Earn Money 365

 

 

 

 

 

 

سرورق > کالم

کالم


2009-12-13 00:00:00 PSTہفتہ¿ اجرک کے بعد یوم کانگڑی؟

شاہ نواز فاروقی

اگر مسائل کا حل انہیں نظرانداز کرنے اور ٹالنے میں ہوتا تو اردو زبان کا دامن کبھی شترمرغ کی طرح ریت میں سر دینے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے جیسے محاوروں سے مالامال نہ ہوتا۔ محاوری، کہاوتیں، لوک کہانیاں معاشروں کے صدیوں پر محیط تاریخی شعور اور تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ تاریخ اور تجربات کے بحر ِ بیکراں کی موجوں کے الٹے رخ چلنا کبھی مطلوبہ نتائج نہیں دیتا۔ لیکن اس کا کیا کیجیے کہ پاکستان کے موجودہ حکمران اپنی آمد کے پہلے دن سے تاریخ اور تجربات کے نچوڑ کی موجوں کے الٹے رخ چلنے کا شغل فرما رہے ہیں۔ سندھی ٹوپی اور اجرک کا ہفتہ منانا بھی اسی روش کا آئینہ دار تھا۔ پاکستان کے ہر علاقے کی ثقافت اور تہذیب اس بنا پر قابلِ احترام ہے کہ وہ کسی علاقے کی ثقافت نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافت ہے۔ پاکستان 1947ءسے پہلے کسی جغرافیائی وحدت اور وجود کا نام نہیں تھا۔ یہ مذہب کے نام پر اکٹھی ہونے والی مختلف اکائیوں کا مجموعہ تھا، جن میں زبان، بودوباش، تہذیب سمیت بہت کچھ جدا تھا۔ یوں مسلم ہندوستان کا جو ٹکڑا پاکستان کے نام سے اُبھرا اس کی کوئی مخصوص ثقافت اور تہذیب نہیں تھی۔ اس کی مختلف ثقافتیں ہی پاکستانی ثقافت بن گئیں۔ ثقافت اس لحاظ سے بھی قابلِ احترام ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی پہچان، تعارف اور شناخت ہی نہیں، ان کی صدیوں کی روایات کی امین بھی ہوتی ہے۔ اور پھر بات سندھی ٹوپی اور اجرک کی ہو تو وہ اب کہاں سندھ تک محدود رہیں! ملک کے کسی کونے میں جائیں ہر آٹھ دس لوگوں میں کوئی نہ کوئی پنجابی، پشتون، بلوچی، کشمیری، اردو اسپیکنگ شخص سر پر سندھی ٹوپی سجائے یا سندھی اجرک لپیٹے ضرور نظر آتا ہے۔ اپنے الطاف بھائی کو ہی لیجیی، ان کی ہر دوسری تصویر سندھی ٹوپی سے مزین نظر آتی ہی، اور بیت اﷲ محسود کی ایک فوٹیج جو اکثر ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتی ہی، سندھی ٹوپی سے مزین ہوتی ہے۔ ثقافتوں کا فروغ اور احترام اپنی جگہ، لیکن مسائل سے نظریں چرانے کے لیے ثقافت کا استعمال ایک صحت مند رجحان نہیں۔ ایک زمانہ ہوتا تھا جب پاکستان مولانا بھاشانی کی کلہاڑی اور زہر افشانی کا بوجھ بھی سہار جاتا تھا لیکن اب اس کے انجر پنجر میں اتنا دم بھی باقی نہیں کہ یہ سندھی اجرک، پنجابی کُھسی، بلوچی دُسے اور پشتون پگڑی جیسی بے ضرر اور تاریخی شناختوں کا بطور تعصب بوجھ سہار سکے۔ تعصب پیدا کرنے اور ابھارنے کے طور پر نہ سہی محض دباﺅ بڑھانے اور کارڈ کارڈ کھیلنے کے لیے ہی سہی، یہ ملک اب مذاق میں بھی تعصب کا متحمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ عوامی لیگ پاکستان کے ایک عظیم مدبر سیاست دان حسین شہید سہروردی نے کھیل کھیل میں ہی قائم کی تھی۔ پھر کھیل کھیل میں ہی شیخ مجیب الرحمان تک جاپہنچی، یہاں تک کہ ایک روز کھیل ان کے ہاتھ سے بھی نکل گیا۔ صدر زرداری کی قیادت اور راہنمائی میں قائم حکومت کا المیہ یہ ہے کہ یہ روزاول سے مسائل کے حل کے بجائے ان سے نظریں چرانے اور دامن بچانے کی راہ پر چل پڑی ہے۔ اور اس طرز فکر وعمل کا نتیجہ ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے سلگتے جارہے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کا مسئلہ تعلیم، صحت، روزگار،کرپشن اور سفارش سے پاک نظام ہی، این ایف سی ایوارڈ کے تحت ان کا حصہ ہی، کاروکاری اور وڈیرہ شاہی ہی، بے نظیر بھٹو کے قاتل کی تلاش ہے۔ لیکن حکومت نے انہیں سندھی ٹوپی اور اجرک کا ہفتہ منانے پر لگادیا۔ اس سے اتنا تو ہوا کہ ٹیلی ویژن کی پبلسٹی سے سندھی ٹوپی اور اجرک کا کاروبار کرنے والوں کی دکان چند دن کے لیے چمک گئی۔ اچھا ہی ہوا کہ حکومت کے کسی فیصلے کے مثبت اثرات کسی بہانے عام پاکستانی تک تو پہنچ گئے۔ لیکن کیا اس سے سندھ کے عوام کے سلگتے مسائل کے حل کی منزل چندگام قریب آسکی؟ حیرت ہے کہ حکومت کو مسائل کے حل کا یہ نادرِ روزگار نسخہ اُس وقت کیوں یاد نہ آیا جب پنجاب گورنر راج کے خلاف سراپا احتجاج تھا اور لوگ شہبازشریف حکومت کی بحالی کا پُرزور مطالبہ کررہے تھے۔ عین اُس وقت ایوانِ صدر یا کم ازکم گورنر ہاﺅس سے ہفتہ¿ پنجابی پگ منانے کا اعلان کردینا چاہیے تھا۔ اور کچھ بعید نہ تھا کہ بپھرے ہوئے لوگوں کی ساری توجہ ہفتہ¿ پگ پر مرکوز ہوجاتی۔ شہباز حکومت کی بحالی کے لیے نکلنے والے جلسے جلوس ہفتہ¿ پنجابی پگ میں تبدیل ہوجاتے۔ صوبہ سرحد بالخصوص قبائلی علاقوں میں لگنے والی آگ بجھانے کا تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت ہفتہ¿ دم پُخت منانے کا اعلان کردے۔ ملک بھر میں پشتون علاقوں کی اس منفرد ڈش کے حق میں جلسے جلوس نکالنے کے علاوہ ٹی وی چینلز پر اس ڈش کی تیاری کی ترکیب بتائی جائے۔ اس سے نہ صرف بکروں کا کاروبار کرنے والوں کو کچھ فائدہ ہوگا بلکہ قبائلی عوام کی توجہ ڈرون حملوں کے بجائے ہفتہ¿ دم پخت کی طرف مڑ جائے گی۔ جبکہ بلوچ عوم کی توجہ براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری کی لن ترانیوں سے موڑنے کے لیے کسی مہینے کا انتخاب ماہِ سجی کے طور پر کیا جائے۔ چونکہ بلوچ بھائیوں کے گلے شکوے بھی زیادہ ہیں اور ان کا لہجہ بھی سب سے زیادہ تلخ ہی، اس لیے اُن کی توجہ موڑنے کے لیے زیادہ محنت اور وقت درکار ہی، اس لیے بلوچی سجی کا دن یا ہفتہ منانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ انہیں پھر آشنا بنانے کے لیے ایک مہینہ درکار ہوگا۔ لگے ہاتھوں پانچ فروری سے بھی نظریں چرائی جاسکتی ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب بیس برس قبل نئی آب وتاب سے شروع ہونے والی کشمیریوں کی تحریک ِآزادی کے ساتھ یک جہتی کے لیے اتنے ہی برس سے یوم یک جہتی¿ کشمیر منایا جارہا ہے۔ اب چونکہ بھارت سے ہمیں کوئی خطرہ بھی نہیں رہا، لیکن لوگ ہیں کہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ معذرت خواہی پر مبنی جنرل پرویزمشرف کی کشمیر پالیسی کو ترک کیا جائی، عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کے تذکرے سے شرمانے کا رویہ تبدیل کیا جائی، اس مسئلے پر چند برس میں لیے گئے سارے احمقانہ یو ٹرن سیدھے کیے جائیں۔کتنا اچھا ہو کہ حکومت ان سب بے معنی مطالبات سے دامن چھڑانے کے لیے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر جیسے بدمزہ کرنے والے پروگرام کے بجائے یوم کانگڑی منائے۔کانگڑی کشمیر کی منفرد ترین ثقافت ہی، مخصوص تیلیوں سے بنائی گئی یہ موبائل انگیٹھی سرد موسموں کی بہترین ساتھی ہوتی ہے۔ شدید سردی میں حدّت حاصل کرنے کے لیے دہکتے انگاروں بھری موبائل انگیٹھی لباس کے اندر رکھ کر گھومنے پھرنے کا یہ تصور یورپ، وسط ایشا اور آسٹریلیا جیسے سرد ترین اور برفانی ملکوں میں بھی نہیں ملتا۔ اس سے ایک تو کشمیری ثقافت کو ملک گیر تعارف ملے گا، دوسرے کشمیر کے حوالے سے بدمزہ کرنے والوں کی توجہ بٹ جائے گی۔ لیکن کیا ہفتہ¿ کانگڑی منانے سے پاکستان کشمیر کے حوالے سے اپنی سفارتی اور سیاسی ذمہ داری سے فارغ ہوجائے گا؟ یوم سجی منانے سے بلوچ عوام کا غصہ سرد پڑجائے گا؟ ہفتہ¿ دم پخت منانے سے قبائلی علاقے امن کا نمونہ بن جائیں گی؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ آگ کے فلک بوس شعلوں کو پھونکوں سے نہیں پانی سے ہی ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔ اور موجودہ حکومت عدلیہ کی بحالی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ تک ایشوز کو نان ایشوز کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرکے درحقیقت آگ کو پھونکوں سے بجھانے کا شغل فرما رہی ہے۔ خوش قسمتی سے خودکش حملوں سے بچنے لیکن مسائل کی چکی میں پسنے اور حالات ِ زمانہ کے بھنور میں پھنسنے والے بدقسمت لوگوں کو ہفتہ¿ اجرک منانے کے کام پر مامور کردینا اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

 

Share