے جانے والے تجارتی، صنعتی اور سائنسی آلات پر کوئیWithholding Taxعائد نہیں ہے۔Non-Resident ٹیکس گزاروں کے لئے ایسے تجارتی ، صنعتی اور سائنسی آلات کے استعمال یا استعمال کرنے کے حق پر 15فیصد کی شرح سے فائنل ٹیکس عائد ہے ۔ لہذا Resident ٹیکس گزاروں پر بھی مشینری کو کرائے پر دینے اور اُس کے استعمال یا استعمال کرنے کے حق پر 10فیصد کی شرح سے Withholding Taxعائد کیا جائے اور اِسے فائنل ٹیکس تصور کیا جائے۔

(ش) Real Estate Investment Trusts(REIT)سے Dividend
چونکہ اِس وقت REITکے یونٹ ہولڈرز کے لئےDividendکی ادائیگی پر ٹیکس کا کوئی علیحدہ طریقہءکار متعین نہیں کیا گیا ©©©©©©©©©©لہذا ان پر بھیMutual Fundsکے یونٹ ہولڈرز کی طرح اُنہی شرحوں پر ٹیکس عائدکیا جائے۔

(ط)d Dividen تقسیم نہ کرنے پر ٹیکس
حکومت نے کارپوریٹ کلچر کو فروغ دینے کے لئے بہت سے اقدامات اُٹھائے ہیں اور کئی ایسے اقدامات کا اِس بجٹ میں بھی اعلان کیا گیاہے جن سے اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے کارپوریٹ شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ تاہم ایسے تمام اقدامات بے مقصد ثابت ہونگے اگر چھوٹے شیر¿ ہولڈرز کو اُن کی سرمایہ کاری پر منافع نہ ملے۔ایسے شیر¿ ہولڈرزکو تحفظ دینے اور کمپنیوں کو Dividendکی تقسیم پر مائل کرنے کے لئے تجویز ہے کہScheduled بنک اور مضاربہ کے علاوہ، ایسی پبلک کمپنی جو سال کے اختتام کے چھ مہینے کے اندر اندر نقد Dividendتقسیم نہیں کرتی یا dividend اتنی حد تک تقسیم کرتی ہے کہ اُس کے ریزورز(Reserves)، dividend کی تقسیم کے بعد بھی، اُس کے Paidup Capitalکے 100فیصد سے زیادہ ہوتے ہیںتو ایسی زائد رقم پر 10فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔

(ظ) TDPs کی بحالی کے لئے فنڈز
دہشت گردی اور اس کے خاتمے کی کوششوں کی وجہ سے فاٹا اور خیبرپختونخواہ کے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔آبادی کے کمزور طبقوں جیسے عورتوں ،بچوں ، بزرگوں اور بیماروں نے سب سے زیادہ تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ اُن کی میزبانی کرنے والی آبادیوں پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اِن لوگوں کی بحالی کے اخراجات کا تخمینہ 80 ارب روپے لگا یا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اِس جنگ سے متاثرہ لوگوں کو قوم کی مکمل حمایت اور امداد کی اشد ضرورت ہے۔اِس چیلنج کا مقابلہ کرنے اور اِن لوگوں کی باوقار بحالی کے لئے مالدار افراد ، AOPsاور کمپنیوں پر، جن کی ٹیکس سال2015میں آمدنی 50کروڑ روپے سے زیادہ ہے، ایک One Time Tax عائد کیا جائے جس کی شرح بنکنگ کمپنیوں کے لئے آمدنی کا 4 فیصد اوردیگر کے لئے آمدنی کا 3فیصد ہو۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ اس قومی فریضے میں صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں گے اور اس رقم کو صرف اور صرف TDPs کی بحالی کے لیے استعمال کریں گے۔

ریلیف کے اقدامات(Relief Measures)
(ع) کمپنیوں کی ٹیکس شرح میں کمی:
حکومت نے کارپوریٹ کلچر اور دستاویزات پر مبنی معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے
ہوئے کمپنیوں پر ٹیکس کی شرح کو سالانہ ایک فیصدی کم کرکے 35فیصد سے 30فیصدتک لانے کی پالیسی متعارف کرائی ہے۔لہذا پچھلے سال اِس شرح کوکم کرکے 33فیصد تک لایا گیا تھا۔ اِس شرح کو مزید کم کرکے ٹیکس سال 2016ءکے لیے 32فیصد کیا جا رہا ہے۔یہ عمل کاروبار کو کارپوریٹ سیکٹر کی طرف لانے کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔
(غ) بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لئے چُھوٹ
معاشی ترقی کے لئے توانائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ نجی شعبے کو بجلی کی ترسیل کے منصوبوں میں سرمایہ کاری پر مائل کرنے کے لئے ٹرانسمیشن لائن منصوبوں پر منافع کو دس سال کے لئے انکم ٹیکس سے چُھوٹ دی جائے بشرطیکہ منصوبہ جون2018ءتک شروع کردیا جائے۔

(ف) کمپنیوں کے حِصص میں نئی سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ
حکومت اِس بات کی خواہش مند ہے کہ عام آدمی کو بچت سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے۔اِس وقت ایک فرد کو اسٹاک ایکسچینج میںListed کمپنیوںکے حِصص میں سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ دیا جاتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد 10لاکھ روپے ہے۔اِسٹاک ایکسچینج میںListed نئی کمپنیوںمیں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے کہ اِس حد کو بڑھاکر 15لاکھ روپے کردیا جائے۔

(ق) Enlistmentکے لئے ٹیکس کریڈٹ
اِس وقت اگر کوئی کمپنی پاکستان میں کسی اسٹاک ایکسچینج میں Enlist ہوتی ہے تو اُسے 15فیصد تک ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔کمپنیوںکو اسٹاک ایکسچینج کی فہرست میں آنے پر مائل کرنے
کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ اِس کریڈٹ کی حد 20فیصد تک بڑھا دی جائے۔

(ک) گاڑیوں کی ٹرانسفر اور ٹوکن ٹیکس پرWithholding Taxمیں کمی
(i) صوبائی حکومتوں کے مطالبے پر تجویزہے کہ ٹوکن ٹیکس کے ساتھ ادا کئے جانے والے ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح کو Filers کے لئے20سے 25فیصد تک کم کردیا جائے۔
(ii) گاڑیوں کی ٹرانسفرپر ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح کو انکم ٹیکس Filers کے لئے75فیصد تک کم کردیا جائے اور Non-Filers کے لئے ایک تہائی تک کم کیا جائے۔

(گ) Small Companiesکے دائرہ کارمیں توسیع
انکم ٹیکس آرڈیننس چھوٹے کاروبارو ں کو کارپوریٹ شعبے کی طرف مائل کرنے کے لئے 25فیصد کی کم کردہ شرح سے ٹیکس عائد کرتا ہے۔اِس رعایت کو مزید بامعنی بنانے کے لئے Small Companiesکے سرمائے کی حد کو25ملین روپے سے بڑھاکر 50ملین روپے کیا جائے۔

(ل) چھوٹے ٹیکس گزاروں کے لئے ریلیف
تنخواہ دار ٹیکس گزار جن کی قابلِ ٹیکس آمدنی 4لاکھ روپے سے 5لاکھ روپے تک ہے اُن پر 5 فیصدکی شرح سے ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اِس طبقے کو ریلیف دینے کے لئے اِس شرح کو کم کرکے 2فیصد کردیا جائے۔
غیرتنخواہ دار افراد اور AOPsکے لئے جن کی قابلِ ٹیکس آمدنی 4لاکھ سے 5لاکھ تک ہے اُن پر 10فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اِس طبقے کو ریلیف دینے کے لئے تجویز ہے کہ
اِس شرح کو کم کرکے 7 فیصد کیا جائے۔

(م) برآمدکنندگان کوFinal Tax سے باہر رہنے کا اختیار
اِس وقت برآمدات پر Withhoding Taxبرآمدکنندہ کا حتمی ٹیکس ہے۔اب برآمدکنندگان کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ چاہیں تو اپنی تشخیص نارمل طریقہءکار سے کرا سکتے ہیں۔ایسی صورت میں اُن سے کاٹے گئے ٹیکس کو Minimum Taxتصّورکیا جائے گا۔

کسٹمز
جناب اسپیکر!
-4    اب میںکسٹم سے متعلق تجاویز پیش کرتا ہوں

ٹیرف اصلاحات(Tariff Reforms)
جناب اسپیکر!
پچھلے سال جناب وزیراعظم کی ہدایات پر ٹیرف میں اصلاحات کا آغاز کیاگیا اور 30 فیصد کے زیادہ سے زیادہ Slabکو 25فیصد تک لایا گیااور ٹیرف کے Slab 7 سے کم ہوکر 6تک آگئے۔ اس سال 25فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح کو کم کرکے 20فیصد تک لایا جا رہا ہے ۔ اس سے ہمارے Slabs کی تعداد6سے کم ہوکر 5تک آجائے گی۔ ہم نے یہ تہیہ بھی کیا ہوا ہے کہ 2016ءتک Slabsکو کم کرکے 4تک لے آئیں۔

سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائزڈیوٹی سے متعلق ریونیو اقدامات
جناب اسپیکر!
-5    اب میںسیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق تجاویز پیش کرتا ہوں۔

(الف) سیگریٹ کے نرخوں میں اضافہ
سیگریٹ نوشی ایک مُضرِصحت عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لئے سیگریٹس پر فیڈرل ایکسائز
ڈیوٹی کی شرح 58فیصد سے بڑھا کر 63فیصد کرنے کی تجویز ہے۔Informal Sector کو سیگریٹوں پرجائز ٹیکس کی ادائیگی کے لئے فِلٹر راڈز (Filter rods) پر 75پیسے فی فلٹر راڈ (Filter rod) کے حساب سےAdjustable فیڈرل ایکسائزڈیوٹی عائد کی جائے۔
(ب) Further Taxکی شرحیں
سیلزٹیکس میں رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی اور قانون کی پاسداری نہ کرنے والے کاروبار کوٹیکس کی طرف راغب کرنے کے لئے Further Taxکی شرح ایک فیصد سے 2فیصد تک کر دی جائے۔

(ج ) موبائل فونز
موبائل فونز کی مختلف اقسام کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 150،250،500 روپے سے بڑھاکر300،500اور 1000روپے کردیا جائے۔نئی شرحوں پر عمل درآمد ہوتے ہی موبائل فون پر Regulatory Duty ختم کر دی جائے گی۔

(د) Aerated Water پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی
Aerated Waterپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 9فیصد شرح کو بڑھا کر 12فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

(ذ)Export Oriented Sectorپر سیلز ٹیکس کی شرحوںکی Rationalization
ؑ ؑ   Export Oriented Sectorsمیں سیلز ٹیکس کی شرح 3, 2اور 5 فیصد ہے جو کہ سیلز ٹیکس کی باقاعدہ 17فیصد کی شرح سے بہت کم ہے۔ چند غیر ذمہ دار افراد اس رعایتی Tax Regime کا ناجائز فائدہ بھی اُٹھاتے ہیں۔ اس ُرجحان کو روکنے کے لیے تجویز کیاجاتا ہے کہ یہ شرحیں 3, 3اور 5کر دی جائیں۔ میں اس کے ساتھ یہ بھی اعلان کر نا چاہتا ہوں کہ Export Oriented Sectors کے31مئی 2015ءتک کے واجب الادا سیلز ٹیکس ریفنڈ 31اگست 2015 ءتک ادا کر دئے جائیں گے۔ اسی طرح ان سیکٹرزکی Commercial Imports پرax Value Addition T کی شرح کو بھی کم کر کے 2 سے 1 فیصد کیا جا رہا ہے اور Sales Tax Adjustment کی بھی 100فیصد تک اجازت دی جا رہی ہے۔

ایس آراوز کو ختم کرنے کا دوسرا مرحلہ
جناب اسپیکر!
-6     مختلف Exemptionsکے تحت جاری کئے گئے ایس آر اوز اور رعایتیں قومی خزانے کوشدید نقصان پہنچاتی ہیں۔پچھلے عشروں میںدی گئی یہ ریاعتیں بظاہر صنعتوں میں خام مال کی قیمتیں کم کرنے، برآمدات کو فروغ دینے ،مقامی سرمایہ کاروںکی حوصلہ افزائی کرنے ، بیرونی سرمایہ کاروں کومائل کرنے کےلئے دی گئی تھیں۔تاہم مختلف ایس آراوز کی شکل میں اِن رعایتوں نے ٹیکس نظام میں ایسی پیچیدگیاں اور distortions پیدا کردی ہیں جن سے نہ صرف کاروبار میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں بلکہ اِن کے غلط استعمال نے بہت سی بُرائیوں کو بھی جنم دیا ہے۔اِن رعایتوں کے اثرات کا دائرہ کاراس قدرپھیلاہوا ہے کہ ہمیں 2013ءمیں معلوم ہوا کہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والی برآمدات کا حصہ62فیصد تھالیکن عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور اِن رعایتوں کاکوئی فائدہ اُن تک نہیں پہنچ رہا تھا۔ ان رعائتوں کے ذریعے ایک خاص طبقے کی راہ ہموارکی گئی اور سرکاری اہل کاروں کوبے شمار صوابدیدی اختیارات ملے ہوئے تھے۔

جناب اسپیکر!
-7    جب ہماری حکومت نے اِن رعایتوں کے جائزے کے اِس اہم کام کا بیڑہ اُٹھایاتو ہمیں اندازہ تھاکہ اِتنی پیچیدہ اورسماجی و معاشی نظام کی گہرائیوں میں دُور تک پھیلی ہوئی اِن رعایتوں پر کوئی
بھی بات کرناکِتنا مشکل ہوگا۔اِس کا سہرا جنا ب محمد نواز شریف وزیرِاعظم پاکستان کے غیرمتزلزل اِرادے کے سَر جاتا ہے کہ بہت بااثر اور مضبوط پریشر گروپس کی موجودگی کے باوجوداِن رعایات کوختم کرنے یاکم کرنے کے طریقہ کار پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے اور2014-15ءکے بجٹ میں اس رعایتی نظام کے قریباََایک تہائی حصے کو جس کے ٹیکس کی مالیت 105ارب روپے بنتی ہے ،ختم کیا گیا ہے۔ اِس تاریخی کامیابی کو تمام طبقات نے سراہا ۔

جناب ِسپیکر!
-8    اِس سال اِسی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت رعایتوں کو مزید کم کرنے کے لئے دُوبارہ نہایت تفصیلی غورو خوض اورمشاورت کی ہے اور کسٹمز، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس نظام سے ایسیExemptions جن کے ٹیکس مالیت 120 ارب روپے تھے کو ختم کیا جا رہا ہے۔
جناب اسپیکر!
-9    اِن غیر مساوی ایس آر اوز کو واپس لینے کے اِس عمل سے ہماری معیشت اور خاص کرچھوٹی صنعتوں کو مزیداستحکام ملے گا ، ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت کم ہوگی،ٹیکس نظام میں برابری کی سطح پر کاروبار کرنے سے مقابلے کا جذبہ بڑھے گا اور مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ایک بہتر اور قابلِ اعتماد ماحول مہیا ہوسکے گا ۔

جناب اسپیکر!
میں اِس بات کا بھی اعلان کرنا چاہوں گا کہ FBRسے SROs اور رعائتیں جاری کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے اور وفاقی حکومت کے ایسے اختیارات کو مخصوص حالات تک
محدود کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام ہمارے اِس یقین کا عکس ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔

ٹیکس ریفارمز کمیشن(Tax Reforms Comission)
جناب اسپیکر!
-10    پچھلے سال کی بجٹ تقریر میں میں نے سارے ٹیکس نظام اور پالیسیوںکا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لئے ٹیکس ریفارمز کمیشن (TRC)کے قیام کا اعلان کیا تھا جس پر بعد میں عمل درآمد کیا گیا۔یہ کمیشن ٹیکس قوانین کے ماہرین اور کاروباری برادری کے جانے پہچانے راہنما¶ں پر مشتمل ہے۔ یہ کمیشن ٹیکس نظام اور انتظامیہ کے اُن حصّوں کی نشاندہی کرنے میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے جہاںپالیسیوں میںرد وبدل کرکے نظام کوبہتر بنایا جاسکتا ہے۔TRCنے اپنی Interim رپورٹ پیش کردی ہے اور اِس کی حتمی رپورٹ جولائی میں پیش کردی جائے گی ۔

جناب اسپیکر!
-11    خدائے بزرگ و برتر کی مہربانی سے ہماری معیشت ایک مشکل دور سے گزر آئی ہے۔ہم نے اگلی تین سالہ معیاد میں معیشت کی ترقی کو مزید بہتر کرنے کے Challenge کو قبول کیا ہے۔اس عزم کی تکمیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ معیشت کے اُن شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے جو معاشی ترقی کے عمل کوتیزکرنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی نظریے کے تحت ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ Construction،Agriculture اورروزگار کے مواقع فراہم کرنے والی صنعتوں کو خصوصی مراعات دی جائیں۔ یہ شعبے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر معاشی ترقی میں ایسے انجن ثابت ہوسکتے ہیں جو دیگر شعبوں کو بھی اپنے ساتھ آگے کی طرف لے جاسکتے ہیں:

٭    یہ شعبے قومیGDPکا ایک نہایت اہم حصہ ہیں.
٭    یہ شعبے Labour-intensiveہونے کی بنیاد پر عوام کی ایک بڑی تعداد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔
٭    زراعت کے شعبے میں چونکہ (Gestation period) مختصر ہوتا ہے لہذا معیشت پر اس کے مثبت اثرات بہت جَلد محسوس کئے جا سکتے ہیں۔
٭    شعبہءتعمیرات تقریباً 16دیگر شعبوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
٭    صنعت کا شعبہ چونکہ روزگار فراہم کرتا ہے لہذا اس کی ترقی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کا معیارِزندگی بہتر کرنے کی ضمانت ہے۔

جناب اسپیکر!
-12    اب میںConstruction کے شعبے کے لئے Incentiveپیکج کی تفصیل بیان کرتے ہوئے تجویز کرتا ہوں کہ:

(الف) ہا¶سنگ کریڈٹ(Housing Credit):
جو افراد بینکوں یا دیگر مالیاتی اداروں سے گھر کی تعمیریا خرید کے لئے قرضہ لیں اُس پر مارک اپ کوقابلِ ٹیکس آمدنی کے پچاس فیصد یا دس لاکھ روپے تک کٹوتی کی اجازت دی جائے۔

(ب) Buildersپر Minimum Tax :
Builders پر گھر یا دیگر عمارات کی تعمیر اور فروخت پر نافذ Minimum Taxکو30 جون 2018ءتک Exempt کیا جائے۔

(ج) Real Estate Investment Trust (REIT)کی ترقیاتی اسکیمیں:
چونکہ ہم گھروں کی تعمیر میں منظم اور کارپوریٹ شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں لہذا اسTRUST کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے چند Incentivesدئیے جارہے ہیں:
(i)     ہا ¶سنگ سیکٹر کی ترقی کے لئے بنائی گئی اسکیموں کو بیچی گئی جائیداد پر Capital Gain کو 30جو ن 2018ءتک انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
(ii)     ہا¶سنگ کے شعبے کی ترقی کے لئے 30 جون 2018ءتک بنائی گئی اِسTRUST کی اسکیم کے Dividend پر پہلے تین سال کے لئے انکم ٹیکس کو پچاس فیصد ی کم کردیا جائے۔

(د) اینٹ اور بجری
تعمیر کی لاگت کم کرنے کے لئے اینٹ اور بجری کی سپلائی کو تین سال کے لئے یعنی 30.06.2018 تک سیلز ٹیکس سے چُھوٹ دی جائے۔

(س) تعمیراتی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی :
پاکستان انجینئرنگ کونسل اور SECPمیں رجسٹرڈ تعمیراتی کمپنیوں کے لئے استعمال شدہ Lorries, Cranes, Trucks,وغیرہ کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح کو 30فیصد سے کم کرکے 20فیصد کردیا جائے۔

جناب سپیکر!
-13    Employment فراہم کرنے والی صنعتوں کے لئے مندرجہ ذیلIncentivesدینے کی تجویز ہے۔

(الف) صنعت کاروں کے لیے Employment Credit:
صنعتی کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی صنعتی کمپنی جو اگلے تین برسوں میں لگائی جائے اور جو 50سے زائد ایسے تنخواہ دار ملازمین رکھتی ہو جو Social Security اور EOBI میں رجسٹرڈ ہوں، اُسے ہر پچاس ملازمین کے لئے واجب الادا انکم ٹیکس کے ایک فیصد کے برابر
Employment Tax Creditدیا جائے جس کی زیادہ سے زیادہ حد 10فیصد ہو۔

(ب)Greenfield منصوبوں کے لیے چُھوٹ:
وزیر اعظم کے پیکج کے تحت Greenfieldصنعتوں میں سرمایہ کاری پر سرمائے کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ سے چُھوٹ دی گئی تھی۔مختلف صنعت کاروں اور تاجر برادری کے مطالبے پراِس چُھوٹ کو 30جون 2017ءتک بڑھایا جائے۔

(ج) Solar Panelsکی درآمد
چند اشیاءکی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں اس شرط کے ساتھ چُھوٹ دی گئی تھی کہ وہ اشیاءمقامی سطح پر تیار نہ کی جاتی ہوں۔ تاہمSolar Panels اور چند متعلقہ اشیاءکی درآمدکو30جون 2015ئتک اس شرط سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ اس اِستثنیٰ کو30جون 2016ءتک بڑھا یا جائے۔

(د) Solar اور Wind Energyکے آلات کی مقامی پیداوار
اِس وقتSolar اور Wind Energy کی پیداوار میں استعمال ہونے والے آلات کی تجارتی درآمد پر Withholding Taxسے چُھوٹ موجود ہے۔ تاہم ایسی کوئی رعایت مقامی طورپر ایسے آلات تیار کرنے والی صنعتوں کو میسّر نہیں ہے۔ اِس پس منظر میں ایسی صنعتوں کو جو ہوائی اور شمسی توانائی پیدا کرنے کی مشینری ،آلات اور پلانٹ تیار کرتی ہیں، انکم ٹیکس سے 5سال تک کی چُھوٹ دی جائے۔

(ذ ) بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کے لئے کسٹم ڈیوٹی
اس وقت بجلی پیدا کرنے والے ایسے یونٹ جن کی مالیت 50ملین ڈالر یا اس سے
زائد ہے اُن پر مشینری ، آلات اور دیگر متعلقہ سامان کی درآمد پر
“Locally Manufauctured”کی شرط عائد نہیں ہے۔ ” 50ملین ڈالر یا اِس سے زائد” کی شرط کو ” 25میگاواٹ اور اس سے زائد©©” میگا واٹ کی شرط سے تبدیل کردیا جائے۔

جناب ِسپیکر!
-14    اب Agriculture کے شعبے کے لئے مندر جہ ذیل ترغیبات تجویز کی جاتی ہیں۔
(الف) زرعی اشیاءکی Delivery Chainکے لئے Tax Holidayتجاویز:
ایسے نئے صنعتی یونٹس جو:
(i)    Cold chainکی سہولیات مہیا کرنے کے لئے لگائے گئے ہوں۔
(ii)     زرعی پیداوار کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات مہیا کرنے کے لئے لگائے گئے ہوں۔
کو تین سال کے لیے Income Tax Holidayدیا جائے بشرطیکہ وہ30جون 2016ءسے پہلے لگائے جائیں۔

(ب) حلال گوشت کی پیداوار
اِس وقت دُنیا میں حلال اشیاءکے ایک ٹِریلین ڈالر کے کاروبار میں پاکستان کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ حلال گوشت کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور جدید ترین مشینری اور آلات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ جو کمپنیاں حلال گوشت کا پیداواری یونٹ لگاتی ہیں اور 31دسمبر2016ءسے پہلے “حلال”کی تصدیق حاصل کرلیتی ہیں اُنہیں لگائے جانے کی تاریخ سے 4سال کے لئے انکم ٹیکس سے چُھوٹ دی جائے۔

(ج) چاول کے شعبہ کے لئے رعایت
بین الاقوامی منڈی میںچاول کی کم مانگ کے باعث چاول کے سیکٹر نے بہت نقصانات برداشت کیے ہیں۔لہذا چاول کے مِلوں کو ٹیکس سال 2015ءمیں Minimum Taxسے مستثنیٰ کیا جائے۔
(د) مچھلی کی سپلائی پر چُھوٹ
زرعی پیداوار جیسے تازہ دودھ اور پولٹری کی سپلائی کو چند شرائط کے ساتھ Withholding Taxسے چُھوٹ دی گئی ہے۔ زرعی پیداوار کی سپلائی کی اِسExemption میںمچھلی کی سپلائی کو بھی شامل کیا جائے۔

(ح) زرعی مشینری اور آلات کی درآمد اور مقامی سپلائی
مشین کے استعمال کے ذریعے زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے چند آلات اور مشینری جو کہ زمین کی تیاری، فصل کی بوائی، کٹائی، ذخیرہ کرنے، فراہمی و نکاسی آب وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہیں ،کی درآمد اور مقامی سپلائی پرسیلز ٹیکس کو 17فیصد کی موجودہ شرح سے کم کرکے Non Adjustable 7 فیصد کردیا جائے۔

(خ) زرعی مشینری کی درآمد
اس وقت زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی، سیلزٹیکس اور Withholding Taxملاکر28فیصد سے 43فیصد تک ہیںان پر کسٹم ڈیوٹی، سیلزٹیکس اور Withholding Taxکو مندرجہ ذیل شرحوں سے کم کرکے مجموعی طور پر 9فیصد تک لایا جائے:
(i)    کسٹم ڈیوٹی کو5سے 20فیصد کی موجودہ شرح سے 2فیصدتک
(ii)    سیلزٹیکس کو 17فیصد کی موجودہ شرح سے Non Adjustableکے 7فیصد تک
(iii)    Withholding Taxکو 6فیصد سے 0فیصد تک

(س) شمسی(Solar) ٹیوب ویلوں کے لئے Interest-Freeقرضے:
چھوٹے کاشت کاروں کی سہولت اور ڈیزل اور بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوںکے اخراجات کو کم کرنے کے لئے نئے شمسی ٹیوب ویل لگانے یا موجودہ ٹیوب ویلوں کو شمسی ٹیوب ویلوں سے تبدیل کرنے کے لئے کاشت کاروں کو Mark-upکے بغیر قرضے فراہم کئے جائیں۔ایک تخمینے کے مطابق آدھا کیوسِک پانی دینے والے شمسی ٹیوب ویل پر 11لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے۔کاشتکار کی طرف سے ایک لاکھ روپے جمع کرانے پرحکومت بنکوں کے ذریعے Mark-up کے بغیر قرضے مہیا کرے گی۔ اِن قرضوںپر Mark-up کی ادائیگی حکومت برداشت کرے گی۔اِس اسکیم کے تحت اگلے تین سالوں میں 30ہزار ٹیوب ویلوں کے لئے یہ قرضے دئیے جائیں۔اس قرضے کے لئے وہ تمام کاشتکار درخواست دینے کے اہل ہوں گے جن کے پاس 12.5ایکڑ تک زمین ہو۔ایک سال میں 10ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہونے کی صورت میں مستفیدہونے والے کاشت کاروں کو شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے چُنا جائے گا۔شمسی ٹیوب ویل لگانے کے بعد ایک کاشت کارجو پہلے ڈیزل انجن سے پانچ گھنٹے کام کرتا تھاوہ ایک دِن میں 1660 روپے بچاسکے گا۔ اور پہلے پانچ گھنٹے بجلی استعمال کرنے والاایک دِن میں466روپے بچاسکے گا۔

جناب ِسپیکر!
-15    پاکستان میںAviation کے شعبہ کاGDPمیں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے جب کہ عالمی GDPمیں اِس شعبے کا حصہ 3.4فیصد ہے۔
ہماری حکومت نہایت اعتماد سے یہ بات کہہ سکتی ہے کہ مندرجہ ذیل پیکج پر عمل درآمد سے یہ شُعبہ خاطر خواہ ترقی کرے گا ۔ اس حوالے سے چند تجاویز پیشِ خدمت ہیں:
(الف) کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے چُھوٹ
Aviation کے شعبے میں استعمال ہونے والی مندرجہ ذیل اشیاءکی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس Exemptکر دیا جائے ۔ان میں:۔
(i)    درآمد کردہ یا لیز(Lease)پر حاصل کردہ ہوائی جہاز اور اُن کی Maintenance Kits
(ii)    Maintenance, Repair & Overhaul کے لئے منظورشدہ کمپنیوں کی درآمدی مشینری ، آلات اوراوزار پر One-Time Exemption
(iii)    Greenfieldہوائی اڈوں کے لئے استعمال ہونے والی مشینری, آلات، اوزاروں اور فرنیچر پر One-Time Exemption
(iv)    منظورشدہ ہوائی کمپنیوں کے لئے Aviation Simulatorsاور اُن کے پُرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی Exemption
(v)    مقامی تربیتی جہازوں پر سیلزٹیکس سے چُھوٹ شامل ہیں۔

(ب) دُور افتادہ علاقوں کے لیے ہوائی راستے
بڑے معاشی مراکزکے ساتھ ملانے والا Infrastructureکسی بھی خطے کی معاشی ترقی کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ ملک کے ایسے علاقے جن میں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہے، معاشی مراکز سے بہت دُور واقع ہیں۔ اِیسے دُور افتادہ علاقوں کومعاشی مراکز سے جوڑنے کے لئے گلگت بلتستان، مکران کی ساحلی پٹی ، آزادجموں و کشمیر، چترال اور فاٹا کے علاقوں میں ہوائی راستوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور Withholding Taxسے چُھوٹ دی جارہی ہے۔

جناب ِسپیکر!
-16    اب میں خیبر پختونخواہ کے حوالے سے اِس معزز ایوان کے سامنے نہایت اہم ریلیف اقدامات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

جنابِ سپیکر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ خیبرپختونخواہ میں زندگی اور معیشت دہشت گردی کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔لہذا خیبر پختونخواہ کی معیشت کو ازسرِنواپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں:
(الف)    خیبر پختونخواہ میں لگائے جانے والے تمام صنعتی یونٹس کے لئے پانچ سالہ Income Tax Holidayبشرطیکہ یہ یونٹ یکم جولائی 2015 سے 30جون 2018کے درمیان لگائے جائیں ایسے Units کو Turnover Taxسے بھی5 سال کے لیے مثتثنیٰ کیا جائے۔
(ب)     خیبر پختوانخوہ سے افغانستان کو برآمدات میں سہولیات فراہم کرنے کی خاطر Pershable Items جیسے پھلوں ، سبزیوں، ڈیری پراڈکٹس اور گوشت کی برآمدات کو یکم جولائی2015ءسے ڈالرز کی بجائے پاکستانی روپے میںکاروبار کی اجازت دی جائے۔
(ج)    DTREکے تحت افغانستان اور وسطی اشیاءکو برآمد کرنے کے لئے گھی اورویجی
ٹیبل آئل کا کوٹہ ، جو اِس وقت 90دِن کے لیے ایک ہزار میٹرک ٹن ہے، تین گنا ہ بڑھاکر ایک ہزار میٹرک ٹن فی ماہ کردیا جائے۔
(د)    خیبر پختونخواہ کو ٹیکس سال2010سے 2012تک کے لئے دئیے گئے پچھلے پیکج سے وِرثے میں ملے مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔اگرچہ موجودہ قانون کے مطابق Minimum Tax لاگو ہے تا ہم خیبرپختونخواہ کے کاروباری طبقے کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قانون میں مناسب ترامیم کی جا رہی ہیں۔
(ح)    پچھلے پیکج کے نتیجے میں رُکے ہوئے سیلز ٹیکس کےRefunds کا معاملہ 30ستمبر2015ءتک حل کردیا جائے گا۔

جناب ِسپیکر!
(خ)    میں اِس معزز ایوان کے سامنے اُس اہم پیش رفت کا ذکر بھی کرنا چاہو ں گا جو وسطی ایشیا سے تجارت کے سلسلے میںہوئی ہے۔ خصوصی طور پر خیبرپختونخواہ اور عمومی طور پردیگر برآمدکنندگان افغانستان کی طرف سے عائد کردہ اس شرط کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے تھے کہ وسطی ایشیا کوبرآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی کے 110فیصد کے برابر مالی گارنٹی مہیا کی جائے۔ مزید یہ کہ ہمارے برآمدکنندگان کو اِن برآمدات کے ہر 25ٹن پر 100ڈالر ادا کرنے پڑتے تھے۔
مجھے اِس بات کا اعلان کرتے ہوئے نہایت مسرت ہورہی ہے کہ جناب نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورہِ کابل کے دوران افغان حکومت سے یہ معاملات زیرِ بحث آئے اور مجھے صدر افغانستان کے مشیر برائے مالی اُمور نے31مئی 2015کو ٹیلیفون پر مطلع کیا ہے کہ اِن کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا
ہے۔
اِس فیصلے سے وسطی ایشیائی ملکوں کو ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا اور برآمدات کی لاگت کم ہوجائے گی۔

حصہ سوم

ریلیف اقدامات
سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہ و مراعات:
جناب سپیکر!
1۔    جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہماری معیشت وسائل کی کمی کا شکار ہے جہاں طلب زیادہ اور وسائل کم ہیں۔ موجودہ حکومت ترقیاتی اخراجات بڑھانے کی غرض سے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کر رہی ہے۔ اس سال افراطِ زر میںکافی کمی آئی ہے اور قیمتوں میں استحکام کا رجحان ہے۔ تاہم حکومت سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی مالی مشکلات سے باخبر ہے۔ ماضی کی روایت کے مطابق حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے Inflation اور Fiscal Constraints کو سامنے رکھتے ہوئے چند سفارشات دیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں مندرجہ ذیل فیصلے کئے ہیں:۔
1۔    تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کو یکم جولائی 2015 سے Running Basic Pay میں کمیٹی کی سفارش جو کہ 5 فیصد Adhoc Increase کی تھی، کی بجائے 7.5 فیصد ایڈہاک ریلیف الا¶نس دیا جائے گا۔
2۔    کمیٹی کی سفارش کے مطابق 2011 اور 2012 کے Adhoc Increases کو Pay Scales میں Merge کیا جا رہا ہے۔
3۔    تمام سرکاری ملازمین کے میڈیکل الا¶نس میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔
4۔    گریڈ 5 کے ملازمین کو ایک Premature Increment دی جائے گی جو کہ پچھلے سال صرف گریڈ 1سے 4 تک کے ملازمین کو دی گئی تھی۔
5۔    یکم جولائی 2015 سے وفاقی حکومت میں کام کرنے والے Ph.D/D.Sc ڈگری کے حامل ملازمین کو 10 ہزار روپے ماہانہ Ph.D الا¶نس دیا جائے گا۔ یہ الا¶نس پہلے سے موجودہ سائنس و ٹیکنالوجی الا¶نس 7500 روپے ماہانہ اور پی ایچ ڈی الا¶نس 2250 روپے کی جگہ لے گا۔
6۔    سینئر پرائیویٹ سیکرٹری، پرائیویٹ سیکرٹریز، اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریز کی خصوصی تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
7۔     Orderly الا¶نس اور خصوصی اضافی پنشن کو بھی بڑھا کر 12000 روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے۔
8۔    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی طرز پر مزدور طبقے کی بہبود کے لیے Minimum Wage کی شرح کو 12000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 13000 روپے ماہانہ کیا جار ہا ہے۔

پنشن یافتہ ملازمین
2۔    پنشن یافتہ ملازمین کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کا اعلان کیا جار رہا ہے:
1۔    وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں یکم جولائی 2015 سے 7.5 فیصد اضافہ۔
2۔    پنشنرز کے میڈیکل الا¶نس میں 25 فیصد اضافہ کیاجا رہا ہے۔
3۔    بیوہ/طلاق یافتہ بیٹی کے لیے تاحیات یا دوبارہ شادی کرنے تک یکم جولائی 2015 سے پنشن کے دائرہ کار میں اضافہ
4۔    مقرر کردہ وقت کے بعد پنشن کی Commuted Value کے Surrendered حصہ کی بحالی کی پالیسی کا دوبارہ نفاذ۔
5۔    پنشنرز اور Senior Citizens کے نیشنل سیونگز کی بہبود اسکیم کی Investment کی بالائی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 40 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔

تنخواہ، پنشن اور الا¶نس میںاضافے پر تقریباً46 ارب روپے کا اضافی خرچ آئے گا۔
شہداء کی بیوا¶ں کی مدد
3۔    خود کش حملوں کے نتیجے میں ہماری قوم نے بہت نقصان برداشت کیا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے اپنے پیاروں کی جان کی قربانی دی ہے اور ان کے کمانے والے کے دنیا سے چلے جانے سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں وہ شہداءجو خودکش حملوں کی نذر ہوئے اُن کی بیوا¶ں کی آسانی کی خاطر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے شہید شوہر یا بیوہ کے ذمہ 30جون 2015 تک بنک کا 10 لاکھ روپے تک کا واجب الادا قرض بشمول Mark-up، حکومت اپنے ذمہ لے لے گی۔ اس سہولت سے صرف ایسی بیوائیں فائدہ اٹھا سکیں گی جنہوں نے دوبارہ شادی نہ کی ہو اور وہ یہ حلف نامہ دیں کہ ان کے پاس واجب الادا قرض کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہے۔ اور انہوں نے حکومت سے اس مقصد کے لیے پہلے کوئی امداد وصول نہیں کی۔

میرانی ڈیم کے متاثرین کے نقصان کی تلافی
4۔    26جون 2007ءکو میرانی ڈیم کے نواح میں طوفانی بارشوں کی بناءپر گھروں، باغوںاور جائیداد کو شدید نقصان پہنچا۔اس کی تلافی کے لیے آج تک کوئی توجہ نہ دی گئی۔ متاثرین کی داد رسی کے لیے وزیراعظم محمدنواز شریف نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت مل کر3.5 ارب روپے کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔

اختتامی کلمات
جناب اسپیکر!
5۔    گذشتہ دو برسوں کی معاشی کارکردگی کے پس منظر میں مَیں نے 2015-16 کا بجٹ پیش کیا ہے۔ جون 2013 میں اپنے مقرر کردہ تین اہداف میں سے دو ، یعنی Default سے بچنا اور Macro Economic Stability کا حصول، کو حاصل کرنے کے بعد اب ہم تیسرے ہدف یعنی Growth کی طرف سفر کا آغاز کر رہے ہیں ،جس میں ہر طبقے کی شرکت ہو گی۔
6۔    700 ارب روپے کے وفاقی PSDP اور 814 ارب روپے کی صوبائی سرمایہ کاری کی بدولت سرکاری شعبے کے ترقیاتی اخراجات 1514 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے جو کہ GDP کا 5 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری جس میں CPEC کے تحت سرمایہ کاری بھی شامل ہے (جو PSDP کے علاوہ ہے۔)،جس کی وجہ سے Investment to GDP Ratio موجودہ سال کے 13.5 فیصد سے بڑھ کر 16.5 فیصد تک چلا جائے گا۔
7۔    اس سرمایہ کاری سے Growth میں اضافہ ہو گا، جس سے ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری کا Employment Effect اور Poverty Alleviation پرگراموں کی وجہ سے ملک میں لوگوں کی غربت میں کمی آئے گی۔ Infrastructure، خصوصاً پانی، بجلی، سڑکوں اور ریلوے میں سرکاری سرمایہ کاری سے ثانوی اثرات کے تحت Growth اور روزگار پر مزید اچھے اثرات ہوں گے۔ کیونکہ نئے مواقع پیدا ہوں گے اور Cost of Doing Business کم ہو گی۔
8۔    یہ ہم اس وقت کر رہے ہیں جب معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔ ہم نے اصلاحات کا ایک سنجیدہ پروگرام شروع کیا ہے جس کے ذریعے معیشت کے تمام شعبوں میں Distortions اور Inefficiencies کا خاتمہ ، Regulatory Oversight کو موثر بنانا اور Markets اور Competitionکو فروغ حاصل ہو گا۔
9۔    ہمیں اعتماد ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ ہم اپنے عوام کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ صلاحیت کے اعتبار سے ہمارے عوام دنیا میں کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ میرٹ، شفافیت، خلوص اور قربانی کا ماحول پیدا کیا جائے۔ ہم انہیں اقدار کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وزیر اعظم محمد نواز شریف قوم کی تقدیر بدلنے پریقین رکھتے ہیں۔ اور وہ اس کے حصول کے لیے قوم کی رہنمائی کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور دانشمندی ، جذبہ¿ خدمت ، ان تھک محنت اور بے لوث جدوجہد کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔
10۔    قوم کی اس قسمت کو سب سے پہلے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے پہچانا تھا جب انہوں نے 30 اکتوبر 1947 کو یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں یہ ارشاد فرمایا:
”آپ اپنا فرض ادا کریں اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھیں۔ اس روئے زمین کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔ یہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ ہمارا عمل دنیا کو یہ ثابت کر رہا ہے کہ ہم حق پر ہیں اور میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ساری دنیا خصوصاً اسلامی ممالک کی ہمدردیاں کی آپ کے ساتھ ہیں۔ہم بھی اپنی جانب سے ہر اُس قوم کے شکر گذار ہیں جس نے ہماری طرف مدد اور دوستی کا ہاتھ بڑھایاہے“
11۔    قائداعظم اپنے لوگوں کی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ تھے اور اُن کی دور رس نگاہوں نے یہ جان لیا تھاکہ پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا۔ لیکن وہ ہستی جس نے تصورِ پاکستان دیا خود اُسے بھی اس حقیقت کا علم تھا اور شاید اِسی منزل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال ؒ نے یہ شعر کہا ہے:
تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے
12۔    میں اپنی تقریر کا اختتام اس دعا پر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی عطا کردہ مخفی صلاحیتوں کے جوہر حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔پاکستان پائندہ باد“