اداریہ
2010-02-09 00:00:00 PSTاجمل خٹک بھی چل بسی
|
بزرگ سیاستدان اورپشتوزبان کے معروف ادیب وشاعراجمل خٹک گزشتہ اتوارکو انتقال کرگئے۔ ان کی عمر85 سال تھی اور وہ ایک عرصہ سے سیاست سے کنارہ کش تھے تاہم لکھنے پڑھنے کا کام جاری تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ اجمل خٹک ان چندلوگوں میں سے ایک تھے جو اپنے افکار ونظریات پرعمل پیرا بھی تھے۔ وہ دومرتبہ اے این پی کے صدر بنے‘ سینیٹر اور رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے لیکن آخری دم تک اپنے آبائی قصبہ اکوڑہ خٹک میں سادہ زندگی گزارتے رہے۔ پشتو اوراردو میں کئی کتابوں کے مصنف تھے اور 2008ءمیں کمال فن ایوارڈ بھی حاصل کرچکے تھے۔ صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے نتیجہ میں انہیں اے این پی کی صدارت سے الگ کردیا گیا تھا تاہم وہ آخری دم تک اپنی پارٹی سے وابستہ رہے۔ 23 مارچ 1973ءکو جب ملک پربھٹو صاحب کی حکمرانی تھی‘ لیاقت باغ راولپنڈی میں متحدہ جمہوری محاذ کے جلسہ پر سرکاری دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی اس وقت اے این پی نیپ (NAP) کے نام سے خان عبدالولی خان کی قیادت میں کام کررہی تھی جنرل سیکریٹری اجمل خٹک اسٹیج سیکریٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ دہشت گردوں نے خان عبدالولی خان سمیت نیپ کے رہنماﺅں کو خاص طورپرنشانہ بنایا۔ اجمل خٹک اور ولی خان تو محفوظ رہے لیکن سیکڑوں افرادہلاک ہوئے۔ یہ وہ دورتھا جب ولی خان اور ان کی پارٹی بھی بھٹو صاحب کا خاص نشانہ تھی ۔ ولی خان تو بغاوت کے الزام میں اس وقت تک جیل کاٹتے رہے جب تک خود بھٹو صاحب جیل نہ چلے گئے تاہم اجمل خٹک سمیت نیپ کے کئی افراد افغانستان فرارہوگئے۔ سردار داﺅد کی حکومت نے اجمل خٹک کو سرکاری مہمان کی حیثیت دی۔ پشتو کے ادیب وشاعری کی حیثیت سے اجمل خٹک افغانوں میں بھی مقبول تھے۔ ان پر روسی نظریات غالب تھے۔ اجمل خٹک 16 سال کی جلاوطنی کے بعد 1989ءمیں واپس پاکستان آئے۔ اتفاق ہے کہ اس وقت بھی پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور آج اجمل خٹک کی پارٹی پیپلزپارٹی کی حکومت میں شریک ہے۔ اجمل خٹک کو باچاخان کا سچا پیروکار سمجھاجاتا تھا۔ ان کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ بطور سیاستدان نہ سہی لیکن ایک ادیب وشاعر اور پشتون تہذیب وثقافت کے مورخ کی حیثیت سے مرحوم یادرکھے جائیں گے۔ وہ سادگی‘ شراف اور مخصوص روایات کے نمائندہ تھے۔ ”جلاوطن کی شاعری“ کے عنوان سے ان کی اردوشاعری نے بھی داد حاصل کی۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔
|











