نور

36

سیدہ عنبرین عالم
’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے، اور چراغ ایک قندیل میں ہے، اور قندیل بھی گویا موتی سا چمکتا ہوا تارا ہے، اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے، زیتون! نہ مشرق کی طرف ہے، نہ مغرب کی طرف۔ اس کا تیل خواہ آگ سے بھی نہ چھوئے، گویا جلنے کو تیار ہے۔ اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے، اور اللہ لوگوں (کو سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ (سورہ نور، آیت 35)
ارم اور فرحانہ فرسٹ ائر کی طالبات تھیں اور پہلی بار ترجمے سے قرآن پڑھنا شروع کیا تھا۔ ابھی تفاسیر وغیرہ تو نہیں پڑھی تھیں، ہر آیت پر خود ہی غور و فکر کرکے مطلب سمجھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ آج انہوں نے سورہ نور آیت 35 کا انتخاب کیا تھا۔
ارم: اس آیت میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو زیادہ سے زیادہ روشنی ممکن تھی، اللہ کا نور اس روشن ترین روشنی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ایک مثال ہے، درحقیقت اللہ کی روشنی چاند، سورج سے بھی زیادہ ہے اور اللہ کے نور کی مثال دنیا کی روشنیوں سے بیان کرنا ممکن نہیں۔
فرحانہ: ہاں اگر قرآن آج نازل ہوتا تو شاید اللہ کہتا کہ ایک دس ہزار واٹ کا بلب ہے، جسے بلا تعطل بجلی مہیا کی جارہی ہے، بجلی بھی ایسی کہ دس ہزار کے بجائے 20 ہزار واٹ جتنی تیز۔ یہ بلب ایک سرچ لائٹ میں لگا ہوا ہے، سرچ لائٹ میں اس بلب کے آگے جو شیشہ لگا ہوا ہے وہ اتنا باریک اور نفیس ہے کہ روشنی کو 70 گنا بڑا محسوس کرا رہا ہے۔ اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے…
ارم: لیکن اس مثال سے بھی اللہ کی نور کی وضاحت نہیں ہوتی۔ وہ نور کہیں زیادہ ہے اور قیامت تک کے لیے کوئی بھی مثال اللہ کے نور کی وضاحت نہیں کرسکتی۔
فرحانہ: بالکل ٹھیک! اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، کائنات کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جو بھی چیز ذرا سی بھی روشن ہے، اُس نے یہ نور اللہ سے مستعار لیا ہے۔ کائنات کا واحد نور اللہ ہے جس سے ہر چیز روشن ہوتی ہے، جیسے کائنات کی واحد جان دار شخصیت اللہ ہے، باقی ہر جان دار شے میں روح اللہ نے پھونکی ہے، یعنی ہر جان دار شے نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے روح مستعار لی ہے اور اسے واپس کردینی ہے۔
ارم: مجھے یاد ہے جب میں چھوٹی تھی تو امی سے پوچھتی کہ اللہ کون ہے؟ تو امی مجھے جواب دیتی تھیں کہ جو تعریف قرآن میں لکھی ہوئی ہے اس کے حساب سے تو اللہ ایک نور ہے۔ وہ غالباً اسی آیت کے حوالے سے بات کرتی تھیں۔
فرحانہ: اس آیت کو پڑھ کر ہمیں اللہ کے وجود اور ذات کے بارے میں سوالات نہیں کھڑے کرنے چاہئیں بلکہ اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ کائنات کی تمام رعنائیاں، تمام طاقتیں، تمام ہلچل، سب کچھ اللہ رب العزت کے رحم و کرم پر ہے، اسی کی ذات ان تمام چیزوں کا منبع ہے، اور کائنات کی کوئی چیز یا حرکت ذاتی حیثیت میں کچھ نہیں کرسکتی۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ بیٹری ہے جس نے تمام کائنات کی ہر شے کو چارج کررکھا ہے۔
ارم: یعنی اللہ تعالیٰ کی حیثیت صرف خالق اور مالک کی نہیں ہے، وہ زندگی بن کر ہم سب کے ذاتی وجود میں دوڑ رہا ہے، اسی لیے وہ ہمارے دل کی ہر بات جانتا ہے، اور یہ بات عملی طور پر بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، کیونکہ ہم تو بعض دفعہ اپنی سوچ سے بھی واقف نہیں ہوتے، کوئی بات کہہ جاتے ہیں پھر سوچتے ہیں کیوں کہہ دی! کوئی کام کر جاتے ہیں پھر سوچتے ہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یعنی ہم اپنی سوچ اور حرکات پر کنٹرول نہیں رکھتے، یا یوں کہیے کہ کچھ وقت کے لیے کنٹرول کھو دیتے ہیں۔ مگر اللہ ہماری شہہ رگ سے قریب ہے اور ہر عمل اور قول کو نوٹ کررہا ہے۔
فرحانہ: لیکن یہ بات غور کرنے کے لائق ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اللہ زمین اور آسمان کی روح ہے، اللہ نے نور کا لفظ استعمال کیا، کیوں؟
ارم: نور ہر دور میں پہچانا گیا اور مانا گیا، حتیٰ کہ ابتدائی دور کے انسان بھی آگ جلا کر روشنی پیدا کرلیتے تھے، جب کہ ہزاروں برس بعد جب مکہ کے لوگوں نے روح کے بارے میں سوال پوچھا تو انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا گیا کہ تمہاری علمی استطاعت اتنی نہیں ہے کہ تم روح کے بارے میں تفصیل کو ہضم کرسکو۔ یعنی روح ہمیشہ سے ایک پیچیدہ اور پوشیدہ شے رہی ہے، لہٰذا اس کو اللہ کیسے اپنی مثال کے لیے استعمال کرسکتا تھا! آج بھی بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے سامنے، آپریشن کے دوران مریض کی روح پرواز کر جاتی ہے مگر ڈاکٹر اسے پکڑ نہیں سکتا، اور کچھ دیر بعد روح کے اخراج کے باعث مریض کا جسم سڑنے لگتا ہے، یہ ہے روح کا کمال۔
فرحانہ: جیسے ہم نے بجلی کے بلب سے اللہ کے نور کو تشبیہ دی، اللہ بھی چاہتا تو ایسی ہی مثال دیتا، اس نے چراغ کی مثال کیوں دی جس کی روشنی مدہم ہوتی ہے؟
ارم: کیا تم بھول گئیں، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے دوران براق پر سفر کا مکہ کے کافروں سے ذکر کیا۔ براق کا لفظ برق سے ہی بنا تھا۔ یعنی اللہ، اس کے فرشتے اور دیگر آسمانی مخلوقات بجلی اور بجلی کے استعمال سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی واقف تھے، اور ایک پرندے کو بجلی کے زور پر اتنی تیزی سے اڑایا گیا کہ اس نے صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرلیا، مگر یہی ذکر جب مکہ کے کافروں کے سامنے کیا گیا تو وہ مذاق اڑانے لگے۔ وجہ یہ تھی کہ بجلی اُس وقت تک زمین کے انسانوں میں متعارف نہیں ہوئی تھی، تو اس کی مثال کیسے دیتے؟
فرحانہ: لیکن پھر بھی اللہ رب ذوالجلال کو بہ خوبی علم تھا کہ یہ قرآن قیامت تک کے لیے پڑھا جائے گا اور نہایت تیز روشنیاں ایجاد ہوجائیںگی، پھر چراغ کی مثال کیوں دی؟ ایک چراغ چاہے کتنا ہی روشن ہوجائے، 100 واٹ کے بلب سے زیادہ تو روشنی نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سورج کے نور کی مثال بھی دے سکتا تھا، وہ لوگ تو سورج کی روشنی کو جانتے بھی تھے اور اس کی شدت کو بھی مانتے تھے۔
ارم: وہ لوگ اتنے جاہل تھے کہ سورج کی مثال دی جاتی تو وہ سورج کی عبادت شروع کردیتے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں علم رکھتا ہے اور اسی حساب سے مثالیں دیتا ہے۔
فرحانہ (ہنستے ہوئے): ہاں یہ تو تم نے ٹھیک کہا۔ اچھا ایک اور بات پر غور کرو، اللہ تعالیٰ کافروں کو اندھا قرار دیتا ہے۔ ایک صحت مند انسان کو دیکھنے کے لیے کن دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ بتائو ذرا۔
ارم (سوچتے ہوئے): آنکھیں اور روشنی۔
فرحانہ: بالکل، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خود کو نور قرار دیا یعنی وہ روشنی جس میں سیدھا راستہ نظر آتا ہے۔ کافروں کے بارے میں سورہ نور میں میرا رب ارشاد فرماتا ہے کہ وہ رات کے وقت سمندر کی گہرائیوں میں ہیں یعنی بے حد اندھیرا، جو اس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ وہ لوگ اللہ سے بہت دور ہیں اور نور کا ذرّہ بھی ان کی روحانی زندگی میں داخل نہیں ہے، جب کہ جسمانی طور پر ممکن ہے کہ وہ ہزاروں قمقمے لگاکر خوب جشن منا رہے ہوں… مگر اللہ تعالیٰ جو نور ہے، ہدایت ہے، وہ ان سے اوجھل ہے۔
ارم: اور ان کو اندھا اور بہرہ قرار دے کر رہی سہی کسر بھی پوری کردی، یعنی اگر ان کے آس پاس نور ہو بھی تو وہ اپنے اندھے پن کی وجہ سے اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اور یوں ہدایت سے محروم کے محروم رہ جاتے ہیں، اور اس کی ذمے داری خود ان پر ہے۔ وہ روح کی آنکھیں کھولیں، اللہ کو تلاش کریں، اللہ مہربان کو محسوس کریں، اس کے احکامات جانیں اور عمل کریں تو ان کی زندگی بھی نورٌ علیٰ نور ہوجائے۔
فرحانہ: اور جب اللہ کہتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا نور ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت تمام مخلوق کو بلا تفریق اور بلا تعطل جاری ہے، اور جو کوئی محروم ہے وہ اپنی مرضی سے محروم ہے۔
ارم: اللہ تعالیٰ نے ان تمام روشنیوں کے پیکیج کو قندیل قرار دیا اور سورہ نور میں فرما رہے ہیں کہ یہ قندیل ان گھروں میں ہے جنہیں اللہ کے ذکر سے سوداگری اور خرید و فروخت بھی غافل نہیں کرتی۔
فرحانہ: اللہ تعالیٰ نے یہ بالکل صحیح ٹارگٹ کیا۔ بڑھتی ہوئی مادیت پرستی کے باعث آج پاکستان اور دنیا بھر کا اوّلین مسئلہ کرپشن ہے، یعنی یہ جو نور کی مثال دی گئی ہے یہ صرف افسانوی لفاظی نہیں ہے، اس کا عملی پہلو یہ ہے کہ جو اس نور کو اپنے گھر میں، اپنے دل میں رکھتا ہے، اس کا قلب اسی نور میں کھو جاتا ہے اور وہ دن رات اللہ رب العزت کو راضی کرنے میں جُت جاتا ہے۔ اس کیفیت میں اس سے نہ کوئی بے ایمانی ہوسکتی ہے نہ حق تلفی، نہ لالچ پر مشتمل کسی عمل کا ظہور ہوگا۔ اگر تمام انسان یہی قندیل اپنا لیں تو دنیا جنت بن جائے۔
ارم: اچھا تم نے نوٹ کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی فیملی کے ساتھ مصر کی جانب سفر کررہے تھے تو انہیں ایک روشنی نظر آئی جس کے پیچھے وہ آگ سمجھ کر گئے اور وہاں پر رب ذوالجلال سے ملاقات کرتے ہیں یا ہم کلام ہوتے ہیں۔ یہاں پر ہم نوٹ کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنا جلوہ روشنی کی صورت میں ہی دکھایا۔
فرحانہ: اگر یوں دیکھا جائے تو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیدار کی طلب ظاہر کی تو ایک تیز روشنی کی ہی جھلک تھی جو پہاڑ کو خاکستر کر گئی۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جہاں سورہ نور میں اللہ تعالیٰ خود کو زمین و آسمان کا نور قرار دیتا ہے، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جب بھی طبعی طور پر اپنے ظہور کا ارادہ کرتا ہے تو روشنی کو ہی اپنا پیغام بر بناتا ہے۔
ارم: ہاں، اور اللہ تعالیٰ اچھائی کو روشنی اور برائی کو اندھیرے سے تشبیہ دیتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ روشنی کو خود سے منسوب کرتا ہے۔
فرحانہ: پھر آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، یعنی ہر نور اللہ کا نور نہیں ہے۔ اس نور کو وہی پہچان سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا نور ہو… ورنہ ’’دیتے ہیں دھوکا بازی گر کھلا‘‘۔ اللہ کے نام پر کیا کیا شرک اور بدعات جاری ہیں، ان کا حساب بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ اللہ کا نور صرف وہ ہدایات اور عبادات ہیں جن کا حکم اللہ اور اس کے رسولؐ نے دیا، باقی اضافی چیزیں ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ کمزور ہوتے ایمان کو Cover کرنے کے لیے بنائی گئیں، ان کے لیے چاہے جتنے ہی برقی قمقمے سجائیں، یہ نور نہیں ہے۔
ارم: نور ایمان کا مکمل ترین درجہ ہوتا ہے، یہ وہ درجہ ہے جب خدا بندے سے اس کی رضا پوچھتا ہے، جب نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں، اور جب راز راز نہیں رہتے۔ اس درجے پر پہنچنا آسان نہیں ہے، اللہ تعالیٰ بڑی سختی سے آزماتا ہے۔ جتنے بڑے عہدے کی طلب ہو، اتنا بڑا امتحان دینا پڑتا ہے، صبر اور شکر کا دامن تھامے رہنا پڑتا ہے، اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچنا پڑتا ہے۔
فرحانہ: اس نور کو تم روحانی سطح پر کیسے بیان کرو گی؟
ارم: یہ روح کی ایک کیفیت ہے، ہم جیسے جیسے گناہ کرتے جاتے ہیں، روح پر کالے نشانات پڑتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ روح کالی، گندی، بدبودار اور غلیظ ہوجاتی ہے۔ اب ایسی روح کا سوائے اس کے کوئی کام نہیں کہ اسے جسم سے نکال کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔ اور جیسے جیسے ہم نیکی کرتے ہیں، ایک روشن چمکتا ہوا نشان ہماری روح پر پڑ جاتا ہے، یہ روشن نشانات پڑتے پڑتے یہ حالت ہوجاتی ہے کہ روح ہر داغ سے پاک، مجسم نور بن جاتی ہے۔ اسے کہتے ہیں دل کا نور ہونا۔ اور چونکہ اللہ بھی نور ہے تو نور اپنے اصل سے مل کر مکمل ہوجاتا ہے اور اللہ کا نائب کہلاتا ہے۔ ان لوگوں سے اللہ اپنے راز بھی کہتا ہے اور ان سے اپنے کام بھی لیتا ہے۔
فرحانہ: مگر شرط ایک ہی ہے، کاروبار اور لین دین میں اللہ کو یاد رکھنا اور اس کے احکام کے مطابق تمام معاملات طے کرنا، تبھی نور حاصل ہوگا۔

حصہ