شریکِ مطالعہ

36

نعیم الرحمن
معروف افسانہ نگار اور دانش ور ڈاکٹر امجد طفیل اور ریاظ احمد کی زیر ادارت خوب صورت ادبی جریدے ’’استعارہ‘‘ کا چوتھا شمارہ منظرعام پر آگیا ہے۔ انتہائی دل کش سرورق اور الحمد پبلشرز کی روایتی صوری اور معنوی طباعت سے آراستہ ’’استعارہ‘‘ نے پہلی نظر میں ہی قاری کے دل میں گھر کرلیا ہے۔ 288 صفحات کے پرچے کی 400 روپے قیمت بھی مناسب ہے۔ سہ ماہی ’’استعارہ‘‘ کی ابتدائی چار اشاعت میں باقاعدگی متاثر کن ہے، لیکن باقاعدہ اشاعت کے لیے مدیران ِ کرام نے معیار پر سمجھوتا نہیں کیا، بلکہ پرچے کا ہر شمارہ خوب سے خوب تر کی جانب گامزن ہے۔ چار شماروں کے ساتھ ہی استعارہ کی اشاعت کا پہلا سال بھی مکمل ہوگیا۔ اگر الحمد پبلشرز کے ’’استعارہ‘‘ اور بک کارنر جہلم کے ’’تسطیر‘‘ کی طرح اردو کے دوسرے پبلشرز بھی ادبی جرائدکی اشاعت میں معاونت کریں تو یہ ادب کی بڑی خدمت ہوگی۔
اداریے میں تحریر ہے کہ ’’استعارہ بلاشبہ ایک ادبی رسالہ ہے، مگر ہمارا ادب کا تصور یہ ہے کہ ادب ایک ثقافتی اور طاقت ور اظہار ہے۔ ادب شائع کرنے والی زبان کو اہم ترین ثقافتی آلے کا درجہ حاصل ہے۔ زبان نہ صرف لوگوں میں میل جول اور ابلاغ کا فریضہ انجام دیتی ہے بلکہ اس کی مدد سے ثقافتی ورثہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل بھی ہوتا ہے، یعنی حیاتیات میں جو کام کروموسوم اور جین سر انجام دیتے ہیں، بشریات اور ثقافت کے حوالے سے وہ فریضہ زبان ادا کرتی ہے۔ ادب کسی نظریے یا تھیوری کا محتاج نہیں ہوتا، یہ بات بھی درست ہے کہ ادب کے مطالعے اور بہتر تفہیم کے لیے ہمیں دیگر ثقافتی اظہارات جیسے مصوری، موسیقی، رقص اور سنگ تراشی سے بھی واقف ہونا ضروری ہے، اسی طرح کسی عہد میں موجود مختلف علوم کا مطالعہ بھی ضروری ہے کہ ادب اگر اپنے عہد سے جڑا ہے تو وہ اپنے عہد کے دیگر علوم پر بھی اثرانداز ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی قبول کرتا ہے۔‘‘
استعارہ نے ادبی جریدے ’’دنیازاد‘‘ کے اداریے میں پرچے میں شائع ہونے والی تخلیقات کے مختصر تعارف کی عمدہ روایت کو برقرار رکھا ہے جس سے قارئین کو مختصر طور پر شمارے کے مشمولات کا علم ہوجاتا ہے اور انہیں اپنی پسندیدہ تحریروں کے مطالعے کا ذہن بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس شمارے میں ملک کے نامور مصور میاں اعجاز الحسن کا فکر انگیز انٹرویو شائع کیا گیا ہے جو بہت عمدہ ہے۔ اس قسم کی تحریروں سے قارئین کو دیگر فنون سے جوڑے رکھنے میں مدد ملے گی۔ دورِ حاضر کے ایک اہم افسانہ نگار اکرام اللہ کا تازہ ناولٹ ایک اہم موضوع پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ سلمیٰ اعوان، محمود احمد قاضی، شعیب خالق، رشید مصباح، سید سعید نقوی، مریم عرفان اور امجد عرفان کے افسانوں کا ذکر بھی اداریے میں کرایا گیا ہے۔ ’’نیا قلم‘‘ کے سلسلے میں اس بار فارحہ ارشد کے تین افسانے شامل ہیں۔ ان کے ہاں تازہ کاری اور فنی سلیقہ موجود ہے۔ ’’تازہ کار اور پختہ کار‘‘ میں حمیدہ شاہین کی غزلیں اور دوہے شامل ہیں۔ محترم شمیم حنفی نے ایک مراٹھی ادیب کے بارے میں نہایت عمدہ مضمون استعارہ کو عنایت کیا ہے۔ رشید امجد نے یوسف حسن پر عمدہ مضمون قلم بند کیا ہے۔ یوسف حسن کی چار غزلیں بھی شمارے میں شامل کی گئی ہیں۔ محمد حمید شاہد کا تازہ مضمون اُن کے گزشتہ مضمون سے مربوط ہے۔ محمد ظہیر بدر نے ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کے بارے میں دل چسپ مضمون پیش کیا ہے۔ جب کہ خالد فیاض کا ’التوائے مرگ‘ پر مضمون لاطینی ترجمے کا اچھا تعارف ہے۔ اس شمارے سے محترمہ پروین ملک کی پنجابی زبان میں شائع ہونے والی آپ بیتی کا اردو ترجمہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ جواں مرگ شاعر، افسانہ نگار، نقاد اور دانش ور سراج منیر پر ایک گوشہ بھی اس شمارے میں شامل ہے۔
اس مختصر اور جامع تعارف سے بھرپور اداریے کے بعد عباس تابش کی بہت عمدہ حمدیہ نظم، منور جمیل کی نعت ِ رسولؐ مقبول، اور محمد انوار قمر کی سلام بحضور امامِ عالی مقام ؑ شائع کیا گیا ہے۔ منور جمیل کی نعت کے دواشعار

نعت لکھنے کا اگر مجھ کو قرینہ آ جائے
جتنا دُشوار ہو جینا، مجھے جینا آ جائے
ڈوبنے والو! کبھی دل سے پکارو تو انہیں
خود بھنور لے کے کنارے پہ سفینہ آ جائے

اورسلام کاایک بندکیاخوب کہاہے :

خانوادہ تو بڑی چیز ہے پیغمبر کا
شمر کو کچھ بھی تو آیا نہ خیالِ شبیر
بند حیواں پہ بھی کرتے نہیں دانا پانی
ڈھل گیا دیدۂ بے شرم کا سارا پانی
تشنگی یاد جب آئی ہے شہیدوں کی قمر
آگ سینے میں اُٹھی، آنکھ سے برسا پانی

مصور میاں اعجازالحسن سے طویل انٹرویو کے پینل میں ڈاکٹر امجد طفیل، ریاظ احمد اور عقیل اختر شامل ہیں۔ 20 صفحات پر مبنی اس انٹرویو میں 80 سالہ مصور نے مصوری کے ساتھ علم و ادب اورلاہور کی قدیم روایات اور ماحول پر بہت عمدہ بات چیت کی ہے۔ میاں اعجازالحسن کاکہنا ہے کہ ’’ادب کی نسبت پینٹنگ انسان کے زیادہ قریب ہے۔ ادب کوئی بھی لکھے تو وہ ایک خاص طرح کے قاری کے لیے ہے، اس لیے اُسے تخلیق کرنے اور ایک خاص شکل تک آنے میں طویل دورانیہ چاہیے ہوتا ہے۔ جب کہ پینٹر معاشرتی اور سماجی مسائل پر زیادہ جلدی ردعمل دے سکتا ہے، اور پینٹروں میں بھی جلد ردعمل ڈوم اور میراثیوں کی جانب سے آتا ہے۔ اب تو وہ دور رہا اور نہ ہی برداشت رہی، وگرنہ بھانڈ پہلے کسی گھر جاتے تو سب سے پہلے چودھری کا مذاق اڑاتے اور وہ برداشت بھی کرتا۔‘‘ کیا خوب سماجی حقیقت انہوں نے پیش کی ہے۔
’نیا قلم‘ کے تحت نئی افسانہ نگار فارحہ ارشد کے تین افسانے استعارہ چار میں شامل ہیں۔ افسانہ نگارکا تعارف کراتے ہوئے امجد طفیل لکھتے ہیں کہ ’’فارحہ ارشد ایک وسیع المطالعہ تخلیق کار ہیں۔ انہوں نے ادب کے ساتھ دیگر علوم کا بھی مطالعہ کیا ہے، اور اپنے مطالعے کو تخلیقی فن پارے میں سمونے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔ ہم ان کے تین غیرمطبوعہ افسانے’’بی بانہ اور زوئی ڈارلنگ‘‘، ’’ڈھائی گزکمبل‘‘ اور ’’اماہو مونکھے کارکرے ماریندا‘‘ شائع کررہے ہیں۔ ان افسانوں میں ہمارا تعارف ایسی افسانہ نگار سے ہوتا ہے جس کے پاس موضوعاتی تنوع بھی ہے اور اسلوب کی چاشنی بھی۔ شہری زندگی کی عکاسی بھی ہے اور دیہی معاشرے کی منظرکشی بھی۔ وہ اپنی ثقافتی روایات کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھتی ہیں اور نئی زندگی کی چکاچوند بھی اُن کی آنکھوں کوخیرہ نہیں کرتی، اور وہ نئی زندگی کے عیوب سے بھی پردہ اٹھاتی ہیں۔‘‘
’تازہ کار و پختہ کار‘ میں حمیدہ شاہین کا تعارف کراتے ہوئے امجد طفیل کہتے ہیں کہ ’’حمیدہ شاہین ہمارے عہد کی باکمال شاعرہ ہیں۔ اُن کا تخلیقی سفر تیس، پینتیس سال پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کے تین سنگِ میل ان کے تین شعری مجموعوں کی شکل میں قارئین سے داد و تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ حمیدہ شاہین نے اپنے تخلیقی اظہار میں غزل، نظم، گیت اور دوہے جیسی اصناف کو اپنایا، اور بلاشبہ انہوں نے ان تمام اصنافِ شعر میں کامیاب تخلیقی اظہار کیا ہے۔ شاعرہ کے ہاں ہمیں فنی پختگی قدرتِ خیال کے ساتھ ملتی ہے، اُنہوں نے غزل جیسی صنف میں بھی نئے مضامین تراشے اورنئے تجربات کیے ہیں۔‘‘
حصہ غزل میں شمیم حنفی، ابصار عبدالعلی، جان کاشمیری، ایوب ندیم، انیس احمد، ندیم بھابھ، عبیرہ احمد، غلام حسین ساجد، یوسف حسن، یوسف مثالی، خالد علیم، نوید صادق، شاہین زیدی اور عقیل اختر کی غزلیں شامل ہیں۔ ابصار عبدالعلی حال ہی میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ وہ اپنی بے مثال شخصیت اور بچوں اور بڑوں کے ادب کے لیے عمدہ کام کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
نظموں کے حصے میں محمد سلیم الرحمن نے ایڈورڈ موری کے، اور عبیرہ احمد نے مایا انجلو کے بہت عمدہ تراجم کیے ہیں۔ دیگر نظموں میں نذرعابد، حفیظ تبسم، کاشف شاہ، فہیم شناس کاظمی، اظہر حسین اور عقیل اختر کی تخلیقات کو جگہ دی گئی ہے اور تمام نظموں کا انتخاب مدیران کا حسنِ انتخاب ہے۔
حصہ مضامین میں پانچ مستند نقادوں کی تخلیقات شامل کی گئی ہیں۔ پہلا مضمون بھارتی ادیب اور نامور نقاد شمیم حنفی کا ’’ایک مراٹھی ادیب کا ادھورا پورٹریٹ‘‘ ہے، جس میں انہوں نے مراٹھی ادیب چندر کانت پاٹیل کو اردو قارئین سے متعارف کرایا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’چندرکانت پاٹیل سے ملاقات اور تعلق کی روداد بہت پرانی نہ ہونے کے باوجود مجھے پرانی لگتی ہے۔ اپنی ہندی کتاب ’’مراٹھی ادب، ہندی سیاق کے مضمون‘‘ میں پاٹیل نے لکھا ہے ’’میرے اور میرے معاصرین کے لیے آج کا سچ یہی محبت سے خالی وقت ہے۔ زندگی کا زیادہ سے زیادہ مشکل اور ملال آمیز بن جانا، اسی خوف کی دین ہے۔ دہشت، خوف، المناکی، عدم تحفظ، شکست کے ادراک اور انسانی عناصر سے ٹکراؤ کے لیے ہمیں مسلسل مجبور کیا جا رہا ہے۔ شاید دنیا بھر کی سیاست میں بھی یہی ہورہا ہے۔ اس انیتھیسیا سے رہا ہوپانا روز بہ روز ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ اپنے شعور پر، آب و ہوا پر، تہذیب اور ثقافت پر سیاست اپنا شکنجہ کستی جارہی ہے۔‘‘
اردو کے مشہور افسانہ نگار رشید امجد ’’یوسف حسن کی غزل‘‘ لے کر آئے ہیں اور کیا خوب تحریر ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’یوسف حسن چوں کہ ایک نظریاتی شخص ہیں اس لیے اُن کی مابعدالطبیعات صرف حسی نہیں بلکہ عقلی بھی ہے، ان کی جنت خیالی نہیں یہ دنیا ہے، اور دنیا اپنے موجود معاشرے کے حُسن وقبح سے جانی جاتی ہے۔ محمد حمید شاہد کا مضمون ’’تنقید، تھیوری اور سکندر احمد‘‘ ان کے گزشتہ مضمون کی توسیع ہے۔ محمد ظہیر بدر نے ’’صباحت عاصم واسطی توسط سے پہلے اور توسل کے بعد‘‘ میں ان کے فن کا جائزہ لیا ہے، جب کہ ایم فیاض خالد نے اپنے مضمون میں ’’التوائے مرگ ایک اہم ناول کا ترجمہ‘‘ میں حوزے سارا ماگو کے مبشر احمد میر کے کیے ترجمے کا جائزہ لیا ہے جسے اکادمی ادبیات نے شائع کیا ہے۔
پنجابی کی معروف افسانہ نگار پروین ملک ’استعارہ‘ کے موجودہ شمارے سے اپنی پنجابی میں شائع ہونے والی آپ بیتی کا خود ترجمہ کررہی ہیں۔ ’’عام سی زندگی‘‘ نے اپنی پہلی ہی قسط سے رنگ جما دیا ہے، اس کے ذریعے اردو قارئین کو پنجابی ادب سے بھی آشنائی ہوسکے گی۔ لکھتی ہیں کہ ’’8 اگست 1946ء صبح سوا آٹھ بجے موضع شینہ باغ ضلع کیمبل پور میں میرے والدین کے ہاں دختر نیک اختر کا جنم ہوا، جس کا نام پروین اختر تجویز کیا گیا۔ دائی کا کہنا ہے کہ جب میں نے ملک جی کو بیٹی کے جنم کی خبر دی تو وہ وہیں کچی زمین پر سجدے میں گر گئے۔ میری پیدائش پر ہمارے ہاں ہیجڑے ناچے، میراثنوں نے نئی رنگیل ڈھولک پر مبارکبادیاں گائیں۔ آج سے 63 برس قبل بیٹی کی پیدائش پر یوں خوشیاں منانا اچنبھے کی بات لگتی ہے۔ مگر اولاد کے لیے میرے والدین کا پندرہ، سولہ سال کا بے تابانہ انتظار دیکھیں توسب روا لگتا ہے۔‘‘
اس مختصر تحریر میں پروین ملک نے بیٹی کی پیدائش پر عمومی رویّے اور اپنے والدین کے مختلف طرزعمل کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ جواں مرگ ادیب، افسانہ نگار اور دانش ور سراج منیرکا گوشہ بھی استعارہ چار میں شامل ہے جس میں اعجاز حسین بٹالوی کا سراج منیر کے بعد از مرگ شائع ہونے والے مجموعہ مضامین ’’کارِ جہاں بے ثبات‘‘ پر مختصر تجزیاتی مضمون ہے۔ معروف افسانہ نگار، شاعر، دانش ور اور مدیر مکالمہ مبین مرزا نے ’’دینی تہذیب کا دانش ور‘‘ کے عنوان سے عمدہ مضمون لکھا ہے۔ سراج منیرکا افسانہ’’نالۂ نَے‘‘ اور شاعری کا خوب صورت انتخاب میں گوشے کا حصہ ہے۔ غزل کے دواشعار

اگر کبھی کھو بھی جاؤ جاناں، تو راستوں کا نشان رکھنا
گُلاب کوئی کہیں کھِلانا، چراغ ایک درمیان رکھنا
کبھی اچانک اتر پڑو تم ہماری سرسبز سر زمیں پر
تو شہرِ گُل کی تمام رسموں، تمام ریتوں کا دھیان رکھنا

سراج منیر نے نظم آخری سمت کے ابتدائی دو اشعار میں سچ بیان کیا ہے:

وہ دور ہو بچپن کا کہ ہو عہدِ جوانی، سب آنی و فانی
دریائے زمانہ میں یہ بہتا ہُوا پانی، سب آنی و فانی
ہر عشق مکاں خاک کا سیلاب کے آگے، بنیاد سے عاری
فرہاد کا قصہ ہو کہ مجنوں کی کہانی، سب آنی و فانی

غرض استعارہ کاچوتھا شمارہ حسبِ سابق بہترین مضامین،نظم ونثرسے آراستہ ادب کا شاندارگل دستہ نظرآتاہے جس کے لیے مدیرانِ کرام ڈاکٹرامجد طفیل اورریاظ احمد مبارک باد کے مستحق ہیں۔

حصہ