ایک جنگ

20

عظمیٰ ظفر
وہ جنگ کے دنوں کی باتیں بتا رہیں تھیں اور میں غور سے سن رہی تھی۔ کہنے لگیں، ’’ہم کوئی دس بارہ افراد تھے جن میں بزرگ بھی تھے جوان لڑکیاں اور نومولود بھی، خوف و خطر کا دور تھا۔ عصمتوں کی حفاظت کرنا الگ محاذ تھا۔ سروں پر جہازوں کی اڑان تھی، ان آوازوں سے دل دہل جاتا کبھی ہم سب گھر کے ایک کونے میں جمع ہو جاتے کبھی گھر سے باہر ایک میدان میں۔ بلیک آوٹ ہوتا تو ایک دیا سلائی بھی نہیں جلاتے مبادا اس کی چمک سے وطن کو کوئی آنچ آئے۔ گھر کا راشن ایک ایک کرکے ختم ہونے لگا ایک روٹی کے چار ٹکڑے کرکے تھوڑا تھوڑا نگلنے لگے۔ جیبوں میں پیسے تھے مگر کچھ خرید نہیں سکتے، کاروبار زندگی ہی بند تھا بچے بھوک سے تڑپنے لگے تو کہیں سے بھائی صاحب کو تھوڑی سی گندم مل گئی اور باجی کو لگا گویا ایک دولت مل گئی۔ آگ بھی روشن نہیں کرسکتے تھے انہوں نے کیا میری شادی کا نیا لحاف جس کے غلاف کے تار تک جگمگا رہے تھے پھاڑ ڈالا، ہائے میرا لحاف، دل مچل گیا۔ ارمانوں کے آنسو نکل پڑے ابھی تو دلہناپے کی خوشبو بھی نہیں گئی تھی اس سے مگر منہ سی لیا میں نے اپنا۔
اس میں سے تھوڑی تھوڑی سی روئی نکال کر اسے چولہے میں ڈالا اور آگ لگائی ہلکی سی روئی منٹوں میں جل کر بجھ گئی اور دھواں دینے لگی اسی حرارت پر برتن رکھ کر گندم کے دانے بھونتیں اور مٹھی مٹھی سب کو دیے یہی ہمارا پورے دن کا کھانا تھا۔ میں اپنے منہ سے دانے نرم کرکے چھوٹی بیٹی کو کھلاتی، کہیں گولہ پھٹتا تو بارود کی بدبو ہمارے سینوں میں مرچیں بھر دیتی، آنکھوں سے پانی بہہ جاتا مگر ہم شور نہیں کرتے۔ایک گولہ آئل ٹینکر میں گرا، ایسا خوفناک دھماکہ ہوا آسمان کالا ہوگیا۔ دھوئیں سے کئی دن تک آگ بھڑکتی رہی۔ جب فتح نصیب ہوتی تو اللہ اکبر! کے نعروں سے پتا چل جاتا کہ مرد مجاہد کامیاب ہورہے ہیں‘‘۔کہتے کہتے ان کے لہجے میں بھی طاقت آگئی ’’وہ سرحد پر لڑ رہے تھے تو ہم بھی بھوک سے نیند سے اور خوف سے لڑ رہے تھے۔ دعاوں کا حصار کرتے اور فوجی جوانوں کو بھیج دیتے۔ وہ جنگ ہمارے ایمان کی تھی بٹیا!‘‘، وہ گھر جانے کے لیے اٹھ رہی تھیں۔
’’ہاں ماں جی! جنگ تو ابھی بھی ہو رہی‘‘، میں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا ابھی ابھی ایک لڑاکا طیارہ زن سے گزرا تھا۔ ’’جو سرحدوں پر ہیں نا بٹیا! ان سے پوچھنا جنگ کیا ہوتی ہے، یہاں گلیوں بازاروں میں انڈین گانے ہی چل رہے ہیں۔ کوئی جوان کابچہ رضا کار بنے لائن میں نہیں لگا سب میچ کے ٹکٹوں کے لیے لائن میں لگے ہیں، میں پوچھتی ہوں یہ روک نہیں سکتے تھے ان میچوں کو۔ کسی نے بھوک کاٹی ہو تو جانے آزادی کیا ہوتی ہے، کیا مایوں کافنکشن کیا ہے رات سمیرا نے اپنی بیٹی کا توبہ توبہ استغفار۔ کوئی روکنے والا نہیں تھا گانے بھی انہیں کے، لباس بھی انہیں کا۔ رات بھر ہم کروٹ بدلتے رہے سمجھ نہیں آرہا تھا کس کے لیے دعا مانگیں دشمن کے شر سے۔ وہ دیکھ لو نورین بٹیا ٹی وی پر کیا دیکھ رہی ہے، ان ہی کے ڈرامے‘‘۔ انہوں نے ٹی وی لاونج کی طرف اشارا کیا۔اللہ برا وقت نہ لائے میرے وطن پر، میرے شیر جوان بیٹے سلامت رہیں۔ وہ دعائیں دیتی چلی گئیں اور میرے لیے محاذ کھلا چھوڑ گئیں۔ واقعی ایک جنگ تو پہلے مجھے گھر کے اندر کرنی تھی۔

حصہ