محنت سے ہی کامیابی ملتی ہے

31

طیبہ شیریں
’’دیکھو بیٹا! محنت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں اگر تم محنت کرو گے تو دنیا کی ہر چیز تمہارے لیے ہوگی‘‘، احمد کی امی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’محنت سے جی چرانے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے دل کو سکون ملتا ہے۔ تم جو چیز محنت سے حاصل کرو گے اس کی قدر کا اندازہ بھی تمہیں ہوگا‘‘ انہوں نے اب احمد کے سر پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ مگر احمد وہیں کا وہیں بیٹھا گیم کھیلتا رہا۔ اس پر امی کی باتوں کا گویا کوئی اثر ہی نہیں پڑا تھا۔
احمد اپنے ماں باپ کا اکلوتا چشم چراغ تھا۔ سب کی آنکھوں کا تارا سبھی گھر والے اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ جو بھی بات کہتا تو اس کے گھر والے اسے لازمی پورا کرتے تھے۔ وہ اسے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ یوں تو احمد بہت ہی پیارا بچہ تھا مگر کاہلی اس کی عادت کا حصہ بن چکی تھی۔ وہ محنت سے جی چراتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ چیز اسے بغیر محنت کے مل جائے۔
احمد ذہین ہونے کے باوجود پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کی جماعت میں ہمیشہ اول پوزیشن آئے۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کیونکہ وہ محنت کرتا ہی نہیں تھا۔ اپنا ہوم ورک بے دلی سے مکمل کرتا تھا۔ اسکول جانے کا اس کا دل نہیں کرتا۔ کاہلی، آرام طلبی اور جلد بازی کو وہ اپنی زندگی کا حصہ بنا چکا تھا۔ سبھی گھر والے اس کی اس حرکت سے بہت پریشان تھے۔ سب لوگ اسے سمجھا چکے تھے مگر وہ ہر ایک کی بات سن کر بھی بھول جایا کرتا تھا۔ وہ اسے مار بھی نہیں سکتے تھے۔
ایک دن اسکول سے واپسی پر احمد کے کچھ دوستوں نے اس سے کہا کہ آج ہمارے ساتھ کھیلنے چلو۔ مگر احمد کی کاہل طبیعت نے اسے منع کردیا۔ ارشد نے اسے کہا بھی ’’استاد جی نے کہا تھا ہمیں اپنے دماغ کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی فٹنس کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ویڈیو گیمز سے دماغ بوجھل ہوتا ہے ‘‘ مگر احمد نے صاف انکار کردیا اور دوستوں کو خیر باد کہہ کر گھر کو چل دیا۔
امتحانات کو کچھ روز باقی تھے۔ سب بچے خوف محنت کر رہے تھے۔ احمد کا دل پڑھائی سے مکمل طور پر اچاٹ ہوگیا تھا۔ وہ بوجھل دماغ کے ساتھ کتابوں کو تکتا رہتا تھا۔ جب ارشد اس کو اپنے ساتھ پڑھنے کا کہتا تو وہ اکثر بول دیتا کہ مجھے نہیں پڑھنا۔ میں تو ایک دن پہلے ہی سب فٹ سے یاد کر لوں گا اور پھر پیپر دے دوں گا۔ ارشد نے اس سمجھایا بھی کہ ایسے نہیں امتحان دینا ہوتا اس کے لیے کچھ حاصل بھی ہونا چاہیے مگر احمد اسے ان کا جیلس پن سمجھتے ہوئے مزید انکار کردیتا۔
بالآخر ایک دن پیپر والا دن بھی آن پہنچا۔ اگلے روز سے امتحانات شروع ہونے تھے۔ احمد نے بہت کوشش کی مگر اس کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا یاد کرے اور کیا نہیں۔ اس پریشانی میں پوری رات وہ نہ پڑھ سکا اور نہ ہی ٹھیک سے نیند کر سکا۔ اسی طرح احمد نے پیپر تو دے دیے مگر اس معلوم تھا کہ وہ فیل ہوجائے گا۔ اس نے پیپرکی ٹھیک سے تیاری نہیں کی تھی۔جب رزلٹ آیا تو احمد کا نام لسٹ میں سب سے نیچے تھا۔ وہ بری طرح فیل ہوا تھا۔ اس بات پر گھر میں بھی احمد کو خوب ڈانٹ پڑی تھی۔
اس دن سے وہ چپ چپ رہنے لگا تھا۔ ایک دن دادا نے احمد کو اپنے پاس بلایا۔ ’’کیا بات ہے بیٹا آج کل بہت چپ رہنے لگے ہو؟ ‘‘دادا جان نے پوچھا۔ احمد جو اتنے دن سے اپنے دل ہی دل میں اداس تھا رو پڑا۔ ’’کیا کروں دادا جان؟ میں نے بہت پڑھا تھا،پر مجھے نہ تو یاد ہوا اور نہ میں پیپر میں کچھ لکھ پایا‘‘ اس پر دادا جان نے کہا ’’ ایسا نہیں کہ تم نے یاد کیا اور وہ یاد نہیں ہوا، بلکہ تمہارا طریقہ ٹھیک نہیں تھا‘‘۔
’’احمد کیا تم نے کچھوے اور خرگوش کی کہانی سنی ہے ، خرگوش کولگتا تھا کہ وہ کچھوے سے جیت جائے گا، مگر وہ ہار گیا کیونکہ وہ سست او رکاہل تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کچھوا اگرچے کمزور تھا اس کی چال دھیمی تھی مگر وہ محنتی تھا۔ نہ وہ رکا اور نہ آرام کیا بلکہ اپنے ہدف کی جانب بس چلتا رہا اس لیے وہ کامیاب ہوا اور ریس جیت گیا تھا‘‘۔
دادا جان کی بات سن احمد کو اپنے وہ الفاظ یاد آگئے تھے جو اس نے اپنے دوستوں سے کہے تھے۔ میں ایک رات میں ہی سب یاد کر لوں گا اور وہ نہیں کر پایا تھا۔ اب اسے سمجھ آگیا تھا کہ وہ سستی سے انسان ہمیشہ ہارتا ہی ہے۔ اس نے دادا جان سے وعدہ کیا اب وہ کبھی بھی سستی اور کاہلی نہیں دیکھائے گا۔ اگلے ہی روز سے احمد نے پھر سے اپنی کلاس میں پڑھائی کا آغاز کردیا۔ اس بار احمد کلاس کے سب سے بہترین اسٹوڈنٹس میں سے تھا۔ سال کے اختتام پر احمد نے نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کی تھی بلکہ کم چھٹیاں ہونے کی وجہ سے احمد نے اسٹوڈنٹس آف دی ایئر بھی حاصل کیا تھا۔

حصہ