Earn Money 365

 

 

 

 

 

 

سرورق > اداریہ

اداریہ


2010-02-09 00:00:00 PSTاداری‘پارٹی یاحکومت؟

گزشتہ کچھ عرصہ سے کراچی میں امن وامان کی جوبدترین صورتحال رہی اس کے پیش نظروزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی گزشتہ اتوارکو کراچی تشریف لائے اور نہ صرف امن وامان بلکہ بلدیاتی اداروں کے مستقبل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ عاشورہ کے بعد چہلم کے موقع پر ایک اورسانحہ کے پیش نظر وزیراعظم کادورہ کراچی اس لحاظ سے اہم ہے کہ عوام کو یہ احساس ہوکہ حکومت ان کے مسائل اور مشکلات سے لاتعلق نہیں۔ وزیراعظم یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں‘ یہ ایک الگ بحث ہے کیونکہ ابھی تک وہ یہی ثابت نہیں کرسکے کہ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ بہرحال انہوں نے سانحہ چہلم میں شہیدہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مجرموں کو کیفرکردارتک پہنچایاجائے گا اور یہ کہ لوگوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سانحہ کراچی میں ملوث دہشت گردوں کو ضرور انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے کوئی کسراٹھانہیں رکھی جائے گی۔ یہ دعوے ایسے ہیں کہ اب تو ان پرہنسی بھی نہیں آتی۔ بات صرف جناب یوسف رضا گیلانی کی نہیں بلکہ ایک عرصے سے حکمران یہ دعوے کررہے ہیں کہ عوام کی جان ومال کا تحفظ ان کی ترجیح ہے اور دوسری طرف جان سلامت نہ مال۔ اس کو چھوڑیے کہ کیا قبائلی علاقوں کے باشندے پاکستان کے عوام نہیں کہ ان کی حفاظت سے کب کا ہاتھ اٹھالیاگیا‘ صرف کراچی ہی کی بات کی جائے تو یہاں ایک عرصے سے عوام کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور حکمران محض نعرے لگارہے ہیں۔ سانحہ عاشورکو 43 دن گزرگئے‘ انصاف کا کٹہرا دہشت گردوں کا منتظرتھا کہ چہلم پر ایک اورسانحہ ہوگیا۔ اس عرصہ میں لیاری کے حوالے سے گروہی تصادم ہوا پھر قصبہ کالونی سے شروع ہونے والا جھگڑا لسانی تصادم میں بدل گیا اور متعددبے گناہ مارے گئے‘ وہ لوگ جن کی جان ومال کے تحفظ کی بات وزیراعظم کررہے ہیں۔ ستم یہ کہ حکومت کو خوب معلوم ہے کہ کون کس کو ماررہاہے۔ وزیراعظم سندھ کے وزیر داخلہ اور اپنے صدرکے دوست جناب ذوالفقار مرزا سے تنہائی میں پوچھ دیکھیںکہ وہ سندھ اسمبلی کے ایوان میں کن سیاستدانوں کو لٹکانے کی بات کررہے تھے۔ عوام کی جان ومال کا تحفظ ایک بار پھر مفاہمت کی نذرہوگیا۔ کراچی ہی کیا ملک بھرمیںکہیں بھی عوام کی جان ومال محفوظ نہیں۔ صرف قاتل اور دہشت گرد محفوظ ہیں۔ اس حوالے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والی دیگرایجنسیوں کا کرداربھی اطمینان بخش نہیں۔ اگریہ ادارے درست ہوجائیں تو نہ صرف وزیراعظم کے دعوﺅں میں جان پڑسکتی ہے بلکہ ہر ہرقدم پر عدالتوں کو بھی ازخودنوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ لوگوں کو جب کہیں سے انصاف نہیں ملتا تو بات عدالت عظمیٰ تک جاتی ہے۔ جناب یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں متحدہ اور پیپلزپارٹی کی چپقلش کا بھی جائزہ لیا اور متحدہ کے نمائندہ گورنر سندھ سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم کے سامنے بلدیاتی حکومت کے انتخابات‘ ایڈمنسٹریٹروں کا تقرر اور پانی کے حوالے سے سندھ کے تحفظات جیسے معاملات بھی تھے۔ پیپلزپارٹی سندھ کی قیادت چشمہ لنک کینال کے ذریعہ سندھ کو ملنے والے پانی کی مبینہ کٹوتی پر احتجاج کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاﺅس میں ملاقات کے دوران پارٹی کی قیادت نے وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیاہے۔ سندھ کی یہ شکایت بہت پرانی ہے کہ پنجاب اس صوبے کا پانی چوری کررہاہے۔ وزیراعظم نے پارٹی عہدیداروں سے خطاب میں دوباتوں پرزوردیاہے۔ ایک تو یہ کہ اداروں کو مضبوط کریں گے اور دوسرے یہ کہ اصل چیز حکومت نہیں پارٹی ہے۔ اسے مضبوط کریں گے‘ کارکنوں اور عہدیداروں کو مضبوط کریں گے۔ غالباً وزیراعظم خود بھی طے نہیں کرپائے کہ اداروں کو مضبوط کیاجائے یا پارٹی کو۔ یہ فلسفہ بھی سمجھ سے بالاترہے کہ حکومت کو مضبوط کرنے کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرحکومت آئین وقانون پرعمل پیرا ہوتو وہ بھی مضبوط ہوتی ہے اور ادارے بھی۔ ایسی صورت میں حکمران جماعت کے کارکن بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن پارٹی اورکارکنوں کو مضبوط کرنے کی جدوجہد میں ادارے کمزورہوتے ہیں اور پھر حکومت زوال کا شکارہوجاتی ہے۔ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے وزیراعظم نے بھی گورنر پنجاب اور صدر مملکت کا نسخہ دوہرایاہے کہ ”وزیراعظم ہاﺅس میں بھی پیپلزپارٹی کے کنونشن ہوں گی“ صدر زرداری تو ثابت کرچکے ہیں کہ وہ ملک کے صدر نہیں بلکہ صرف پیپلزپارٹی کے سربراہ ہیں۔ اب یوسف رضا گیلانی بھی ایوان وزیراعظم کو اپنی پارٹی کی جلسہ گاہ بنانے کا اعلان کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ شکوہ بھی کیاکہ کچھ لوگ پیپلزپارٹی میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ الزام بالکل اسی طرح ہے جیسے گزشتہ دنوں کراچی میں قتل عام کے پیش منظرمیں کہاگیا کہ پیپلزپارٹی اورمتحدہ میں اختلافات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا یہ کوششیں باہر سے ہورہی ہیں یا اندرسی؟ باہرسے ہیں تو کون کررہاہے اور اگر اندرسے ہیں تو اپنے اپنے گریبان ٹٹولیں۔

 

Share