پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی

40

قدسیہ ملک
کل فون آیا ’’آپ کو اسکولوں میں ملاقاتیں کرنے جانا ہے‘‘۔ اگلے دن وقتِ مقررہ پر گاڑی آگئی۔ اسکولوں کے دورے کے بعد طے یہ ہوا کہ اُس لڑکی کے گھر والوں سے ملاقات کی جائے جس کو حادثہ پیش آیا۔ گھر کے سامنے سفید شامیانے سے شناخت ہوگئی۔ گھر پہنچے تو ایک سوگوار سی فضا ہمارا استقبال کررہی تھی۔ کچھ دیر یونہی صحن میں کھڑے رہنے کے بعد ایک بچہ ہمیں زنان خانے میں لے گیا جہاں ایک غم زدہ خاتون ہمارے سامنے کھڑی تھیں۔ پتا چلا وہی نمرہ کی والدہ ہیں۔ نمرہ اُن کی ایک ہی بیٹی تھی اور ایک بیٹا ہے جو سی ایس ایس کررہا ہے۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ہم نے ٹی وی پر خبر سنی کہ پولیس مقابلے میں ایک طالبہ کو گولی لگی ہے، میرے ذہن میں ایک دم سے یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ نمرہ نہ ہو۔ لیکن میں نے اس خیال کو جھٹک دیا اور نمرہ کی سلامتی کے لیے دعا کرنے لگی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں خبر آگئی کہ وہ لڑکی نمرہ ہی ہے۔ ہم بھاگم بھاگ عباسی شہید اسپتال پہنچے جہاں سے اسے جناح اسپتال شفٹ کردیا گیا تھا، اور جب جناح اسپتال پہنچے تب تک وہ اس جہاں میں نہیں رہی تھی۔ وہاں وینٹی لیٹر کی سہولت نہیں تھی، نہ ہی اسے فوری کسی قسم کی طبی امداد دی جاسکی، اور میری پھول سی بچی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم کو چھوڑ گئی۔ یہ بتاکر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ کہنے لگیں: میری تو یہ اکلوتی بیٹی تھی۔ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد میں نے اسے ماں کے ساتھ باپ بن کر پالا تھا۔ اب میرا ایک ہی بیٹا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرمائے۔
ہم ان کو سوائے دلاسے اور تسلیاں دینے کے اور کیا کرسکتے تھے! دکھی دل کے ساتھ تھوڑی دیر اُن کے پاس بیٹھے رہے اور دکھی دل لیے ہی وہاں سے واپس آگئے۔ نمرہ کی والدہ نے ہمیں بتایا کہ وہ جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھی۔ نمرہ کے والد کو کینسر تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ نمرہ کے میٹرک میں آنے پر اس کے والد اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ نمرہ کی والدہ کالج میں پروفیسر ہیں اور اپنے شوہر کے انتقال کے بعد سے اپنے بھائی کے ہاں رہتی ہیں۔ ان کی والدہ یعنی نمرہ کی نانی خاصی بیمار ہیں اور بستر پر ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کرنا نمرہ کی والدہ ہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کے بھائی اپنے بہنوئی کے انتقال کے بعد انہیں اپنے ساتھ لے آئے تھے۔
بلاشبہ اگر عورت کا دنیا میں وجود نہ ہوتا تو یہ کائنات پھیکی ہوتی۔ یہ کائنات ایک گلشن ہے۔ بہن، بیٹی، بہو مختلف پھولوں کے نام ہیں۔ لیکن اس واقعے کے بعد یہ یقین پختہ ہوگیا کہ عورت ہی کی بدولت اس کائنات کے رنگ ہیں، لیکن اس عورت کے خمیر میں دکھ اور الم گندھے ہوئے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عورت کے درجات اتنے بلند رکھے ہیں۔
اصل واقعہ کیا تھا…! ہوا یوں تھاکہ شہرِ قائد کے علاقے میں واقع انڈا موڑ پر پولیس مقابلے کی زد میں آکر طالبہ جاں بحق ہوگئی۔ اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے جس کے مطابق نمرہ کے سر پر لگنے والی گولی رائفل کی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 23 سالہ نمرہ کو رات 10بج کر21 منٹ پر جناح اسپتال کراچی لایا گیا، اُس وقت تک وہ دم توڑ چکی تھی، طالبہ کے سر کے سیدھے حصے پر گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رائفل فائر آرم کی گولی لگنے سے سر پر ڈھائی سینٹی میٹر لمبا اور گہرا زخم آیا جس کی وجہ سے سر کی ہڈی میں فریکچر ہوا۔ مقتولہ کے متعدد ایکسرے اور سی ٹی اسکین بھی کرائے گئے۔ ڈاکٹر ذکیہ کے مطابق نمرہ کو گولی قریب سے لگنے کے کوئی شواہد نہیں ملے، مقتولہ کے جسم میں لگنے والی گولی کا ثبوت نہیں ملا، البتہ سر کی ہڈی ٹوٹنے سے مقتولہ کے دماغ کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے وہ جان سے گئی۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نمرہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی۔
یاد رہے کہ 22 فروری کی رات نارتھ کراچی میں واقع انڈا موڑ کے قریب پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مقابلہ ہوا تھا جس کی زد میں میڈیکل کالج کی طالبہ آگئی تھی۔ نمرہ کو زخمی ہونے کے بعد عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے اُسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ جناح اسپتال منتقل کرنے کے دوران نمرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی، جس کے بعد وہاں کی خاتون ایم ایل او (میڈیکل لیگو آفیسر) نے پوسٹ مارٹم کرنے میں تاخیر کی۔ اہلِ خانہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نمرہ کو پولیس اہلکار کی گولی لگی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے طالبہ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ دوسری جانب آئی جی سندھ نے قتل کی تحقیقات کے لیے دو ڈی آئی جیز عارف حنیف اور امین یوسف زئی، اور دو ایس پیز نعمان صدیقی اور سمیع اللہ سومرو پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی، جس نے جائے وقوع کا دورہ کرکے عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین نے متوفیہ کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ نمرہ کا تعلق پولیس کے خاندان سے ہے۔ مقتولہ کے دادا اور والد سندھ پولیس میں ملازم تھے۔ کمیٹی کے اراکین نے مقتولہ کے اہلِ خانہ اور ماموں کے بیانات بھی قلم بند کیے۔ ڈی آئی جی سندھ نے تحقیقاتی کمیٹی کو تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن تاحال کوئی رپورٹ نہ آسکی۔
جنگ نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی نے طالبہ نمرہ بیگ کو ڈاکٹر کی اعزازی ڈگری دینے کی قرارداد منظور کرلی، ارکانِ اسمبلی نے کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعہ کے دوران اندھی گولی کا نشانہ بن کر اپنی زندگی کی بازی ہار جانے والی میڈیکل کی طالبہ نمرہ سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو اور ایم کیو ایم کے رکن وسیم قریشی کی ایک جیسی قرارداد کی پیر کو سندھ اسمبلی میں منظوری سے قبل ایوان میں اظہار خیال کیا، ایم کیو ایم کے رکن وسیم قریشی نے کہا کہ نمرہ ڈاکٹر بن کر اپنے گھر والوں کا مستقبل بننا چاہتی تھی، وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھی، نمرہ اب دنیا میں نہیں، اس کی والدہ کو ایک تقریب میں نمرہ کو ڈاکٹر بننے کی اعزازی ڈگری دی جائے، اس طرح ان کے والدین کی کچھ دادرسی ہوسکے گی۔ قائد حزبِ اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ پولیس عوام کے سامنے خوف کی علامت بن گئی ہے اور شہری اب اسے دوست کی نظر سے نہیں دیکھتے، نمرہ بیگ کے نام پر پولیس اسٹیشن قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تربیت کا نظام جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے مثبت بات کی ہے، انہوں نے جو تجاویز دی ہیں وہ قابلِ عمل ہیں، کچھ باتیں ایسی کی گئی ہیں جو اس قرارداد کے ساتھ منسلک نہیں، نمرہ کی والدہ اور ماموں سے ملاقات ہوئی، ڈگری کے حوالے سے ڈائو یونیورسٹی سے خود بات کروں گا، باقی صوبوں میں پولیس کے اوپر صوبائی حکومتوں کا کنٹرول ہے، سندھ کے لیے قانون باقی صوبوں سے الگ کیوں ہے؟ پنجاب میں ڈی پی او کو لگانے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے، ہمارے وزیراعلیٰ کے پاس ایک سپاہی کو ہٹانے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین اور خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ کراچی میں امل عمر کے بعد نمرہ بیگ کی ہلاکت دوسرا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پولیس کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ شہر میں اسلحہ لے کر دندناتے پھرنے کی آخر کیا ضرورت ہے! ایسے واقعات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، کمیشن بنائیں کہ نمرہ بیگ کو کس کی گولی لگی، ذمہ دار کا پتا چلایا جائے۔
اور ہم سب جانتے ہیں کہ کمیشن تو بے نظیر قتل کیس کا بھی بنا تھا۔ لیاقت علی خان قتل کیس کا بھی کمیشن بنا تھا۔ سقوطِ ڈھاکا کمیشن بھی بنایاگیا تھا۔ ارے یاد آیا، وہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے بے گناہوں کے قتل کا بھی توکمیشن بنایا گیا تھا ناں۔ کمیشن تو اس ملک میں بہت بنتے ہیں، لیکن ان کی رپورٹ بھی تو کبھی منظرعام پر آئے۔

پھر دل کو مصفّا کرو اس لَوح پہ شاید
مابینِ من و تُو نیا پیماں کوئی اترے
اب رسمِ ستمِ حکمتِ خاصانِ زمیں ہے
تائیدِ ستم مصلحتِ مفتیِ دیں ہے
اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے
لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

زمانہ بیت گیا حسرت ہی رہی کہ کبھی کوئی مسیحا اس زمین پر ایسا آئے کہ اس ملک کی خزاں رسیدہ، بوسیدہ اور رستے زخم کی سیاہ المناکی پر سکھ، خوشی اور آسودگی کا مرہم رکھ سکے۔ قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں ہونے والی اس شہر کی ہولناکی اور دکھ کی سیاہ رات کو چیر کو امن و امان اور قانون کی صبح طلوع کرسکے۔ لاقانونیت کو لگام دے سکے۔ ایسی لگام دے کہ یہ قانون کے رکھوالے درست معنوں میں قانون کے نگہبان، عزتوں کے محافظ اور راہبر و رہنما بن جائیں۔ وہ اس شہر کے، اس ملک کے ہر شہری کی عزت اور جان و مال کی حفاظت اپنی جان و مال کی حفاظت کی طرح کریں۔ وہ اس ملک کے ہر شہری کو اسی طرح احترام دیں جس کے اس ملک کے شہری حق دار ہیں۔
لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم بھی قانون کے رکھوالوں کو ویسی ہی عزت دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ ’’پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘۔ قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک ڈراما ’’’’اندھیرا اجالا‘‘‘‘ کے نام سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا جس میں جمیل فخری ہوشیار ترین ایس ایچ او، اور حوالدار عرفان کھوسٹ جو تھانہ کا محرر تھا انتہائی سادہ شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے کردار موجود ہیں۔ پولیس کے بہت سے ایمان دار افسران اور اہلکار اس معاشرے کو سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں، صرف چند کالی بھیڑوں اور گندی مچھلیوں نے معاملہ خراب کررکھا ہے۔ اگر ہمارے سیاستدان پولیس کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں اور قانون کی وردی میں چھپا بھیڑیا پکڑا جائے تو اسے نشانِ عبرت بنادیا جائے، تاکہ معاشرہ درست سمت کی طرف بڑھ سکے۔ اس کے لیے حکومت کو بھی پولیس ملازمین کی ضروریات اور اُن کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

حصہ