بین الاقوامی خبریں
2010-07-29 00:00:00 PSTپاکستان دہشتگردی کرارہا ہے‘ برطانیہ‘ بھارت اور افغانستان تینوں یک زبان ہوگئی
|
نئی دہلی/کابل/اسلام آباد (خبر ایجنسیاں )برطانیہ ،بھارت اور افغانستان نے وکی لیکس کی رپورٹ کے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا خطرناک کھیل ہے ،افغانستان نے امریکاپر بھی تنقید کی کہ وہ افغان جنگ میں پاکستان کے منفی کردار کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ ،پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی سیکورٹی اور خفیہ اداروںکا کردار واضح ہے ،کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،پاکستان دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہے ۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو مدد کے ثبوت موجود ہیں ،پاکستان اپنی سرزمین کو عالمی سطح پر دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔بھارت جاتے ہوئے طیارے میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کیلئے دہری پالیسی اختیار نہ کرے ایک طرف افغانستان کو مستحکم کرنا اور دوسری طرف دہشت گردوں کی مددکرنا ناقابل قبول ہے۔انکا کہنا تھا کہ ماضی بھی اس کے ثبوت موجود ہیں کہ پاکستان شدت پسندوں کی مدد کرتا رہا ہے تاہم حال ہی میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف مو¿ثر کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت لائے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کسی طرح یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ پاکستان بھارت یا افغانستان میں دہشت گردی برآمد کرے۔بھارت نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا خطرناک کھیل ہے ۔ بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کیلئے نامزد دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ نئی دہلی سے جاری بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے حوالے سے وکی لیکس کے انکشافات درست ہیں۔ آئی ایس آئی کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی ، حمایت اور تعاون فراہم کرنا پاکستان کی رہاستی پالیسی کا حصہ ہے جو قابل مذمت ہے اور اسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے ۔ترجمان نے پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد پاکستان بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے ۔ افغان صدر حامد کرزئی کے قومی سلامتی کے مشیر رنگین داد فر نے کابل سے جاری بیان اور بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت کے خلاف جنگ میں امریکا دہری پالیسی پر گامزن ہے۔ افغان جنگ میں پاکستان کے منفی کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ خفیہ معلومات منظر عام پر آنے کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لانا معنی خیز ہے۔انہوں نے کہا کہ وکی لیکس رپورٹ میں پاکستان کے دہرے کردار کی نشاندہی کے بعد مغرب کو پاکستان پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہیے۔انہوں نے افغان جنگ میں پاکستان کے منفی کردار پر امریکا کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کو نظرانداز کرکے افغان جنگ میںدوغلی پالیسی اپنا رہا ہے۔امریکا9برس میں پاکستان میں روپوش طالبان رہنما¶ں اور ان کے حامیوں پر حملے کرنے میں ناکام رہا ہے۔رنگین دادفر کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اتحادیوں نے علاقائی سلامتی واستحکام کیلئے عالمی دہشت گردوں کیلئے بیرون ملک مدد سے متعلق ضروری توجہ نہیں دی ۔انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطرناک کھیل ہے اور اسے روکنا ہوگا۔بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد پر بھی سوالات اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ افغان عوام کیلئے ناقابل قبول ہے کہ پاکستان کو تعمیر نو میں مدد اور اسکی سیکورٹی فورسز کو 11ارب ڈالر سے زائد امداد دی جائے اور پھریہی فورسز دہشت گردوں کو تربیت دیں۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکا پاکستان میں طالبان کے ٹھکانوں اور ان کے حامیوں کے خاتمہ اورافغان پالیسی کا از سر نو جائزہ نہیں لیتا جنگ جیتنا مشکل ہوگا۔علاوہ ازیں برطانوی وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بہتر تعلقات موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی علاقے کی جغرافیائی صورتحال کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا ۔برطانیہ جانتا ہے کہ دہشت گرد دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان اوربھارت کی نسبت دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہے ،ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں جو کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہیں، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے دوست ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیلئے بھارت پر اپنا اثر ڈالیں گے۔ ادھرسیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے کردار کے بارے میں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کی موجودگی کا الزام لگانے والے افغانستان میں اتحادی افواج کی شکست کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے خلاف وکی لیکس کا پروپیگنڈا بیمار ذہنیت کا عکاس ہے اور یہ بدنیتی پر مبنی ہی، رپورٹ ناقابل برداشت تضحیک کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ان الزامات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک امریکا تعاون متاثر ہوسکتا ہے تاہم امریکی انتظامیہ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔
|










