گلگت : سحر انگیز سفر

45

شبیر ابن عادل
گلگت جانے کا پروگرام اچانک ہی بن گیا، میں کسی کام سے اسلام آباد گیا ہوا تھا۔ اپنے ایک دوست خوشی محمد طارق کو فون کیا تو وہ بضد ہوگئے کہ گلگت ضرور آئیں ۔ خوشی محمد طارق گلگت میں پاکستان ٹیلی ویژن کے نمائندے ہیں، بہت اچھے اور ملنسار انسان ہیں۔ اُن کی فرمائش اور اپنی آرزو، چنانچہ گلگت جانے کا فیصلہ کرڈالا۔ اسلام آباد میں میرے ایک پرانے اوربے تکلف دوست اسلم نیرنے اپنا فیصلہ سنایا کہ وہ بھی میرے ساتھ گلگت جائیں گے۔ مرتا کیا نہ کرتا، ان کی آرزو کو رد بھی نہیں کرسکتا تھا۔ پھر اُن کے ساتھ وقت بھی اچھا گزرتا ہے۔
ایک خوشگوار سہ پہر ہم مشہ بروم کی بس سے گلگت روانہ ہوئے۔ہمیں 600کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا۔ ویسے تو گلگت کے لئے پی آئی اے کی پرواز بھی جاتی ہیں۔ لیکن بس میں سفر کا مزا ہی اور ہے۔ 72ہزار 496مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے گلگت بلتستان کو دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خطہ قدرتی حسن ٗ وسیلوں اور انسانی صلاحیتوں سے مالامال ہے۔ اسی خطے میں کے ٹو کی عظیم چوٹی اور ہمالیہ کا سلسلہ کوہ واقع ہے۔گلگت، صوبہ گلگت بلتستان کا دارالحکومت ہے۔ دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کا سنگم اس کے قریب ہی ہے۔ یہاں کی زبان شینا ہے لیکن اردو عام سمجھی جاتی ہے۔ چین سے تجارت کا مرکز ہے۔ کے ٹو، نانگا پربت، راکاپوشی اور شمال کی دوسری بلند چوٹیاں سر کرنے والے یہاں آتے ہیں۔یہاں کی خاص چیز یہاں کا موسم ہے جو سال کے بارہ مہینے ٹھنڈا رہتا ہے۔ گلگت شہر کی آبادی صرف ڈھائی لاکھ کے قریب ہے۔ میرے لئے یہ علاقے نئے نہیں ،میں کئی دفعہ وہاں جاچکا ہوں۔
ہماری بس ٹیکسلا ٗ حسن ابدال اور ایبٹ آباد سے گزرتی ہوئی مانسہرہ پہنچی ۔جہاں ہم نے عصر کی نماز ادا کی اور چائے سے لطف اندوز ہوئے۔ وہاں سے سفر شروع ہوا تو رات کی سیاہی تیزی سے چاروں طرف پھیلنے لگی۔ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑوں نے تاریکی کی چادر اوڑھ لی۔ تب ہماری بس بٹل اور چھتر پلین کی حسین وادیوں سے گزررہی تھی۔ اس کے بعد بٹگرام اور پھر بشام آگیا، بشام کے ایک جانب چلیں تو سوات کی جنت نظیر وادی آجاتی ہے۔ بشام میں ہم مزے دار مٹن کڑاہی سے لطف اندوز ہوئے اور بازار کی سیر کی۔ جہاں دکانوں میں چین کا کپڑا اور دیگر سامان بھرا پڑا ہے۔ ہم بشام سے داسو ٗ چلاس اور جگلوٹ سے گزر کر صبح سات بجے گلگت پہنچے ۔ رات کو بس ہی میں سوگئے تھے۔
گلگت پہنچ کر اپنے پی ٹی وی کے نمائندے خوشی محمد طارق کو فون کیا۔ تھوڑی دیر بعدہمیں لینے پہنچ گئے۔ ان سے مل کر دل خوش ہوگیا۔انہوں نے ہمارے قیام کے پہلے سے انتظامات کئے تھے،وہ ہمیں گلگت کے PWD ریسٹ ہائو س لے گئے۔ بس اڈا گلگت شہر کے باہر واقع ہے ٗ ایک طویل سڑک گلگت کی مرکزی شاہراہ ہے۔ جہاں سے گزرتے ہوئے ہم گلگت کے دوسرے سرے پر واقع ریسٹ ہائوس پہنچے ۔ ریسٹ ہائوس بہت خوبصورت تھا اور کمرہ بھی صاف ستھرا۔ جہاں ناشتے اور گرما گرم چائے نے ہماری ساری تھکن دور کردی۔ ناشتے سے فارغ ہوئے تو طارق صاحب چلے گئے اور ہم نرم وملائم بستر میں گھس کرسوگئے۔
دوپہر بارہ بجے سوکر اٹھے اور نیر کو زبردستی جگایا، اس ریسٹ ہاؤس کی حدود میں برگد کا قدیم درخت دیکھا، جس کا تنا بے حد موٹا تھا اور اسی ایک درخت نے پورے ریسٹ ہاؤس کی حدود کو ڈھانپ لیا تھا۔ میرے اندازے کے مطابق وہ ڈیڑھ دو سو سال پرانا درخت تھا اور وہاں کے لوگوں نے اس بات کی تصدیق بھی کردی۔
گلگت کی مرکزی شاہراہ پر قدیم طرز کا بازار اور روزمرہ ضروریا ت کی دکانیں ہیں۔ مگر اس بازار سے آگے
این ایل آئی مارکیٹ ہے ۔ جو پاک فوج کی ناردرن لائیٹ انفنٹری نے تعمیر کی تھی اور اسے اپنے نام سے موسوم کیا۔ اس میں ڈیڑھ دو سو دکانیں چینی سامان سے بھری پڑی ہیں جن میں کپڑے ٗ کراکری ٗ الیکٹرانک سامان ٗ سوٹ کیس ٗ اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ مختلف اشیاء کی قیمتوں کے بارے میں معلومات کرکے ہم لوگ کرنل حسن مارکیٹ کی طرف گئے ۔
ہم شام تک ریسٹ ہائوس پہنچے تو معلوم ہوا کہ بقائے ماحول کی عالمی انجمن IUCNکی گاڑی آئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی ان کی لینڈ کروزر جیپ دوبارہ آئی۔جس پر ہم دونوں IUCNکے آفس پہنچے جو ریسٹ ہائوس سے کافی دور تھا۔ وہاں آئی یو سی این یا بقائے ماحول کی عالمی انجمن کے سربراہ ڈاکٹر احسان اللہ میر بہت محبت سے ملے۔ انہوں نے شمالی علاقوں میں اپنی انجمن کے پروجیکٹس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔وہاں سے فارغ ہوکر ریسٹ ہائوس آئے۔ خوشی محمد طارق کا انتظار کیا مگر وہ نہیں آئے۔ ہم نو بجے رات حاجی رمضان ریستوران پہنچے، اس کا کھانا مزیدار تھا۔ کھانا شروع ہی کیا تھا کہ طارق صاحب نے اپنے دوستوں کے ہمراہ چھاپہ مارا۔ وہ انتظار نہ کرنے پر تھوڑا سا خفا ہوئے اور پھر ہمیں ریستوران کے فرسٹ فلور پر ایک کمرے میںلے گئے ۔جہاں اُن کے چند شاعر دوست جمع تھے، جن میںگلگت بلتستان نیشنل الائنس کے عنایت اللہ شمالی اور جمشید دکھی شامل تھے۔ انہوں نے پرتکلف سا کھانا منگایا،کھانے کے بعد ان کے دوستوں نے اپنے کلام سے نوازا۔ مجھے اس امر پر حیرت ہوئی کہ وہ بہت اچھے شاعر تھے۔
اگلی صبح ریسٹ ہائوس سے باہر نکل کر واک کرتے رہے ٗ واپس آکر نیر کو اٹھایا اور ناشتہ کیا، جس کے بعد ہی جیو ٹی وی کے نمائندے سعادت آگئے۔ ان کے ہمراہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور آئی یو سی این کے دفاتر گئے اور وہاں ساتھیوں سے ملے۔ شام کو پی ٹی وی کے طارق اور جمشید دکھی کے ہمراہ بازار اور سول ایوی ایشن پارک کی سیرکی ۔ خوشی محمدنے خوبانی کا مزیدار شیک پلایا۔ اور ساتھ ہی یہ حیرت انگیز بات بتائی کہ مقامی لوگ خوبانی کا جوس نکال کر اسے گزک کی شکل میں جما لیتے ہیں۔ جب سردیوں میں برفباری کی وجہ سے راستے بند ہوجاتے ہیں اور راشن بھی ختم ہوجاتا ہے تو وہ جمی ہوئی خوبانی کی گزک کھاتے ہیں اور برف پگھلا کر اس کا پانی پی لیتے ہیں۔ کیونکہ پورے گلگت بلتستان میں خوبانی کے بے شمار درخت ہیں ۔ میںرزق کی فراہمی کے حوالے سے اللہ ربّ العزت کے اس انتظام پر حیران رہ گیا۔
میںنے خوشی محمد طارق کے ہمراہ ریڈیو پاکستان گلگت کا دورہ کیا،اس کے نیوز انچارج لیاقت علی سے ملاقات ہوئی۔نیوز پروڈیوسر ریحان شاہ ٗجن کاتعلق وادی ہنزہ سے تھا ٗ بہت محبت سے ملے اور مجھ سے کہتے رہے کہ وادی ہنزہ ضرور جائیں وہ بہت خوبصورت ہے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان گلگت سے میرا انٹرویو براہِ راست نشرکیا۔ پہلے تو مجھے کچھ گھبراہٹ ہوئی ، مگر جب انٹرویو براڈ کاسٹ ہونا شروع ہوا تومیں بہت اعتماد سے ہر سوال کا تفصیلی جواب دے رہاتھا۔ مجھ سے پاکستان ٹیلی ویژن کی رپورٹنگ کے حوالے سے وہ بہت سے سوال کرتے رہے۔ نصف گھنٹے انٹرویوبراڈکاسٹ ہوتا رہاتھا۔ جب میں اسٹوڈیو سے باہر آئے تو وہاں کا سارا عملہ بہت محبت سے ملا۔
ایک دن ہم لوگ دریائے گلگت کی سیر کو گئے ، جودریائے سندھ کی ایک شاخ ہے۔ دریائے گلگت شیندور جھیل سے شروع ہوتا ہے اور جگلوٹ کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔ اسے دریائے غذر بھی کہتے ہیں۔ اسی دریائے پر پی ٹی ڈی سی موٹیل بھی ہے، اس کا نام چنار اِن ہے، وہاں ایک مرتبہ پھر راجہ ریاض مل گئے جو اُس موٹیل کے جنرل منیجر تھے۔ بہت محبت کرنے والے انسان ہیں۔اس سے پہلے وہ اسکردو میں ملے تھے اور وہاں کے پی ٹی ڈی سی موٹیل کے جنرل منیجر تھے، ہمارے لئے یہی کافی تھا کہ ان کے عہدے میں جنرل کا لفظ شامل تھا۔ گلگت کے قریب ہی دینور واقع ہے، جو اپنے دلفریب فطری نظاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔
گلگت بلتستان کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے گلگت کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے، مگر میرے نزدیک اس کی اہمیت یہ ہے کہ وہاں میرے مخلص اور محبت کرنے والے دوست رہتے ہیں۔ اسی لئے اب تک وہی خوبصورت علاقے میرے خوابوں میں آتے ہیں۔ اگر موقع ملے تو گلگت بلتستان ضرور جانا چاہئے۔

حصہ