سانح? صفورا ??ملزمان ت?ن دن م?? گرفتار?رلئ?ت??،وز?راعل?? سند?

231

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے سانحہ صفورا کے ملزمان کو پولیس نے تین دن کے اندر گرفتار کر لیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا سبین محمود اور ڈیبرالوبو کے قاتلوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ قائم علی شاہ کا کہنا ہے سانحہ صفورا میں “را” کے ملوث ہونے کا نہیں کہا تھا ۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا سانحہ صفورا میں معصوم اور پرامن اسماعیلی برادری کو گولیاں کا نشانہ بنایا گیا ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا پولیس نے تین دن میں سانحہ صفورا میں ملوث ملزمان کر گرفتار کرلیا ۔ ملزمان کو علم نہیں تھا انہیں گرفتار کر لیا جائے گا ۔ ملزمان سے کلاشنکوف، دھماکا خیز مواد، اور جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے، ان کا کہنا تھا اتنی بڑی کامیابی پر میں سندھ پولیس کو شاباش پیش کرتا ہوں اور ان کے لئے 5 کروڑ انعام کا اعلان کرتا ہوں ۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا ملزمان کو گرفتار کرنے والے دونوں افسران کو ترقی دی جائیگی ، راجا عمر خطاب نے دہشتگردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا پہلے پولیس کی تعریف کی جاتی تھی مگر صفورا حملے کے بعد تنقید کی گئی۔

سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا سبین محمود کاقاتل سرسید یونیورسٹی کا انجینئرہے، جبکہ سبین محمود کے قتل کا ماسٹرمائنڈ سعد عزیز ہے۔ ایک ملزم کے متعدد نام ہیں، یہ دہشتگردی کے کئی واقعات میں ملوث رہا ہے، اس ملزم کو بم بنانے اور استعمال کرنے میں مہارت حاصل ہے، دیگر ملزمان سعد عزیز اور الیاس جان ہیں ، ایک ملزم حافظ ناصر ہے جس نے ایم اے اسلامیات کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا ان ملزمان نے بھی دہشتگردی کے کئی واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، ملزمان کا بہت بڑا گروپ ہے جس کے نام انھوں نے بتائے ہیں، ملزمان نے صفورا فائرنگ، سبین محمود قتل، امریکی خاتون پرفائرنگ کا بھی اعتراف کیا ہے، ملزمان نے رینجرز کے بریگیڈئیر پر خود کش حملے کا بھی اعتراف کیا ہے، ملزمان نے اسکول پر دھماکوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ملزمان نے بوہری کمیونٹی اور پولیس پر حملوں کا بھی اعتراف کیا، ملزمان نےگلستان جوہر، نارتھ ناظم ، نارتھ کراچی ، لانڈھی میں پولیس کو مارنے کا اعتراف کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قاتلوں کو بھی سندھ پولیس نے گرفتار کیا، شکار پور حملے پر پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے شکار پور سانحے کے ملزمان کو گرفتار کیا۔ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کراچی واقعے میں را کے ملوث ہونے کے بارے میں نہیں کہا تھا، بھارتی ایجنسی را کی سندھ میں کارروائیاں ہیں،اسکی بنیاد پر کہا کہ ملوث ہو سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا گرفتار ملزمان کی جے آئی ٹی کرائی جائے گی،جے آئی ٹی سے پتا چلے گا کہ ملزمان کا تعلق کس گروپ سے ہے، ایک ہفتے کے اندر جے آئی ٹی کرکے اس کی تفصیلات بتائی جائینگی۔