پنجاب اور بلوچستان ?? مختلف ج?لو? م?? 9مجرمان ?و پ?انس?

230

پنجاب اور بلوچستان کی مختلف جیلوں میں سزائے موت کے 9مجرمان کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

بدھ کی علی الصبح روالپنڈی اڈیالہ جیل میں ایک مجرم کو پھانسی دی گئی۔ مجرم بہادر خان نے 1997 میں یاسر محمود کو قتل کیا تھا۔ سرگودھا میں ایک مجرم کو پھانسی دی گئی۔ مجرم محمد امیر نے 2002 میں اپنے مخالف کو قتل کیا تھا۔

 وہاڑی میں بھی دو مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ مجرم ثنااللہ نے بورے والا میں قتل کیا تھا جب کہ مجرم عبدالستار عرف کالا نے لاہور میں 13 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا تھا۔

ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں بھی سزائے موت کے 2 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔ دولہا والاں کے نصیر نے 1999 میں اپنے دوست کو قتل کیا تھا جب کہ مجرم اظہر نے 2002 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔

مچھ جیل میں سزائے موت کے قیدی خان محمد کو بھی پھانسی دی گئی، مجرم نے2004 میں بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا تھا۔

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے 2 مجرموں شہزاد اور عبدالخالق کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ مجرم شہزاد نے ایک شہری کو گولیاں مار کر قتل کیا تھا جب کہ عبد الخالق نے فیکڑی ایریا میں خاتون کو گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔ صدر پاکستان سے دونوں مجرموں کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔