Earn Money 365

 

 

 

 

 

 

سرورق > کالم

کالم


2008-11-21 00:00:00 PST سلطان صلاح الدین ایوبی بنیں، راجا پُورس نہیں!

ابو نثر

بڑی ہمت کرکے آج صبح کا اخبار اُٹھایا۔ آج کل اخبار اُٹھانا لاش اُٹھانے سے کم نہیں۔ جب کہ لاش بھی اپنے ہی پیاروں کی ہو۔ ایک خبر تھی:”بنوں پر امریکی حملے میں 6 افراد ہلاک“۔ دوسری خبرتھی:”نیٹو کو سامانِ رسد کی فراہمی کے لیے پاکستانی راستے کھلے رہیں گے“۔ نیٹوکی ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس کو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی یقین دہانی۔ تیسری خبر تھی:”حکومت ِ پاکستان نیٹو افواج کی سپلائی لائن بند کرے ورنہ نیٹو افواج کے سامانِ رسد کو کراچی سے افغانستان کی سرحد تک عوامی طاقت سے روکا جائے گا“۔ امیرِ جماعت ِ اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کی پریس کانفرنس۔ ............٭٭٭............ بنوں پر حملہ تو صلیبی جنگ کا حصہ ہے۔ اُس صلیبی جنگ کا‘ جس کا اعلان ”بُش مُسلم کُش“ نے کیا تھا۔ (بش کا نام تاریخ میں اب ”بُش مُسلم کُش“ ہی کے لقب سے یادگار رہے گا۔ یہ رچرڈ کی قسمت تھی کہ اُسے ”شیردل“کا خطاب ملا ۔ اور یہ بش صاحب کی تقدیر ہے کہ اُنھوں نے ”مُسلم کُش“ کا خطاب پایا۔ کاتب ِ تقدیر نے سوچا ہوگا کہ ایک نئی صلیبی جنگ کے بانی مبانی ہوکر بش صاحب کیوں بے خطابے رہیں؟) ہمارے وزیراعظم صاحب کی بصیرت تو یہ کہتی ہے کہ اوباما کے کرسی پر بیٹھتے ہی امریکا پاکستان پر حملے بند کردے گا۔ وزیراعظم جب قصرِ سفید گئے تھے تو شاید مذکورہ کرسی کو خوب غور سے دیکھ کر آئے تھے۔ ممکن ہے اُنھوں نے اُس کرسی پر لگا ہوا ”پاکستان پر حملے“ کا بٹن بھی دیکھ لیا ہو جو اوباما کی تشریف تلے دب کر (محض تشریف کے رنگ کے فرق کے باعث) پاکستان پر حملوں کی بندش کا باعث بن جائے گا۔ تو ہمارے وزیراعظم کی بصیرت تو خوب کام کررہی ہے‘ اُن کی بصارت بھی غالباً تیز ہی ہوگی۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ تیز ہونی چاہیے۔ ابھی چند روز قبل ہی ہمارے وزیراعظم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اقتدار اُن سے لے کر کسی بہتر شخص کے سپرد کردیا جائے۔ نہ جانے کس سے مطالبہ کیا تھا؟ ہمیں تو یہ بتایاگیا ہے کہ یہ اقتدار اُن کو عوام نے سونپا ہے۔ اپنے ووٹوں سے‘ نہ کہ جہانگیر بدر کے نوٹوں سے۔ یہ جہانگیر بدر وہی صاحب ہیں جنھوں نے بے نظیر کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ایوانِ وزیراعظم کو ”قبضہ گروپ“ سے واگزار کرانے کا بھی اعلان کرڈالا تھا۔ (قصور خود حکومت کا ہے۔ اُس نے اُنھیں اعلان کرنے کا موقع فراہم ہی کیوں کیا؟) جہانگیر بدر کے اِس اعلان اور وزیراعظم کی طرف سے کسی اور کو سپردگی ¿ اقتدارکے مطالبے کے پس منظر میں قاضی صاحب نے بھی اپنی مذکورہ پریس کانفرنس میں یہ مطالبہ کرڈالا کہ: ”وزیراعظم یوسف رضاگیلانی جو اپنی شکست تسلیم کرتحلیل کرنے کا مشورہ دے کر نئے انتخابات منعقد کرواچکے ہیں‘ فوراً مستعفی ہوجائیں اور صدر کو اسمبلیاں ئیں‘ جن میں جماعت ِ اسلامی بھی حصہ لے گی“۔ جماعت ِ اسلامی کے حصہ لینے والی بات‘ نہیں معلوم کہ قاضی صاحب نے ترغیب وتحریص کے طور پر کہی ہے یا دھمکی کے طور پر۔ لیکن اِن مزعومہ اور مفروضہ انتخابات میں بھی اگر وہی قاتل‘ وہی شاہد‘ وہی منصف ٹھیرے‘ جو پہلے ٹھیرے تھے‘ تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ اقتدار یوسف رضا گیلانی سے لے کر جہانگیر بدر کو دے دیا جائے گا۔ اور.... یہی ٹھیری جو شرط ِ وصلِ لیلیٰ .... تو گیلانی صاحب سے استعفیٰ (باحسرت ویاس) اس قسم کے انتخابات کرائے بغیر بھی لیا جاسکتا ہے‘ جن کو کرانے میں جماعت ِ اسلامی کے بھی کود پڑنے کا خطرہ مول لینا پڑے۔ ویسے خان معاذاﷲ خان کا کہنا ہے کہ جماعت ِ اسلامی کو شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں کے طور پر ہونے والے کسی انتخاب میں کبھی حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اُسے سفالِ پاک (یعنی ارضِ پاک) سے ہوکر کراچی تا کابل پہنچ جانے والا ناٹو افواج کا سامانِ رسد روک دینے کے بعد ہی اپنے ملک کے عوام کی طاقت سے برسرِ اقتدار آنا چاہیے۔ ............٭٭٭............ ہاں.... (برادر عبداللطیف ابوشامل کی صحبت میں رہ رہ کر ہمیں بھی اپنے کالموں میں ”ہاں“ کی بھرمار کرنے کی عادت پڑگئی ہے۔ بہت لگتا ہے دل صحبت میں اُس کی!).... ہمارے شہر بنوں پر حملہ بھی صلیبی جنگ کا حصہ ہے۔ اُس صلیبی جنگ کا‘ جس کا اعلان ”بُش مُسلم کُش“ نے کیا تھا۔ سنا ہے کہ اب سے قبل اور بھی صلیبی جنگیں ہوئی تھیں۔ اُنھی میں سے ایک صلیبی جنگ کا ایک واقعہ بہت مشہور ہوا۔ اِس مشہور واقعہ کو انگلستان کے مشہور ہی نہیں گمنام شعراءنے بھی نظم کیا ہے۔ ان میں سے ایک Mr. Anonymous کی ایک طویل نظم نویں جماعت میں ہمیں بھی یاد کرائی گئی تھی۔ کیوں کہ ہم اُمت ِ مسلمہ کے لوگ تو ایک طویل مدت سے صلیبی جنگوں کے جنگی قیدی ہیں۔ جب کہ عافیہ صدیقی جیسے لوگ اِس قید درقید کے ایسے قیدی ہیں جن کو پرانی اور مانوس کوٹھریوں سے نکال کر اذیت اور تعذیب کی نئی کال کوٹھریوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ نظم اتنی طویل ہے کہ ہمارے کئی کالموں کا احاطہ کرسکتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ایک جنگ میں شاہ رچرڈ شیردِل کا مغرور اور خودپسند گھوڑا Feudal جب گردن میں تیر کھاکر گرا اور مرگیا تو اُسی لمحہ غازی صلاح الدین ایّوبی کا برق رفتار اسپ ِ تازی وہاں سے زقندیں بھرتا گزرا۔ صلاح الدین نے دیکھا کہ شاہ رچرڈ پیدل کھڑا ہے تو اُس کی غیرت ِ جرا¿ت نے گوارا نہ کیا کہ وہ اِس ”پیدل شاہ“ پر حملہ کرکے اُسے تہِ تیغ کردے۔ چناں چہ: "Go!" said the Sultan to his square, "Bring a barb of royal strain, That fitly yonder English King, And may in fight be horsed again." ”جاو¿“ سلطان نے اپنے مصاحب کو حکم دیا‘ ”شاہی نسل کا ایک گھوڑا لے کرآو¿! ایسا‘ جو انگریز بادشاہ کے شایانِ شان ہو‘ اور وہ مصاف میں پھر سے شہسوار ہو“۔ ہماری افواج کو اُن کے رب کی طرف سے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم ہے ۔ مگر غالباً گھوڑے کی فراہمی کے مذکورہ بالا عمل سے متاثر ہوکر افواجِ پاکستان کے سپہ سالار نے اپنے صلیبی دشمنوں کو یقین دلایا ہے کہ: ”نیٹو کو سامانِ رسد کی فراہمی کے لیے پاکستانی راستے کھلے رہیں گے“۔ کھلی آنکھوں سے دیکھنے والا ہر شخص یہ دیکھ رہا ہے کہ ہم صلاح الدین ایوبی نہیں‘ راجا پُورس بن رہے ہیں۔ ہم دشمن کو اپنے ہی ہاتھوں سے وہ ہاتھی فراہم کررہے ہیں جو ہمیں کچلنے کو واپس آئیں گے۔ اور”آئیں گے“ کیا معنی‘ بنوں تک تو آگئے ہیں! ملت ِ اسلامیہ کے اُس سپہ سالار.... سلطان صلاح الدین ایوبی.... کی افواج تو (گھوڑوں کی فراہمی کے باوجود) صلیبی دشمنوں ہی کے خلاف کارروائی کرتی تھیں اور صلیبی دشمنوں ہی پر مشتمل دہشت گردوں کی شدت پسندی کا خاتمہ کررہی تھیں! ہمارا سپہ سالار کیا کررہا ہے؟ ہمارا شاعر تویہ کہتا ہے کہ: تب تک ہیں مِرے یہ در و دیوار سلامت جب تک ہے مِرے ہاتھ میں تلوار سلامت دے آئے ہیں تاوان میں سوچیں بھی زباں بھی یوں ہی تو نہیں آئے مِرے یار سلامت کس وقت تجھے صلح کی سوجھی مِرے سالار دشمن مِرے جب رہ گئے دو چار سلامت خواہ وہ ”بُش مُسلم کُش“ ہو یا اوباما۔ یہ عقل سے پیدل تو ہیں مگر بے سروسامان اور بے سواری نہیں ہیں۔ پس شاہ رچرڈ شیردِل سے اگر قبلہ¿ اوّل کی خاطر ہماری جنگ تھی تو بعد از بُش‘ اوباما سے ہمیں حرمین الشریفین کی خاطر جنگ لڑنے کو تیار رہنا ہے!

 

Share