اداریہ
2009-07-04 00:00:00 PSTاردوڈکشنری بورڈ کا مستقبل
|
پاکستان کا ایک اور قدیم علمی ادارہ اردو ڈکشنری بورڈ کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پاکستان کی علم دشمن بیورو کریسی ایک اور علمی اثاثے کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اردو ڈکشنری بورڈ کے وجود کو خطرہ 1970ءمیں کابینہ ڈویژن کے ایک فیصلے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس کے مطابق کراچی میں قائم اردو ڈکشنری بورڈ اور لاہور میں قائم اردو سائنس بورڈ کو ضم کردینے کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ یہ دونوں ادارے وفاقی وزارت تعلیم کے تحت کام کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزارت تعلیم کی خط کتابت نے اس مسئلے کو ایک بار پھر زندہ کردیا ہے۔ گزشتہ روز اردو ڈکشنری بورڈ کے دفتر میں کراچی کے اہل علم کی موجودگی میں وفاقی وزارت تعلیم کے نمائندوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس فیصلے کو تبدیل کرانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ لیکن جب تک یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوجاتا اس وقت تک خطرے کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ بجائے خود یہ ایک المیہ ہے کہ 1997ءمیں ایک فیصلہ ہوگیا اور اس کے خلاف ردعمل نہیں ہوا‘ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو خوداپنے شہر کے حقیقی اثاثوں کا کوئی علم نہیں ہے۔ اردو لغت بورڈ جو بابائے اردو مولوی عبدالحق ‘ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی‘ جیسے ماہرینلسانیات کی قیادت و رہنمائی میں قائم ہوا تھا اور اس نے غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے‘ اس ادارے کے تحت اب تک اردو لغت کی 21 جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔درمیان میں تعطل بھی آگیا تھا۔لیکن سابق مدیر اعلیٰ ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور ڈاکٹر رﺅف پاریکھ کے دور میں تیزی آئی۔ لغت کی تیاری زندہ قوموں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن ہمارا علم دشمن معاشرہ بالخصوص حکمران طبقہ اس کام کی اہمیت کو نہیں سمجھتا۔ اب اس مرحلے پر کراچی کے اہل علم بالخصوص ڈاکٹر جمیل الدین عالی‘ ڈاکٹر جمیل جالبی ‘ ڈاکٹر فرمان فتح پوری‘ ڈاکٹر اسلم فرخی اور آفتاب احمد خان جیسے افراد نے اس ادارے کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے اور وفاقی وزات تعلیم کے وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ادارے کو ضم نہیں کیا جائے گا۔ قوم کو دونوں اداروں کی ضرورت ہے اور اس کے لیے وسائل فراہم کرنا حکومت کا فریضہ۔
|
اداریہ
2010-09-03 00:00:00 PSTپاکستان کو عراق بنانے کی سازش
2010-09-03 00:00:00 PSTیوم یکجہتی کشمیر منانے کی اپیل










