وادی ہنزہ ، سیاحوں کی جنت

215

شبیر ابن عادل
ملک کے بعض علاقے ایسے ہیں، جہاں پہنچ کر سیاح دنگ رہ جاتے ہیں۔ اتنے دلفریب، دلکش اور حسین فطری نظارے کہ خواب کا گمان ہوتاہے۔ یہی حالت میری بھی ہوئی، جب میں نے ہنزہ کے دلکش مقامات کو دیکھا۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ربّ کا بہت شکر ادا کیاکہ اس نے ہمارے ملک کو اتنی خوبصورتی سے نوازا ہے۔ اُس سفر میں میں نے سڑک کے طویل سفر کے بجائے پنڈی سے گلگت کا ہوائی سفر کیا۔ بہت مختصر مگر خوبصورت سفر تھا، برفپوش پہاڑیوں نے مجھے مبہوت کرکے رکھ دیا۔ وہ ستمبر کا مہینہ تھا اور وہاں برفباری کا سلسلہ نومبر سے شروع ہوتا ہے۔ اس لئے سفر خاصا پرسکون رہا۔
گلگت میں قیام کے دوران اپنے دوستوںجسٹس یارمحمد، خوشی محمد طارق، عنایت اللہ شِمالی ، جمشید دکھی اور سعادت علی مجاہد سے ملے اور شعر وشاعری کی بھی نشست ہوئی۔
ایک خوبصورت صبح ، جب سہانی دھوپ نکلی ہوئی تھی، ہم اپنے دوست کی جیپ پر وادیٔ ہنزہ روانہ ہوئے۔ ہنزہ گلگت سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد ہم ہنزہ پہنچ گئے۔ یہ گلگت سے شمال میں نگر کے ساتھ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے۔
اسلام آباد سے سات سو کلومیٹر دور شاہراہ ریشم کے کنارے پر واقع یہ وادی سطح سمندر سے ڈھائی ہزار میٹر بلند ہے۔ اسلام آباد سے اس کا راستہ حسن ابدال۔ ایبٹ آباد۔ مانسہرہ۔ تھا کوٹ۔ بشام۔ داسو۔ چلاس۔ گلگت سے ہوتا ہوا ہنزہ آتا ہے۔ایک ا ور راستہ مانسہرہ سے بالاکوٹ ناران اور بابوسر پاس سے چلاس کے ساتھ ملتا ہے۔ راولپنڈی سے جدید آرام دہ پبلک ٹرانسپو رٹ گلگت و ہنزہ کے لئے روزانہ ہی جاتی ہے۔ اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز بھی ہفتے میں دو دن گلگت جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنی گاڑی پر بھی گلگت اور وہاں سے ہنزہ جاسکتے ہیں۔ برفباری اور تیز بارشوں سے شاہراہ قراقرم آئے دن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہتی ہے اور اس کی مرمت کا کام بھی جاری رہتا ہے۔
اپریل کے دن تھے۔ دھوپ چمک رہی تھی لیکن اس میں شدت نہیں تھی۔ گلگت سے نکل کر گاڑی جب نلت پہنچی تو وہاں رنگوں کی بہار تھی۔ سفید،گلابی اور نارنجی پھولوں سے درخت لدے ہوئے تھے۔ ہنزہ پہنچتے پہنچتے میں رنگوں میں گھِر چکا تھا اور حیران ہوا جا رہا تھا کہ آخر مجھے پہلے کیوں نہیں معلوم تھا کہ بہار میں اتنے رنگ اور ایسے موسم بھی پاکستان میں ہوتے ہیں۔ حسین آباد سے علی آباد تک کی سڑک دونوں طرف پھولوں سے بھرے درختوں سے لدی ہوئی تھی۔

وادی ہنزہ سات ہزار نو سو مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہے اور گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ جہاں کی زبان بروشسکی ہے۔ اسے دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب کہ واخی اور شینا زبان بھی بولی جاتی ہے۔ عام طور پر ہنزہ کو ایک شہر کا نام سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت سی چھوٹی چھوٹی وادیاں اور قصبے شامل ہیں۔
ہنزہ کا سب سے اہم شہر علی آباد ہے جبکہ سیاحت کیلے اور اردگرد کے نظاروں کیلے کریم آباد مشہور ہے۔کریم آباد میںبہت سے ہوٹل ہیں۔ اس کے علاوہ نہایت ہی سستی ماہانہ و ہفتہ وار بنیادوں پر بھی رہائش مل جاتی ہے۔
ہنزہ کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالیں تو مستنصر حسین تارڑ کے بقول ”1889 تک انگریز گلگت میں مقیم رہے، شراب پیتے رہے اور ابلے ہوئے آلو کھاتے رہے۔ ان کے لیے صرف 60 میل دور ایک برفانی وادی میں روپوش اہل ہنزہ خوبصورت مگر وحشی اور جاہل لوگ تھے جو کاشغر اور قندھار جانے والے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔
”اسی برس گرومجپکی نام کا ایک روسی افسر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ ہنزہ میں داخل ہوا اور وہاں ایک روسی دستہ تعینات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس پر انگریزوں کی وہسکی پانی ہوئی اور آلو پتھر ہو گئے۔ میر آف ہنزہ صفدر علی کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا کہ وہ ان
کی ڈاک کاشغر تک جانے دے گا اور اس کے بدلے انگریز اسے ایک معقول رقم ادا کرتے رہیں گے۔ لیکن روسیوں کی آمد نے انہیں چوکنا کر دیا۔ یوں بھی وہ کسی بہانے کی تلاش میں تھے اور یہ بہانہ تو بہت ہی معقول تھا کہ ہنزہ کے بعد روسی گلگت بھی آسکتے ہیں اور گلگت سے دہلی اگرچہ دور ہے پر ہے تو سہی۔
”1890 میں ان کی فوج کرنل ڈیورنڈ کی سرکردگی میں نلت کے قلعے پر قابض ہو گئیں جو ہنزہ کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔ اس لڑائی میں اہل ہنزہ کے پاس چند بندوقیں تھیں اور انگریز فوج رائفلوں اور مشین گنوں سے مسلح تھیں، پھر بھی انگریز کو جانی نقصان اس قدر زیادہ تھا انہیں اس چھوٹے سے قلعے کو سر کرنے والی فوج کے دو جوانوں کو وکٹوریہ کراس سے نوازنا پڑا۔
”نلت کے بعد وہ بلتت قلعے کی طرف آئے اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد وہ بلتت قلعے پر قابض ہو گئے۔ میر آف ہنزہ صفدر علی اپنے خاندان سمیت چین فرار ہو گیا۔ بلتت قلعے کو انگریز نے خزانے کی تلاش میں تہس نہس کر دیا لیکن انہیں گن پاؤڈر کے چند تھیلوں کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ انگریزوں نے میر صفدر علی کے بھائی کو ہنزہ کا نیا میر مقرر کر دیا۔ اس کے بعد اہلِ ہنزہ کی قسمت کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ منسلک ہو گئی لیکن مرکز سے دوری کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنی من مانی کرتے رہے۔ برصغیر آزاد ہوا تو ہنزہ کی قید بھی ختم ہوئی۔” بھٹو دور میں ریاستی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہنزہ میں بھی یہ نظام ختم ہو گیا۔ہنزہ میں آج بھی میر تو ہے مگر صرف اعزازی عہدے کے ساتھ۔
کریم آباد کے چاروں طرف اونچی چوٹیاں ہیں جن کے نظارے دنیا میں مشہور ہیں۔ ہنزہ کے اردگرد موجود چوٹیوں میں راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک، لیڈی فنگر پیک مشہور ہیں۔ کریم آباد کا بازار ہنزہ کی ثقافتی اشیاء سے بھرا پڑا ہوتا ہے۔ چونکہ ہنزہ میں پاکستانی سیاحوں کی نسبت غیر ملکی سیاح زیادہ آتے ہیں اس لیے یہ بازار قدرے مہنگا محسوس ہوتا ہے۔ کریم آباد میں موجود میر کا پرانا گھر بلتت قلعہ کریم آباد کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے تقریباً 700 سال پرانا یہ قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
کریم آباد کے قریب ہی ایک اور پرانا قصبہ التت ہے جو وادی ہنزہ کا سب سے پرانا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس میں موجود
ا لتت قلعہ نو سو سال قدیم ہے۔ ہنزہ کے گردو نواح میں سیاحتی مقامات میں سب سے مشہور ڈوئیکر یا ایگل نیسٹ ہے جہاں پیدل یا جیپ کے ذریعے جاسکتے ہیں۔ یہ جگہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت برف پوش چوٹیوں پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں سے التر پیک و التر میدان کا خوبصورت ٹریک بھی شروع ہوتا ہے۔ جیپ پر دریا کے دوسرے کنارے پر واقع وادی نگر بھی جایا جاسکتا ہے جہاں پر گلیشئیرز کا نظارہ دیدہ زیب ہوتا ہے۔ راکاپوشی کے دامن میں واقع خوبصورت گاؤں مناپن پورا دن گزارنے کے لئے بہترین جگہ ہے۔۔۔۔۔۔ نومل اور نلتر کی خوبصورت وادیوں میں پہنچ کر سیاح اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔
قدرتی آفت کے نتیجے میں دریائے ہنزہ پر بن جانے والی جھیل عطا آباد اب ایک تفریحی مقام کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ اونچے کالے پہاڑوں کے درمیان جھیل کے نیلگوں پانیوں میں کشتی رانی ایک یادگار سفر بن جاتا ہے۔ صرف ایک دن مزید صرف کر کے جھیل کے پار اتر کر گلمت گاؤں، بورت جھیل، پسو گاؤں، پاکستان کے آخری قصبے سوست بھی بآسانی جایا جاسکتا ہے۔
چین کی سرحد کے ساتھ واقع دنیا کے سب سے اونچے درّے خنجراب کا سفر اس پورے سفر میں بہت یادگار اور حسین تھا۔ خنجراب میں سڑک کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا گیٹ ہے، بس وہیں سے چین شروع ہوجاتا ہے۔ میں نے بھی دیگر سیاحوں کی طرح اس گیٹ سے تھوڑا آگے جاکر چین کی سرزمین پر چہل قدمی کی۔
دریائے ہنزہ پاکستان کے شمالی علاقوں ہنزہ اور نگر کا اہم دریا ہے۔ بہت زیادہ مٹی اور چٹانی ذروں کی آمیزش کی وجہ سے یہ بہت گدلا ہے۔ مختلف گلیشیر اور خنجراب اور کلک نالے اس کی بنیاد ہیں۔ پھر اسی میں نلتر نالہ اور دریائے گلگت ملتے ہیں۔ بالآخر یہ دریائے سندھ میں مل جاتا ہے۔ شاہراہ ریشم اس دریا کے ساتھ چلتی ہے۔
ہنزہ سے گلگت واپس آئے، جب ہمارا طیارہ فضا میں بلند ہوا تو طبیعت بوجھل تھی، یوں لگتا تھا کہ جیسے اپنے قریبی رشتے داروں سے جدا ہورہے ہوں۔ اس زمانے میںگلگت بلتستان کے فطری حسن نے مجھے اپنا اسیر بنا لیا تھا اور میں کئی برس تک اُن علاقوں کی سیر وسیاحت کرتا رہا اور اب بھی جب فرصت ملتی ہے تو اُن علاقوں میں جانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

حصہ