ٹیوشن سینٹر

39

آسیہ پری وش
علی ہاتھ میں پکڑی فائل کو چارپائی پہ پٹختے ہوئے خود بھی تھکا تھکا سا چارپائی پہ گرگیا۔ کیا ہوا علی؟ آج بھی نوکری کا کہیں سے آسرا نہیں ملا؟ علی کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے اس کی ماں نے اس کے مایوس چہرے سے روز کا اندازہ لگایا۔ نہیں امی۔ مجھے لگتا ہے کہ نوکری میری قسمت میں ہی نہیں ہے۔ مجھے تو اپنی ساری پڑھائی ضائع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔نہیں بیٹا۔ ایسے نہیں کہتے۔ اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہوتے۔ امی کے ٹوکنے پہ وہ خاموش ہوگیا۔علی آج پڑوس سے صابرہ اور جمیلہ آئی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ تم ان کے بچوں کو تھوڑا سا ٹائم پڑھا دیا کرو۔ پڑوس کے بچے؟ یہ مجھے کیا ٹیوشن فیس دیں گے۔ پہلے سے شکستہ دل علی کا ماں کی بات پہ منہ بن گیا۔
علی! یہ آج کل تمہیں کیا ہوتا جارہا ہے۔ مت بھولو کہ تم بھی کبھی انہیں بچوں کی طرح پڑھائی میں مدد کے لیے ادھر ادھر پھرتے تھے۔ ماں کے سچائی بیان کرنے پر علی کو بے اختیار بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب پڑھائی میں مشکل پیش آنے کی وجہ سے غربت کے باعث اس کو کم فیس پر کوئی ٹیوشن پڑھانے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے اللہ کی مدد کے بعد ماں باپ کی دعاؤں اور اپنی انتھک محنت کے بل بوتے پہ ایم فل کیا تھا۔ وہ اپنی سوچ پہ شرمندہ ہوگیا۔
دیکھو بیٹا تم آج کل ویسے بھی فارغ ہو اس لیے اگر تم اپنی تعلیم کا یہاں پہ فائدہ دیتے ہوئے بنا کسی لالچ اور غرض کے ان غریب بچوں کی پڑھنے میں مدد کردو تو کیا پتا اللہ تمہارے اس عمل سے خوش ہوکر تمہارے روزگار کے لیے کوئی در وا کردے۔ ماں کی بات پہ اس کی آنکھوں میں چمک آگئی اور اس نے دل کی رضامندی سے رات کا ڈیڑھ گھنٹہ محلے کے بچوں کو پڑھانے کی حامی بھرلی۔
بچوں کو پڑھانے میں علی کو بہت مزہ آنے لگا۔ ان بچوں کو پڑھاتے اسے ان باتوں کو بھی سیکھنے، سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کا موقع مل رہا تھا جنہیں وہ زمانہ طالبعلمی میں صرف پڑھتا تھا۔ وہ تاحال دن کو نوکری کے لیے بھٹک رہا تھا لیکن رات کو اس سے مفت میں ٹیوشن پڑھنے والے بچوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ دن کو ہونے والی خواری اور تھکن کے بعد رات کے ان ڈیڑھ گھنٹوں کے پرلطف لمحات نے اس کے ذہن میں ایک نیا خیال ڈالا۔
کچھ دنوں سے علی بہت پریشان اور الجھا الجھا سا پھررہا تھا۔ بچوں کو پڑھانے میں بھی اس کی عدم دلچسپی صاف ظاہر ہورہی تھی۔ آج تو اس نے گھر آئے بچوں کو بھی چھٹی دے دی۔ بچوں کے جانے کے بعد وہ سر تھامے بیٹھا تھا کہ ٹیوشن پڑھنے آنے والے بچوں تنویر اور توقیر کے والد شبیر کے سلام کرنے پہ سر اٹھایا۔وعلیکم السلام۔ شبیر چاچا آپ؟ بیٹھیے۔ علی نے چارپائی پہ ان کے لیے جگہ بنائی۔کیا بات ہے بیٹا؟ آج کل کوئی پریشانی ہے؟ارے نہیں چاچا۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ علی نے پھیکی ہنسی سے انہیں ٹالنا چاہا۔
پریشانی بتانے سے اگر ختم نہیں ہوتی تو دل کا بوجھ ضرور کم ہوجاتا ہے سو اگر اعتماد کرو تو مجھے بتادو۔ شبیر چاچا کی بات پہ اس کے دل کو حوصلہ ملا۔دراصل چاچا آپ کو تو پتا ہے کہ اتنے وقت سے ادھر ادھر بھٹکنے کے باوجود مجھے کہیں نوکری نہیں مل رہی تو میں نے سوچا کہ کیوں نا کوئی کوچنگ سینٹر کھول لوں۔ سو ادھر ادھر معلومات کرائی۔ اب کوچنگ سینٹر کے لیے ایک جگہ پسند تو آئی ہے۔ وہاں پہ اس کے کامیابی کے چانس بھی زیادہ ہیں لیکن ایڈوانس، کرائے اور اوپر کے کچھ سامان کے لیے تقریبا ایک لاکھ چاہئیں۔ گھر کے حالات تو آپ کے سامنے ہیں۔ دوست احباب ایک لاکھ کا قرضہ دینے کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ سود پہ قرضہ تو قرضے سے آدھا تو سود ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں؟
علی کی پریشانی سننے کے بعد شبیر تھوڑی دیر سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد ابھی آیا کہہ کر چلے گئے جبکہ علی چارپائی پہ لیٹ کر آسمان کے تاروں میں اپنے نصیب کا تارہ ڈھونڈنے لگا۔یہ لو بیٹا 5منٹ کے بعد وہ دوبارہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئے۔ پورا ایک لاکھ ہے۔ بیٹی کی شادی کے زیور بنوانے کے لیے کمیٹی ڈالی تھی اس کے کل پیسے ملے تھے۔ اب بیٹی کی شادی میں تو ایک سال پڑا ہے اس لیے ان پیسوں سے پہلے تم اپنی ضرورت پوری کرلو۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔لیکن چاچا۔۔۔۔ علی شبیر چاچا سے پیسے لینے میں کچھ ہچکچایا۔
کیوں بیٹا جب تم بنا کسی لالچ اور غرض کے ہمارے بچوں کی پڑھنے میں اتنی مدد کررہے ہو تو کیا ہم تم کو اس مشکل میں اکیلا چھوڑ سکتے ہیں؟چاچا میں یہ قرض آپ کو جلد سود سمیت واپس کردوں گا۔ شبیر چاچا کے بےغرض خلوص پر علی کی آنکھوں میں پانی آگیا۔نہ بابا۔ سود جیسی حرام چیز کو میں نہیں ہاتھ لگاؤں گا۔
پھر اللہ کا نام لے کر علی نے اپنے جیسے ہی چند دوستوں کو ساتھ ملا کر کوچنگ سینٹر کھولا جس کی روز بروز ترقی میں اللہ کی مدد کے بعد ماں باپ اور پرخلوص اپنوں کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان سب دوستوں کی انتھک محنت اور علی کو ٹیوشن سے حاصل ہونے والی معلومات کا بھی بڑا حصہ تھا۔ سینٹر سے ہونے والی آمدنی کی بدولت علی نے ڈیڑھ سال میں ہی نہ صرف اپنے محسن شبیر چاچا سے لیا ایک لاکھ نہایت احسان مندی سے انہیں واپس کردیا بلکہ اپنے علاقے کے سامنے کسی خدا ترس انسان کے زمین خرید کے دینے پر وہاں پر چھوٹا سا ٹیوشن سینٹر بھی بنالیا جہاں پہ وہ کم وسائل کی وجہ سے تعلیم اور ٹیوشن سے محروم اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ ساتھ دوسرے غریب بچوں کو بھی پوری دلجمعی کے ساتھ مفت میں ٹیوشن پڑھانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔

حصہ