Earn Money 365

 

 

 

 

 

 

سرورق > قومی خبریں

قومی خبریں


2009-09-16 00:00:00 PSTبلیک واٹر نے کراچی میں بھرتیاں شروع کر دیں 11 بنگلے حاصل کر لیے

کراچی (رپورٹ: طارق حبیب)امریکا کی بدنام زمانہ سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر نے کراچی میںاپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے 2 درجن افراد کو بھرتی کرلیا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریٹائرڈ اہلکار بھی شامل ہیں ۔ پوش علاقوں میں 11بنگلے کرائے پر حاصل کرلیے گئے ۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کے افراد کا تعاون حاصل ہے۔ روزنامہ جسارت نے جون 2009ءمیں کراچی پورٹ پر بلیک واٹر کی سرگرمیوں کا انکشاف کیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر نے کراچی میں اچانک اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور مقامی افراد کی بھرتی شروع کردی ہے ۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بلیک واٹر کے ذمہ داران نے کراچی میں سرگرمیوں کے لیے 22افراد کو بھرتی کیا ہے جن میں سے 16افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریٹائرڈ اہلکار و افسران ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ بلیک واٹر سے حکومتی اتحادی جماعتوں کے افراد رابطے میں ہیں اور سرگرمیوں کے حوالے سے معاونت کررہے ہیں ۔یہ افراد بلیک واٹر کے ذمہ داران سے باقاعدہ میٹنگز کرتے ہیں اور منصوبہ بندی میں شامل ہوتے ہیں۔ بلیک واٹر کے اہلکاروں نے شہر میں 7بنگلے ڈیفنس اور 4بنگلے گلشن اقبال کے علاقے میں مقررہ کرائے سے کئی گنا زیادہ کرائے پر حاصل کیے ہیں۔ ڈیفنس میں خیابان شمشیر میں واقع ایک بنگلے کو ہیڈ آفس قرار دیا ہے اور اس کی سیکورٹی کے لیے ایک مقامی نجی سیکورٹی کمپنی سے بات چیت جاری ہے ۔ نجی سیکورٹی کمپنی سے بات چیت مقامی افراد کررہے ہیں جنہیں یہ ذمہ داری بلیک واٹرکے ذمہ داران کی جانب سے سونپی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بلیک واٹر نے پٹارو کے قریب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نام پر سیکڑوں ایکڑ اراضی حاصل کرلی ہے ۔ واضح رہے کہ کریگ ڈیوس نامی بلیک واٹر کا ذمہ دار جو واشنگٹن بیسڈ کمپنی کری ایٹیو ایسوسی ایٹس انٹرنیشنل کے اہلکار کے طور پر سامنے آیا جو بلیک واٹر کا ایک ونگ بتایا جاتا ہے کو پشاور میں پراسرار سرگرمیوں میںملوث ہونے پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ملک سے نکال دیا گیا تھا تاہم کریگ ڈیوس دوبارہ پاکستان آچکا ہے اور سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔بلیک واٹر دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی مفادات کے لیے کام کررہی ہے اور امریکی فوجیوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کررہی ہے ۔ دفاعی تجزیہ کار بلیک واٹر کی کراچی میں موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کے بعد کیماڑی میں آئل ڈپو پر ہونے والے حملوں کو بھی معنی خیز قرار دے رہے ہیں ۔بدنام زمانہ امریکی کمپنی بلیک واٹر کا قیام 1997میں عمل میں آیا اور یہ کمپنی ہر سال 40ہزار سے زائدفوجیوں اور دیگر ایجنسیوں کے افراد کو خصوصی تربیت دیکر اپنے منصوبوں کے لئے استعمال کرتی ہے ۔ اس کمپنی کا نام اس وقت دنیا کی نظروں میں آیا جب اس کی جانب سے عراق میں کی جانے والی مختلف خون ریز کارروائیوں میں ہزاروں عراقی جاں بحق ہوگئے تھے اور عراق میں خواتین کی آبروریزی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا تھا۔اس وقت امریکا کی جانب سے عراق میں تعینات 3 نجی سیکورٹی فرموں میں سے بلیک واٹر سب سے بڑی ہے اور اس کی آمدنی کا 90فیصد حکومتی ٹھیکوں سے پورا ہوتا ہے جبکہ ان ٹھیکوں کے لیے کوئی باقاعدہ اعلان بھی نہیں کیا جاتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں کام کرنے والے بلیک واٹر کے ایک اہلکار پر سالانہ 445000ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں جو کسی بھی امریکی جنرل کی 26سال کی ملازمت کے دوران حاصل کی گئی تنخواہ سے بھی زائد ہے ۔ 2003میں امریکا نے بلیک واٹر سے 21 ملین ڈالر میں عراق میں امریکی آپریشن کے ذمہ دار پال بارمر کو11ماہ تک سیکورٹی فراہم کرنے کا ٹھیکہ دیا تھاجو اس وقت تک بلیک واٹر کے لیے سب سے بڑا ٹھیکہ تھا۔ 21جون 2004تک بلیک واٹر کو 3.2 ملین ڈالر ادا کیے جاچکے تھے جبکہ مجموعی طور پر اسے ایک بلین ڈالر ادا کیے جانے تھے جو کہ امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا شورش زدہ علاقوں میں اپنے سفارتکاروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا 5 سال کا بجٹ ہے۔ اسی طرح بلیک واٹر نے 2006میں عراق میں امریکی سفارتخانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ بلیک واٹر کسی بھی ملک کی بہترین فوج کی طرح ہر قسم کے فوجی سازوسامان سے مسلح اور باقاعدہ جنگ لڑنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے ۔اس حوالے سے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بلیک واٹر اس وقت دنیا کی مضبوط ترین نجی فوج ہے۔ 2007میں جب امریکی فوج کو افغانستان میں میں اپنی شکست کے آثار نظر آنا شروع ہوئے تو اس نے اپنی فوج کی حفاظت اور فوجی قافلوں کی نقل و حرکت کے دوران ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بلیک واٹر کو ٹھیکہ دیا ۔ ابتداءمیں بلیک واٹر کو خطرناک پہاڑی سلسلوں میں قائم امریکی اڈوں جن تک پہنچنے والے زمینی راستوں پر القاعدہ اور طالبان کا قبضہ تھا ، تک ہوائی جہازوں کے ذریعے سامان رسد پہنچانے کا ٹھیکہ ملا ۔ اس مقصد کے لیے بلیک واٹر نے روسی طیارے کرائے پر حاصل کیے جو خصوصی طور پر پہاڑی علاقوں میں پرواز کے لیے بنائے گئے تھے ۔ بلیک واٹر نے ان طیاروں پر سفید رنگ کرایا تاکہ اس کیذریعے مذکورہ طیارے اقوام متحدہ سے متعلق ہونے کا تاثر دیا جاسکے۔ اس کے بعد بلیک واٹر نے افغانستان میں اپنے قدم جمانے شروع کردیے اور امریکی فوج مکمل طور پر بلیک واٹر کی محتاج ہوکر رہ گئی۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بلیک واٹر پر عراق میں بھی جنگی جرائم اور شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کے مقدمات درج ہیں تاہم اس کے امریکی حکومتی حلقوں میں اثر رسوخ رکھنے والے حمایتی اس کا دفاع کرتے ہیں ۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ عراق میں لوگوں کے گلے کاٹنے کی روایت بلیک واٹر نے ہی شروع کی تھی۔

 

Share