برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

51

( قسط 178)

سیاسی اختلاف کے باوجود بھٹو کی تعریف!

(چھٹا حصہ)
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور اُن کے سیاسی اقدامات کے حوالے سے نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود اُن کے سیاسی فیصلوں اور مستحکم پاکستان کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا اعتراف نہ کرنا صریحاً زیادتی ہوگی۔ وہ اقتدار سنبھالنے کے چند برسوں کے اندر اندر ایک متفقہ آئین دینے میں کامیاب ہوئے۔
جن حالات میں ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک یعنی امریکا کے خلاف تمام مسلمان ممالک کے سربراہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، جس میں تمام مسلم سربراہانِ مملکت نے شرکت کی، یہ ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔ یہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم (تنظیم برائے اسلامی تعاون) او۔ آئی۔ سی کا دوسرا اجلاس تھا۔ یہ اجلاس ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں اور شہید شاہ فیصل کے مالی تعاون اور سرپرستی سے ممکن ہوا تھا۔
مسلم سربراہانِ مملکت کی اس تنظیم کی پہلی کانفرنس مراکش کے شاہ حسن ثانی کی قیادت میں رباط میں منعقد ہوئی تھی جس کی وجہ یہ بنی کہ ایک شدت پسند یہودی نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا کر جلانے کی مذموم حرکت کی تھی، جس کے نتیجے میں عالمِ اسلام میں غیظ و غضب بھڑک اٹھا، اور اس پر لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے مسلم ممالک نے اپنی علیحدہ تنظیم کی بنیاد رکھی۔ پہلے اجلاس میں امتِ مسلمہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر دیکھ کر مسلم امہ کے حوصلے بھی بلند ہوئے، اور یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مسلمان بیدار و متحد ہوں گے اور عالمِ اسلام مغربی سامراج اور اُس کی باقیات سے آزاد ہوجائے گا۔
دوسری اسلامی سربرا ہ کانفرنس اسی کا تسلسل تھی۔ مغرب اور استعماری سازشی ذہن ایک اسلامی بلاک بنتا اور متحد ہوتا دیکھ رہا تھا۔ اسی کے ساتھ امریکا کی جانب سے مسلمان ممالک کو باہم دست و گریباں کرنے کی سازشیں بھی زور پکڑنے لگیں۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان خوشگوار تعلقات جو ایوب خان کے دورِ صدارت میں شروع ہوئے، بھٹو نے انہیں آگے بڑھانے کی کوشش کی اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اسٹیل مل لگانے میں مالی و ٹیکنالوجی تعاون فراہم کرے۔ لیکن امریکہ نے اسٹیل مل کے منصوبے کو رد کردیا۔ اسی کے ساتھ بھٹو نے روس کے ساتھ معاہدہ کرکے اسٹیل مل پر کام شروع کروا دیا۔ اس کی پیشکش سابق صدر ایوب خان کے دور میں سوویت یونین نے خود کی تھی۔ امریکہ کی سردمہری کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے جو پہلے ہی سے سوویت یونین اور چین سے اچھے تعلقات کے حامی تھے، اسٹیل مل کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے اور کراچی میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ کراچی کی اسٹیل مل 11 لاکھ ٹن سالانہ پیداواری استعداد کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ اسٹیل مل کے تکنیکی عملے کو سوویت یونین، مصر اور ایران میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔ پاکستان اسٹیل کا منصوبہ تین مرحلوں پر مشتمل تھا۔ پہلے مرحلے میں 1.1 ملین پیداوار کا حصول تھا جس کے لیے پاکستان اسٹیل نے 1985ء میں پیداوار کا آغاز کیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں پیداواری استعداد 1.5 ملین تک کرنی تھی۔ تیسرے مرحلے میں سالانہ 3 ملین پیداوار کا ہدف پورا کرنا تھا۔
امریکا کو دوسرا دکھ یہ پہنچا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کی قراردادوں میں فلسطین، مسجد اقصیٰ اور اسلامی ممالک کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی شعوری کوشش کی گئی۔ مسلم امہ کے اتحاد کے لیے کانفرنس میں بہت اہم فیصلے ہوئے۔ امریکا یہ سمجھتا تھا کہ بھٹو مغربی طاقتوں کے لیے ایک خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد ہی بھٹو نے امریکا کے خلاف کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کیا اور پھر سوویت یونین کے ساتھ تجارتی و دفاعی سمجھوتے شروع کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی پہلی اسٹیل مل کا قیام عمل میں لایا گیا۔
بھٹو کا دوسرا کارنامہ پاکستان کے لیے ایٹمی صلاحیت کے حصول کے لیے پہلا عملی قدم اٹھانا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس بات کو محسوس کیا کہ ہندوستان پاکستان کے خلاف اپنی مذموم کارروائیوں سے باز آنے والا نہیں ہے لہٰذا پاکستان کا ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایک لازمی امر ہے، لہٰذا بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔
بھٹو نے ممتاز سائنس دان عبدالقدیر خان کو جو برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں یورینیم کو افزودہ کرنے کی تعلیم حاصل کرچکے تھے اور عملی کام کررہے تھے، خفیہ طور پر ایٹمی پروگرام شروع کرنے اور پاکستان کے لیے کام کرنے کی دعوت دی۔ 31 مئی 1976ء سے ذوالفقار علی بھٹو نے ’’انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز‘‘ میں ایٹمی پروگرام کا آغاز کردیا۔ یہ منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ اس منصوبے کے لیے بے انتہا سرمایہ درکار تھا، لیکن اسلامی ممالک کے تعاو ن سے مالی دشواریاں بھی دور ہوتی چلی گئیں۔ سب سے بڑا اور جان لیوا کام ٹیکنالوجی کو پاکستان منتقل کرنا تھا، یہ مسئلہ بھی کسی نہ کسی طرح حل ہوگیا۔
ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں عبدالقدیرخان پر مقدمہ دائر کیا، لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے عبدالقدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں۔ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالتِ عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیا۔
عبدالقدیرخان نے دن رات لگاکر آٹھ سال کی انتہائی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کرکے تمام عالمی قوتوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
بالآخر مئی 1998ء میں ہندوستانی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں بلوچستان میں چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے گئے اور یوں پاکستان دنیا میں ایٹمی طاقت کا حامل پہلا اسلامی ملک بن گیا۔
1977ء کے عام انتخابات میں پاکستان قومی اتحاد نے دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بھٹو نے اس عوامی احتجاج کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی، اور یوں عوامی ردعمل میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
ملک میں سیاسی تعطل پیدا ہوچکا تھا۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، جب بھٹو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ازسرنو انتخابات کے لیے رضامند ہوچکے تھے، عین اسی وقت 4 جولائی 1977ء کی شام مارشل لا کا نفاذ کردیا گیا۔
اس طرح جنرل محمد ضیا الحق نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ مذاکرات کے نتیجے میں جو کامیابی حاصل ہونی تھی، عسکری فیصلے نے اس مرتبہ بھی اس کو سبوتاژ کردیا۔ تاہم اس مرتبہ آئین کو معطل نہیں کیا، اور یہ اعلان کیا گیا کہ ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروا کر حکومت منتخب نمائندوں کے حوالے کردی جائے گی۔
مارشل لا کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پر ایک سیاسی رہنما کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائی کورٹ نے ان کو سزائے موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کردی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
انتخابات کی تاریخ آگے بڑھتی رہی۔ ضیا الحق نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنے اقتدار کی مدت میں ازخود توسیع کرلی، اور اپنے طیارے کی تباہی تک گیارہ سال اقتدار پر فائز رہے۔ اسی دوران سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں ایک بہت طویل جنگ لڑی گئی، اگرچہ اس جنگ کا میدان افغانستان تھا مگر یہ پاکستان کی پہلی دفاعی لائن کا دفاع بھی تھا۔
(جاری ہے)

حصہ