خاتونِ کربلا… زینبؓ بنتِ علیؓ

57

افشاں نوید
آج اسلامی معاشروں میں کون سا گھر ہوگا جہاں عائشہ، فاطمہ، خدیجہ، زینب، حفصہ، میمونہ، جویریہ وغیرہ ناموں کی خواتین اور بچیاں نہ پائی جاتی ہوں۔ نومولود کا نام رکھنا ہماری مسلم اقدار و روایات میں ایک حساس کام شمار ہوتا ہے۔ نام رکھتے ہوئے اس کے معنی دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن امہات المومنینؓ و صحابیاتؓ کے نام رکھتے ہوئے لوگ عموماً معنی کی بھی پروا نہیں کرتے کہ آلِ رسولؐ کے گھرانے کے نام ہی برکت و سعادت کے لیے کافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام کی ان عظیم ہستیوں کے نام ہر مسلمان خاندان کی زینت ہوتے ہیں۔
یہاں سوچے جانے کا مقام یہ ہے کہ ان ناموں سے ہماری وابستگی محض عقیدت کی بنا پر ہے، یا ان ناموں کے پیچھے جو عظیم شخصیات ہیں ہمیں اپنے بچوں کو اُن کی عظمت سے بھی متعارف کرانا چاہیے۔ امہات المومنین ہوں یا صحابیاتِ رسولؐ، اولاً تو ان ہستیوں کی بہت کم روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ابتدائی صدیوں میں تمام تر توجہ علومِ قرآن و حدیث کی تدوین پر مرکوز رہی۔ جن عظیم ہستیوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا، قیامت تک ان کی کاوشیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ کا کام کریں گی، ان شاء اللہ۔
اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں جتنا روشن کردار مردوں کا ہے، اتنا ہی ٹھوس کردار اُس دور کی خواتین کا بھی ہے۔ ان مقدس ہستیوں کے درخشندہ تذکرے ایمان کو جِلا دیتے ہیں۔ ان سے کسبِ نور کرکے ہم ظلمتوں کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی شخصیت کا تذکرہ کیا جائے، عہدِ نبویؐ اور خلفائے راشدین کی پوری تاریخ نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔
مکی دور میں اہلِ ایمان نے جو صعوبتیں برداشت کیں وہ تنہا مردوں کی قربانی نہ تھی، اگر خواتین ان مصائب میں اعلیٰ درجے کا کردار اور استقامت پیش نہ کرتیں تو اسلامی تاریخ میں اتنی کامیابیاں ممکن نہ ہوتیں۔ خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ جاں فرسا آزمائشوں کا مقابلہ کرکے توحید کے علَم کو بلند کرنے میں مساوی کردار ادا کیا۔ ہجرتِ حبشہ ہو یا ہجرتِ مدینہ، مکہ کا پُرفتن دور ہو یا مدینہ کی نوآموز اسلامی ریاست کے خلاف سازشیں اور کمر توڑ جدوجہد… خواتین ہر قافلے میں اپنا مجاہدانہ کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ ہجرتیں کیں، گھر بار چھوڑے، جنگوں میں خدمات انجام دیں، یہاں تک کہ زخم بھی کھائے۔ شوہر، بھائی، باپ اور بیٹے بھی میدانِ جہاد کے لیے روانہ کیے، شہادت کی خبریں پائیں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
اِس وقت مسلم اُمہ آزمائش کے جس پُرفتن دور سے گزر رہی ہے اُس میں کیے جانے کا ایک عملی کام یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اور صحابیاتِ رسولؐ کی زندگی کے ہر ہر پہلو سے آنے والی نسلوں کو روشناس کرایا جائے۔ ان تابناک کرداروں کے تذکرے جنہیں ہم بڑی حد تک فراموش کرچکے ہیں، آج بھی ہمارے ملّی وجود کو حیاتِ نو بخشنے کے لیے کافی ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ہم نے اپنے تابناک ماضی اور اس سے جڑی عظیم ہستیوں کی سیرتوں کو فراموش کردیا۔ جب نشانِ منزل دھندلائے تو ہم نے اندھادھند اغیار کی تقلید شروع کردی۔ آج ہمارا زوال اسی غفلت کا شاخسانہ ہے۔ تہذیبوں کی اس جنگ میں ہماری فتح اپنی تہذیب اور اس کی اعلیٰ اقدار سے وابستہ ہونے میں ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ قرآن نے جنہیں ’’مومنات، صالحات، قانتات‘‘ کہہ کر پکارا ہے ہم محض اُن کی عقیدت میں نام رکھنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے گھروں میں امہات المومنین، بناتِ مطہرات اور دیگر عالی مرتبہ صحابیات کے تذکرے کریں، ان کرداروں کو پھر سے زندہ کریں، اپنے خانگی اور معاشرتی ماحول کو ان کے پُرنور تذکروں سے معطر و منور کریں۔ ان عظیم ہستیوں سے ہمیں جو نسبت ہے محض ان کے نام اختیار کرلینے سے اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
یہ سوانح نہ صرف ہمارے ایمان کی بالیدگی کا ذریعہ ہیں بلکہ ان حالات و واقعات میں ہمارے لیے درسِ عبرت بھی ہیں کہ قرونِ اولیٰ کی خواتین اسلام کی تمام حدود کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے کتنے عظیم کارنامے سرانجام دے گئیں۔ آج عقل حیران ہوتی ہے کہ وہ کیسی تعلیم و تربیت اور مشن سے کیسا عشق تھا جس نے چودہ صدیوں قبل عظمت کے ان استعاروں سے تاریخ کو روشناس کرایا۔
عزیمت کی اس کہکشاں سے حضرت زینب بنتِ علیؓ کے تذکرے سے درسِ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
حضرت زینب بنتِ علیؓ کی عمر رسولِ پاکؐ کے انتقال کے وقت چھ برس تھی۔ آپؓ کی خوش بختی تھی کہ نبی پاکؐ نے اپنے دہنِ مبارک میں کھجور چبائی اور لعابِ مبارک بچی کے منہ میں ڈالا۔ نومولود بچی کو دیر تک گود میں لیے رکھا اور اس کا نام ’’زینب‘‘ تجویز فرمایا۔ اور فرمایا ’’یہ ہم شبیہ خدیجہؓ ہے‘‘۔ آپ 5ھ میں پیدا ہوئیں۔
پرورش: یہ پھول جس گلشن میں کھلا تھا اُس پر انسانیت آج بھی نازاں ہے۔ اس روئے زمین کا بہترین اور قابلِ فخر گھرانہ تھا۔ جس بچی کے نانا سیدالانبیاء رحمتِ دوعالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، نانی حضرت خدیجہؓ ہوں، باپ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہوں، اور ماں فاطمۃ الزہرہ بتول ہوں، اس بچی کی پرورش میں کیا کسر رہ سکتی ہے۔ مزید اعزاز یہ کہ اس کے بھائی حضرت امام حسنؓ و حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردار کا لقب پاچکے ہوں، اس کے نصیب پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ آپ کی پرورش اور تربیت براہِ راست نبی کریمؐ، حیدر کرار اور سیدہ النساء کے زیر سایہ ہوئی۔
روایات میں ہے کہ آپؐ بچوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ حضرت زینبؓ بھی آپؐ کی لاڈلی تھیں، کئی مرتبہ وہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح نانا کے کاندھوں پر سوار دیکھی گئیں۔ جب آپؐ حجۃ الوداع کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اس سفر میں حضرت زینبؓ بھی آپؐ کے ساتھ تھیں۔ اس وقت ان کی عمر پانچ برس تھی اور یہ ان کا پہلا سفر تھا۔ اس نوعمری میں اللہ نے ان کو اس عظیم مکتب سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع عطا فرمایا۔
روایات میں ہے کہ عہدِ طفلی میں ایک مرتبہ قرآن کریم کی تلاوت کررہی تھیں کہ سر سے اوڑھنی ڈھلک گئی، سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ نے دیکھا تو بیٹی کے سر کو اوڑھنی سے ڈھکتے ہوئے فرمایا کہ ’’بیٹی اللہ کا کلام ننگے سر نہیں پڑھتے‘‘۔
(جاری ہے)

حصہ