The Tale Of Noses ایک قابل فخر کارنامہ

35

گل رعنا صدیقی
نام کتاب : The Tale Of Noses
مرتب : اعظم طارق کوہستانی
مترجمین : عبدالرحمن مومن، عاقب جاوید
ناشر : سرفراز احمد،
ایف ۲۰۶ سلیم ایونیو، بلاک ۱۳۔بی، گلشن اقبال، کراچی
فون نمبر: ۳۴۹۷۶۴۶۸، ۵۸۰۳۳۳۹۔۰۳۳۳
ماہ نامہ ساتھی بچوں کے ادب میں نت نئے تجربے کرنے کے حوالے سے خاصا مقبول ہے۔ منفرد موضوعاتی خاص نمبرز ہوں یا ساتھی رائٹرز ایوارڈز کا انقعاد، ساتھی نے اس شعبے میں ہمیشہ دوسروں کے لیے اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ جدت کے اسی سفر کی نئی کڑی ’’The Tale Of Noses‘‘ ہے جو ماہنامہ ساتھی میں شائع ہونے والی بہترین کہانیوں کے انگریزی ترجموں پر مشتمل کتاب ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ پاکستانی ادب کی تاریخ کا پہلا تجربہ ہے کیوںکہ ہم مکمل طور پر اُردو ادب کی تاریخ جاننے کا دعوی نہیں کر سکتے، البتہ یہ ضرور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ماضی میں اگر اس سلسلے میں کوئی کام کیا بھی گیا ہے تو وہ اتنا مقبول نہیں ہو سکا کہ ہر کسی کو یاد رہ سکے۔ لہٰذا اس حوالے سے بلا شبہ ساتھی لائق تحسین ہے جس نے جرأت مندی سے کام لیتے ہوئے اس خوب صورت کتاب کو شائع کیا اور ہم تک پہنچایا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انگریزی عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ میں استعمال کی جانے والی سب سے اہم زبان ہے۔ خود ہمارے اپنے ملک میں نئی نسل اُردو سے زیادہ انگریزی سمجھتی، بولتی اور پڑھتی ہے۔ ان حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی زبان کی ترویج کے لیے ایک طرف تو بہترین ادب کی تخلیق پر زور دینا چاہیے اور دوسری طرف اُردو ادب کے بہترین فن پاروں کو انگریزی زبان میں منتقل کر کے ان لوگوں تک پہنچانا چاہیے جو اردو سے ناواقف ہیں، اس کتاب کی اشاعت سے ہم یہ اُمید بھی باندھ رہے ہیں کہ اگر ہمارے بچوں میں ایک دفعہ اُردو ادب کی ان کہانیوں کا ذوق پیدا ہوگیا تو مستقبل قریب میں وہ ان کہانیوں کا اُردو ورژن پڑھنے میں بھی دلچسپی لیں گے۔ کتاب کے تعارف میں اعظم طارق کوہستانی نے بھی اسی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
کتاب کا سرورق اور نام دونوں ہی بہت خوب ہیں اور یقینابچوں کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب رہیں گے۔ کتاب میں مختلف قسم کی کہانیوں کا انتخاب کیا گیا یے تاکہ ہر قسم کے قاری کے لیے دلچسپی کا سامان ہو سکے۔ لہٰذا اس کتاب میں بچوں کے مقبول ادیبوں کی جو کہکشاں سجائی گئی ہے ان تحاریر میں اسلامی تاریخ سے لے کے سبق آموز، جاسوسی اور مزاح سے بھرپور موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، ان ادیبوں میں احمد حاطب صدیقی، فریال یاور، رئوف پاریکھ، اختر عباس، حماد ظہیر، اعظم طارق کوہستانی، نذیر انبالوی، جاوید بسام، فوزیہ خلیل، شازیہ فرحین، سیما صدیقی، نائلہ صدیقی، بینا صدیقی اور دیگر بہت سے اچھے ادیب شامل ہیں۔
مجموعی طور پر کتاب کی پیشکش دیدہ زیب ہے، خاص طور پر اسکیچز لاجواب ہیں۔ یوں تو ہر کہانی اپنی جگہ دلچسپ ہے لیکن استاد محترم احمد حاطب صدیقی کی تحریر You are a Girl موضوع کے اعتبار سے بہترین ہے۔ نذیر انبالوی حسب معمول مقصدیت سے بھرپور کہانی لے کر آئے ہیں تو دوسری جانب صدیقی سسٹرز حسب روایت شوخ و شنگ گدگداتی تحاریر کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ حماد ظہیر منفرد موضوعات کو احاطہ تحریر میں لانے کی وجہ سے ہمارے پسندیدہ رائٹر ہیں۔ جاوید بسام، اختر عباس، فوزیہ خلیل اور شازیہ فرحین کی کہانیاں دل چسپ اور سبق آموز ہیں۔ اعظم طارق کوہستانی قتل کی ایک سنسنی خیز داستان کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔ گویا ہر تحریر ہی بار بار پڑھے جانے کے لائق ہے۔ کہانیوں کا ترجمہ بھی اچھا ہے۔
اب بات کی جائے کچھ ایسے پہلوؤں کی جانب جن کی طرف توجہ دینے سے اس سلسلے کی آئندہ آنے والی کتب مزید نکھر سکتی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کتاب کی پروف ریڈنگ کا معیار کتاب کے مجموعی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک اچھی تحریر کا مزہ خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ بینا صدیقی کی کہانی کا نام فہرست میں کچھ اور ہے اور کہانی کے اوپر کچھ اور چھپا ہوا ہے۔ یہ معمولی غلطیاں ہیں جن پر قابو پا کر کتاب کو خوب سے خوب تر بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح عافیہ رحمت کی تحریر میں کچھ اردو اشعار نظر آئے جو انگریزی کہانی میں بے جوڑ لگے۔ یہ درست ہے کہ اردو اشعار کا انگریزی ترجمہ کرنا آسان کام نہیں اور بقول رابرٹ فروسٹ ’’ترجمہ نگاری میں سب سے پہلے گم ہو جانے والی چیز شاعری ہے۔‘‘ ( ویسے کیا ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ ادارہ ساتھی کا اگلا کارنامہ اردو نظموں کو انگریزی کے قالب میں ڈھالنے کا ہو گا۔ کیا خیال ہے ساتھی ٹیم؟ کیا آپ یہ چیلنج قبول کر سکتے ہیں؟) بہرحال ہماری راے میں تو ترجمہ کرتے ہوئے ان اشعار کو حذف کر دینا بہتر ہوتا۔ آخری بات یہ کہ کتاب کی قیمت اس لحاظ سے کچھ ذیادہ معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں ابھی بھی کتاب کی خریداری ترجیحات کی فہرست میں آخری نمبر پر آتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کاغذ اور پرنٹنگ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اتنی معیاری کتاب اس سے کم قیمت پر لانا مشکل ہے لہٰذا ہم یہاں صرف یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ اگلے شماروں میں کتاب کی ضخامت کم کر کے قیمت اتنی کر دی جائے کہ زیادہ سے زیادہ بچے اسے خرید سکیں۔ہمیں امید ہے کہ ایک دفعہ بچوں میں کتابوں سے محبت کا جذبہ پیدا ہو جاے گا تو کتاب کی قیمت اس کی خریداری میں کبھی مانع نہیں ہو گی۔
ایک دفعہ پھر ہم اس کتاب کی تیاری میں شامل ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اردو ادب کی ترویج اور اگلی نسل میں ادب کو زندہ رکھنے کی تحریک میں اس شعبہ کے سب لوگ ساتھی کے ہم قدم بنیں گے ۔ان شاء اللہ
آخر میں ہم فن ترجمہ نگاری کے حوالے سے جوز سارامیگو کا یہ جملہ دہرانا چاہتے ہیں: ’’ ادیب قومی ادب تخلیق کرتے ہیں اور مترجم اسے عالمی ادب بنا دیتے ہیں۔‘‘
اردو زبان…زندہ باد!
فن ترجمہ نگاری، پائندہ باد!

حصہ