چال?س ?زار تار??ن وطن ?و ?ورپ م?? بسان? ?? ت?ار?

250

برسلز : یورپی کمیشن نے جنوبی یورپ سے آنے والے 40 ہزار تارکین وطن کو آئندہ 2 سال میں یورپی مما لک میں بسانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پورپی کمیشن کے مطابق ان افراد کو بسانے والے ممالک کو تارکین وطن کی دیکھ بھال کی مد میں 6 ہزار یورو فی کس فراہم  کیا جائے گاجب کہ برطانوی حکومت نے اس دوبارہ آبادی کاری منصوبے سے علیحدہ رہنے  کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریباً 40 ہزار تارکین وطن کو یورپی یونین کے مختلف ممالک میں آباد کیا جائے گا جن میں جرمنی میں 21.91 فیصد، فرانس 16.88 فیصد اورا سپین 10.72 فیصد غیر قانونی تارکین وطن کو بسایا جائے گا اس منصوبے کا اطلاق شام اور ایریٹریا سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن پرہو گا جو اٹلی یا یونان میں 15 اپریل 2015 کے بعد آئے ہیں تاہم تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی صورت میں  یہ منصوبہ مالٹا پر بھی لاگو ہو گا۔

واضح رہے کہ ان پناہ گزینوں نے اپنے ملک کی جنگی صورت حال کے پیش نظر یورپ کا رخ کیا ہے اور کئی خطروں کا مقابلہ کرتے ہوئے وہاں پہنچے ہیں جب کہ  اس نقل مکانی کے دوران رواں سال صرف بحیرۂ روم میں 1800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ۔

 اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک 60 ہزار افراد نے بحیرۂ روم کو عبور کرنے کا خطرناک سفر کیا جن میں سے بیشتر افراد شام، اریٹیریا، نائجیریا اور صومالیہ میں جنگ اور غربت و افلاس کے سبب راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔