شریک مطالعہ

50

نعیم الرحمن
بھارت کی مشہور صحافی شیلا ریڈی کی قائداعظم محمد علی جناح اور رتی جناح کی شادی کے بارے میں کتاب ’’مسٹر اینڈ مسز جناح‘‘ کے نام سے اوکسفرڈ پریس نے شائع کی ہے، جس کا بہت عمدہ اردو ترجمہ امتیاز پراچہ نے کیا ہے۔ ان کے ترجمے میں تخلیق کا رنگ جھلکتا ہے۔ قائداعظم کی عائلی زندگی کے بارے میں یہ ایک منفرد کتاب ہے جس کے ٹائٹل پر تحریر ہے ’’ہندوستان کی ایک حیران کن شادی‘‘۔ عمدہ کاغذ اور اوکسفرڈ کی معیاری طباعت کے ساتھ 480 صفحات کی اس کتاب کی قیمت 995 روپے ہے۔
’’مسٹر اور مسز جناح‘‘ کے لیے شیلا ریڈی نے رتی جناح اور ان کے قریبی دوستوں کے خطوط کے علاوہ ان کے معاصرین کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا ہے، جس میں انہوں نے ہمدردانہ اور دانش ورانہ انداز میں اس شادی کی تصویرکشی کی ہے، جس نے پورے ہندوستانی معاشرے کو حیران کردیا۔ رتی نے اٹھارہ برس کی عمر میں دگنی عمرکے محمد علی جناح سے شادی کرلی، لیکن جیسے ہی ہنگامہ خیز سیاسی دور کا آغاز ہوا تو قائد نے اپنی پوری توجہ اس جانب مبذول کرلی اور رتی خود کو الگ تھلگ اور تنہا محسوس کرنے لگیں۔ اسی عالم میں رتی جناح صرف 29 سال کی عمر میں اپنی بیٹی دینا اور دل شکستہ شوہر کو چھوڑ کر دارِفانی سے کوچ کرگئیں۔ ان کی وفات کے بعد قائداعظم نے دوبارہ کبھی شادی نہیں کی۔ یہ کتاب گہری اور باریک بینی سے کی گئی تحقیق کے علاوہ دہلی،بمبئی اور کراچی میں مختلف ماہرین اور متعلقہ افراد سے کی گئی گفتگو کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے حسرت زدہ اور تنہا رتی اور غلط فہمی میں مبتلا اور گوشہ نشین محمد علی جناح کو زندہ کرداروں کی شکل میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اُن تمام لوگوں کو ضرور پڑھنی چاہیے جو سیاست، تاریخ اور ایک ناقابلِ فراموش داستانِ محبت میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کتاب سے قائداعظم کی زندگی کے چند نئے گوشے بھی سامنے آتے ہیں اور ان کے، ذاتی زندگی کو قومی جدوجہد پر قربان کرنے کا بھی علم ہوتا ہے۔
قائداعظم کا ارادہ تھا یا نہیں، مگر رتی جناح کا اسلام قبول کرنا ان کے سیاسی سفر میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ خصوصاً 1945ء کی انتخابی مہم کے دوران جب ان کے حریف کھل کر ان کے مسلمان رہنما ہونے پر سوال اٹھاتے رہے۔ 1933ء میں اسلام قبول کرنے والا کے ایل گابا لاہور کاسمو پولیٹن کلب کے ارکان کے ردِعمل کے بارے میں کہتا ہے ’’ایسا لگتا تھا کہ میں نے معاشرتی اور سیاسی خودکشی کرلی ہو۔‘‘
شیلا ریڈی کتاب کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’’کتاب کی تکمیل میں چار سال لگے جس میں کئی دوستوں کا تعاون شامل ہے، جن میں پدماجا نائیڈو کا جذبہ اور لگن اور ان کی دور اندیشی اور تخیل، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے گھرانے کے بے شمار زندگی سے بھرپور خطوط جمع کرکے محفوظ کیے، یہ ایک بھرپور تحقیقی ماخذ ثابت ہوئے جو انہوں نے نہرو میموریل لائبریری کے منتظمین کے سپرد کیے تھے۔ پاکستان میں امینہ سید نے ایک ماہ شاندار مہمان نوازی کی اور تحقیقی قیام کو پُرلطف اور کارآمد بنایا، اور مجھے ہر اُس شخص اور وسیلے تک رسائی دلائی جو جناح جیسے پیچیدہ موضوع کی جستجو میں درکار تھے۔ مجھ پر افراد اور کتابوں کی بھرمار کردی۔ بمبئی میں سائرس گزدر نے انتھک محنت سے پارسی برادری میں ان شخصیات کو ڈھونڈ نکالا جو ہاتھ نہیں آتی تھیں، اور ایسی جگہوں تک رسائی دلائی جہاں کے دروازے میرے لیے بند تھے۔ سائلو متھائی نے رتی کے خاندان کے شجرہ نسب اور پس منظر پر روشنی ڈالی۔ کاما اورینٹل انسٹی ٹیوٹ کے لائبریرین نے بیش بہا مدد سے پارسی مواد تک رسائی دلائی۔‘‘
کڑی تحقیق اور جستجو کے بعد لکھی جانے والی ’’مسٹر اینڈ مسز جناح‘‘ نہ صرف قائداعظم کی عائلی زندگی کے بارے میں اہم ترین ماخذ ہے بلکہ اس کے ذریعے حیاتِ قائد کے چند ایسے گوشے بھی سامنے آئے ہیں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے۔ پہلے باب کے آغاز میں شادی اور اس بارے میں قائداعظم کے کردار اور مستقل مزاجی کی جھلک واضح ہے:
’’دوسال تک دنیاکو قیاس آرائیوں میں مبتلا رکھنے کے بعد، اپریل 1918ء کی ایک گرم شام کو محمد علی جناح نے رتی پٹیٹ سے شادی کرلی جو ایک امیر پارسی بیرونیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ وہ 42 سال کے ٹھنڈے مزاج کے ایک سنجیدہ آدمی تھے، جنہوں نے اب تک اپنی زندگی اپنے محتاط انداز سے بنائے ہوئے منصوبے کے تحت گزاری تھی اور دو دہائیوں کی سخت محنت کے بعد عین اس مقام پر پہنچے تھے جہاں وہ خود کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ملک کے ایک سب سے زیادہ معاوضہ پانے والے وکیل، وائسرائے کی امپیریل لیجسلیٹو کونسل کے منتخب رکن، مسلم سیاست کے سب سے بلند قامت قائد جوکانگریس کے سب سے اہم لیڈر بننے کی جانب گامزن تھے۔ ان کے اب تک کے منصوبوں میں شادی شامل نہیں تھی، وہ بھی ایک ایسی امیر سوسائٹی گرل سے جو اُن سے نصف عمرکی تھیں۔ لیکن ایک مرتبہ رتی سے شادی کا فیصلہ کر لینے کے بعد وہ اپنی مخصوص پُرعزم مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے ارادے کی تکمیل کی جانب چل پڑے۔ وہ تضحیک اور تحقیر آمیز تنقید کا سامنا کرتے، مہارت کے ساتھ اپنے راستے میں بچھائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرتے اور ہر قدم اپنی زیرک منصوبہ بندی سے اٹھاتے رہے۔‘‘
سر ڈنشا نے ہی جناح کو عدالتِ عالیہ میں پہلی پیشی کا موقع بلاواسطہ فراہم کیا جس سے انہیں ابھرنے کا موقع ملا، اور بجائے اس کے کہ وہ موکلوں کے پیچھے بھاگتے، موکل ان کی تلاش میں پھرنے لگے۔ اس صورت حال نے جناح کے طبعی احساسِ برتری میں اضافہ کیا اور سر ڈنشا کے پرانے متمول خاندانی پس منظر کے باوجود وہ مقبولیت میں ان سے آگے نکل گئے۔ اس قسم کی معلومات پہلی بار اس کتاب کے ذریعے وضاحت سے سامنے آئی ہے۔
اسی دوران رتی اور جناح ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ زمانے کے رسم و رواج کے مطابق جناح، سر ڈنشا کے پاس رشتہ لے کر پہنچ گئے اور اپنی دوستی اور سر ڈنشا کا ذہنی سکون ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگا دیا۔ اس پیغام کا امکان بھی سر ڈنشا کے وہم وگمان میں نہ تھا، حالانکہ ان کی خوب صورت بیٹی نے گرمیوں کی ساری تعطیلات جناح کے ساتھ گھڑ سواری کرتے، کتابیں پڑھتے اور سیاست پرگفتگو میں گزاری تھیں ۔ جناح نہ صرف رتی سے چوبیس سال بڑے تھے بلکہ وہ انہیں بچپن سے جانتے بھی تھے اور اپنے دوست کی، زندگی سے بھرپور بیٹی کے لیے کبھی بھی بزرگانہ شفقت کے سوا کسی جذبے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے سرڈنشا کو رام کرنے کے لیے اپنی وہ مہارت آزمائی جو وہ عدالت میں گواہوں پر جرح کے لیے استعمال کرتے تھے۔ سر ڈنشا سے اس سوال سے بات شروع کی: بین المذاہب شادیوں کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟ سر ڈنشا نے اپنا مؤقف دُہرایا کہ اس سے قومی یک جہتی میں قابلِِ ذکر بہتری آسکتی ہے۔ تب جناح نے بڑے سکون کے سا تھ ان سے کہا کہ وہ ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ سر ڈنشا بھونچکے رہ گئے! بمبئی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سرایم سی چھاگلہ کے مطابق ’’سرڈنشا نے بہت ہتک محسوس کی اورکسی ایسی تجویزکی تائیدکرنے سے انکارکردیا جو ان کی نظر میں بے تکی اورعجیب تھی۔‘‘
ان دو افراد نے اس گفتگو کے بارے میں کسی سے کبھی بات نہیں کی۔ لیکن جناح کی بمبئی واپسی پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی اورآنے والے برسوں میں اس نے افسانوی شکل اختیارکرلی اور نصف صدی تک دہرائی جاتی رہی، یہاں تک کہ چھاگلہ کی یادیں Roses in December شائع ہوئی۔ رشتے سے انکار پر جناح اور رتی کی کوئی ہمت شکنی نہ ہوئی۔ نہ تو انہوں نے اپنے جذبات چھپانے کی کوشش کی اور نہ ہی ایک دوسرے سے نظریں بچانے کی، جس کی وجہ سے وہ سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
کتاب میں محمد علی جناح اور رتی ایک نئے منفرد رومانی جوڑے کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ رتی نے یہ محبت خاموشی سے بارہ، تیرہ سال کی عمر سے دل میں بسارکھی تھی۔ جناح ان کے والد سے صرف تین سال چھوٹے، لباس اور اطوار میں وکٹورین طرز کے حامل تھے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ جناح پر رتی کا کون سا جادو چل گیا۔ وہ کبھی خواتین کی محفل میں زیادہ کھلنے کے عادی نہیں رہے تھے اورجس ماحول میں پلے بڑھے تھے اس میں خاندان کے سوا، خواتین سے واسطہ کم ہی رہتا تھا۔ سرڈنشا نے جناح کے خلاف عدالت میں کیس بھی دائرکیا لیکن اس سے وہ کچھ حاصل نہ کرسکے۔ صرف یہ فرق پڑاکہ رتی نے اٹھارہ سال عمر ہونے کا خاموشی سے انتظار شروع کردیا۔
کتاب میں قائداعظم کی ابتدائی زندگی، معاشی مشکلات اور ان کے والد جناح بھائی کے انہیںگراہمز ٹریڈنگ کمپنی کے جنرل منیجر کی زیر سرپرستی تین سالہ تربیت کے لیے لندن بھیجنے کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں جن سے علم ہوتا ہے کہ قائد کن حالات میں لندن گئے اور انہوں نے وہاں کس قدر جدوجہد کے بعد کوئی مقام بنایا۔ لندن میں ان کی مصروفیات بھی خاصی دل چسپ اور معلومات افزا ہیں۔
رتی اور جناح کی شادی کی تفصیلات بھی بے حد دل چسپ ہیں۔ 20 اپریل 1918ء کو سرڈنشا پٹیٹ نے ناشتے کی میز پر اپنا پسندیدہ اخبار ’’بمبئی کرانیکل‘‘ کھولا اور صفحہ 8 پر ایک کالم ان کی نظر سے گزرا، اور وہ وہیں میز پر ڈھیر ہوگئے۔ آفیشل اور پرسنل کی سرخی کے ساتھ ایک مختصر خبر یوں تھی ’’معزز ایم اے جناح کی شادی مس رتی پٹیٹ، دختر معزز سر ڈنشا پٹیٹ اور لیڈی پٹیٹ سے گزشتہ شام انجام پائی۔‘‘
اخبار نے خبر غیر اہم انداز میں اندرونی صفحات پر دی تھی، کیوں کہ دولہا نہ صرف اخبارکے بورڈ آف ٹرسٹیز میں شامل تھا بلکہ شاید ان محتاط جملوں میں خبرکا خالق بھی وہی تھا۔ ایک دوسرے اخبار میں خبر اس اضافے کے ساتھ شائع ہوئی ’’رتن بائی، ممتاز پارسی بیرونیٹ، سر ڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی نے کل اسلام قبول کیا اور آج ان کی شادی معزز ایم اے جناح سے ہورہی ہے۔‘‘
جس چیز کو کوئی نہیں سمجھ سکا وہ یہ تھی کہ کس طرح رتی دو دن لگا تار گھر سے غائب ہوئیں، پہلے 18 اپریل کوجناح کے ہمراہ جامع مسجد جاکر مذہب تبدیل کرنے کے لیے، اور پھر اگلی شام اپنے والدین کی چوکس نظروں سے بچ کر پیدل ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ پر جناح کے بنگلے تک گئیں، جہاں جناح ایک مولوی اور درجن بھر مرد گواہوں کے ساتھ انتظار کررہے تھے، پھر رات بھر کے لیے غائب ہوگئیں اور ان کے اپنی خواب گاہ میں نہ ہونے کا کسی کو علم نہ ہوسکا، جب کہ والدین صبح اخبار کی خبر سے ان کی شادی سے آگاہ ہوئے۔ پٹیٹ ہال سے ان کے اس ڈرامائی فرار کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ رتی صرف دو ماہ قبل اٹھارہ سال کی ہوئی تھیں لیکن کس خاموشی سے انہوں نے یہ سب منصوبہ بندی کی کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی!
رتی نے ایک ابھرتے ہوئے لیڈر کو تسخیر کرلیا جس کی عمر کچھ بھی ہو، وہ ایک ایسا مرد تھا جو پُرکشش، طاقتور، باوقار، ایک مخصوص حسِ مزاح کا حامل تھا، جس نے ہر اُس عورت کی توجہ کو رد کیا جس نے اس کے قریب آنے کی کوشش کی۔ اب اتنے واضح انداز میں اس کا دیوانہ تھا جسے انہوں نے کسی سے چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اپنے چہر ے کو بھی تبدیل کرلیا، اسے خوش کرنے کے لیے اپنی بھاری مونچھوں کو صاف کرلیا، بالوںکو لمبا اور پیچھے کی طرف بنانے لگے، کیوں کہ رتی نے ان کے رشتے کو قبول کرنے کے لیے یہ شرط عائد کردی تھی۔ انہوں نے فوری تعمیل کی اور مونچھوں کو منڈوا دیا۔
شادی سے صرف دو روز قبل پوری شام ہوم رول ساتھیوں کے ساتھ مل کر برطانوی حکومت کے لیے جناح نے پیغام کا مسودہ تیار کیا۔ اس نوع کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے، سر ڈنشا یہ فرض کرنے میں اکیلے نہیں تھے کہ اب سیاست کی خاطر جناح کے سر سے رتی کا بھوت اتر چکا ہے۔ ان کی قریب ترین ساتھی ان کی بہن فاطمہ کو بھی کسی قسم کا شبہ نہیں ہوا کہ وہ کوئی خاص منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ لوگوں کے لیے وہ ایک مثالی جوڑا تھا، باوجود چوبیس سال کے فرق کے… حاضر جواب، ذہین اور فیشن ایبل۔
جناح نے رتی سے تمام تر محبت کے باوجود سیاست اور قوم کے لیے مسلسل کام کو ترجیح دی۔ رتی نے گاڑی چلانا نہیں سیکھی مگر پھر بھی ڈرائیور کے ساتھ جانے اور واپسی پر جناح کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر گھر آنے کا اپنا لطف تھا جس پر جناح کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ انہیں ہر جگہ ساتھ لے جاتے، تب بھی جب وہ دیگر وکلا کے ساتھ میٹنگ کے دوران بغیر اطلاع کے پہنچ جاتی تھیں۔ سی ایم چھاگلہ، جو سیاست اور قانون میں جناح کو اپنا گرو مانتا تھا، بیگم جناح کے اس نامناسب رویّے پر معترض تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ایک ایسے لباس میں، جو ماڈرن لوگوں کے لیے بھی کچھ زیادہ قابلِ قبول نہ تھا، وہ آکے جناح کی میز پر ٹانگیں لٹکا کربیٹھ گئیں اور کانفرنس ختم ہونے کا انتظارکرنے لگیں تاکہ دونوں ساتھ گھر جاسکیں۔ کوئی بھی شوہر اس رویّے پر برہم ہوجاتا، مگر (چھاگلہ کے مطابق) جناح نے کوئی ردِعمل نہیں دکھایا۔‘‘
’’مسٹر اور مسز جناح‘‘ سے یہ بھی واضح ہوا کہ قائداعظم نے اپنے عظیم قومی مقصد، سیاست اور جدوجہد پر ذاتی زندگی اور اپنی محبت بھی قربان کردی۔ وہ اپنی مصروفیات میں رتی جناح کو وقت نہ دے سکے اور ایک بڑے خاندان کی ناز و نعم میں پلی رتی تنہائی کا شکار ہوکر کئی جسمانی اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہوگئیں۔ وہ کئی بار اسپتال میں داخل ہوئیں اور کئی بار صحت یاب۔ وہ نشے کی بھی عادی بنیں اور خراب سوسائٹی میں بھی انہوں نے پناہ ڈھونڈی۔ سروجنی نائیڈو کے گھرکو اپنی پناہ گاہ بنایا اورکئی بار ان کے گھر سارا سارا دن گزار دیا۔ لیکن قائد کی قومی جدوجہد ان کے لیے وقت نہ نکال سکی۔ کانجی دوارکا داس لکھتے ہیں کہ ’’رتی اگرچہ ان سے اتنی چھوٹی تھیں، مگر وہ انہیں احساس دلائے بغیر ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔‘‘
جناح بھی رتی کی چھیڑ چھاڑ اور ضد پر اپنی محتاط عادات سے باہر نکلے۔ وہ اخبارات ترک کرکے گھڑ سواری اور لمبی ڈرائیو کی جانب راغب ہونے لگے۔ انہوں نے اپنے مزاج کے برخلاف کوشش ضرور کی۔ باغیچے میں رتی کی خواہش پر اپنی محبت کی نشانی ایک پودا بھی لگایا۔ مگر دوستوں کے مبارک باد کے پیغامات کا جواب دینے پر راضی نہ ہوئے۔ سیاسی مصروفیات میں جناح بچے کی پیدائش کو بھی نظرانداز کرکے بحری جہاز پر لندن روانہ ہوگئے لیکن وہ مشکل فیصلہ کرتے ہوئے رتی کو ساتھ لے گئے جس سے رتی بہت خوش ہوئیں۔
رتی، شوہرکی شدید مصروفیات کے دوران فرانس میں شدید بیمار ہوگئیں۔ جناح اُس وقت ڈبلن میں تھے، اطلاع ملنے پر فوری طور پر پیرس روانہ ہوگئے، اگرچہ انہیں شک گزرا کہ یہ انہیں بلوانے کا بہانہ تو نہیں! جناح نے ایک ماہ سے زیادہ چوبیس چوبیس گھنٹے رتی کی تیمار داری میں صرف کیے، حتیٰ کہ کھانا بھی وہی کھاتے جو رتی کھاتیں۔ اس سے بھی بڑھ کر قربانی ان کے مقصد کی تھی۔ ہندوستان میں ان کی کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ سروجنی، چھاگلہ اور موتی لال کی منت سماجت بھی جناح کو رتی کو نازک حالت میں چھوڑ کر پیرس سے لوٹنے پر قائل نہ کرسکی، لیکن رتی اچانک اپنی ماں کے ساتھ جناح کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ جہاز میں سوار ہوتے ہی رتی نے جناح کو خط تحریر کیا ’’اگر میں تم سے ذرا سی بھی کم محبت کرتی، تو ہوسکتا ہے میں تمہارے ساتھ رہ جاتی۔ میں نے پیرس میں تمہیں خط لکھا تھا روانگی کے بعد ارسال کرنے کے لیے۔ مگر میں نے اسے تلف کرکے دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو دل کی گہرائیوں سے قلم بند کررہی ہوں، جیسے میں نے تم سے محبت کی ہے وہ بہت کم مردوں کے حصے میں آتی ہے۔ میں التجا کرتی ہوں ہمارے جس سانحے کی ابتدا محبت سے ہوئی تھی، اس کا اختتام بھی محبت سے ہو۔ خدا حافظ۔ رتی‘‘
20 فروری 1929ء کو اپنی 29 ویں سالگرہ کے دن رتی جناح وفات پا گئیں۔ کوئی سرکاری طبی ریکارڈ موجود نہیں جس میں موت کا سبب بیان کیا گیا ہو۔ مگر نصف صدی بعدکانجی دوارکا داس نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ’’رتی نے خود اپنی جان نیندکی گولیاں نگل کر لی تھی جس کے لیے انہوں نے اپنی سالگرہ کا دن منتخب کیا۔‘‘
قائداعظم محمد علی جناح نے قومی جدوجہد کی خاطر اپنی بیماری کو چھپانے کے علاوہ اپنی محبت کی قربانی اور بیٹی سے دوری بھی برداشت کی۔ ’’مسٹر اور مسز جناح‘‘ تقسیم ہند اور اس کے لیے قائداعظم کی پیہم کاوشوں اور کئی نئے پہلوئوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ ہر اُس شخص کو کرنا چاہیے جو قیام پاکستان کی تاریخ میں دل چسپی رکھتا ہے۔

حصہ